سردی، لکڑی ، بجلی اور نااہل حکمران۔۔۔

گلگت بلتستان میں سال کے تین ماہ سخت سردی پڑتی ہے. اور یہاں کے عوام سال کے نو ماہ ان تین مہینوں کی تیاریوں اور انتظامات کیلیے ذیادہ تک وقت صرف کرتے ہیں جن میں انسانوں کی ضرورت سے لیکر مال مویشی کی ضروریات کے مطابق اشیاء شامل ہوتے ہیں۔سردیوں کے آمد سے جہاں نظام زندگی مخدوش ہوکر رہ جاتی ہے وہیں روزگار کے مواقع بھی مکمل طور پر ٹھپ ہوجاتی ہے.
یوں گلگت بلتستان میں سردیوں کا آنا معاشی طور پر غیر مستحکم غریب عوام کیلئے قیامت سے کم نہیں ہوتے. البتہ سرکاری ملازمین کا سردی کے موسم میں بھی مزے ہوتے ہیں۔سردیوں کے موسم میں جلانے کیلیے ایندھن گلگت بلتستان کا سنگین مسلہ ہے کیونکہ آج سے کئی سال پہلے تک شہری علاقوں کے علاوہ بالائی علاقہ جات کے عوام جنگلوں سے لکڑی کا خصوصی طور پر انتظام کرتے تھے لیکن بدقسمتی یہ رحجان اب رپورٹس کے مطابق بلکل ختم ہوچکی ہے اور لوگ سردیوں کیلئے جنگلات کے بجائے مارکیٹ سے لکڑی خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ لکڑی کی منڈی اس وقت ایک فائدہ مند صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہے اور ان منڈیوں میں ریٹ کے چیک اینڈ بیلنس کا مناسب انتظام نہیں بس موسم کے حساب سے بھی اسٹاک کی موجودگی کے باوجود قیمتوں میں اضافہ معمول کی بات ہے.یہی وجہ ہے کہ ایک عام آدمی کیلئے لکڑی خریدنا بھی اتنا آسان کام نہیں۔دوسری طرف اس وقت پوری دنیا کی طرح گلگت بلتستان میں ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے گلیشئر پگھلنے کے عمل میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے لیکن ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کیلئے حکومت کے پاس کوئی ٹھوس انتظام نہیں. یہی وجہ ہے کہ ایک اندازے کے مطابق پورے خطے میں روزانہ کی بنیاد پر کئی ہزار من لکڑی ایندھن کے طور پر جلاتے ہیں اور اُس سے اخراج دھواں جہاں انسانی صحت کیلئے مضر ہے وہیں ماحولیاتی آلودگی میں مسلسل اضافے کا سبب بن رہا ہے لیکن کوئی توجہ دینے والا نہیں۔
اگر حکومت گلگت بلتستان میں ہائدڑل بجلی گھروں کو کرپشن سے پاک کرکے تعمیر کرتے ہیں تو جہاں اس وقت جو لکڑی کے مد میں روزانہ لاکھوں روپیہ جلایا جارہا ہے وہی بجلی کا ہیٹر استعمال کرکے سرکاری خزانے میں جمع ہونے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں بہترین کردار ادا کرسکتا ہے۔اگر حکومت گلگت بلتستان بھر کے بجلی گھروں کی تعمیرات سے لیکر سپلائی تک کے معاملات کو شفاف بناتے ہیں تو اُمید یے کہ گلگت بلتستان کے سالانہ بجٹ کا آدھا رقم بجلی کے بل کی مد میں عوام سے وصول ہوسکتا ہے. جو صرف سردیوں میں ایندھن کے طور جلائے جاتے ہیں۔
آخر میں یہی عرض کروں کا یہ اس طرح کے کام کرنے کیلیے عزم چاہئے عوامی خدمت اور قومی بچت کا بے لوث جذبہ چاہئے لیکن گلگت بلتستان دنیا کا واحد آخری کالونی ہے جہاں حاکمیت صرف عوام کو حکم جتانے کو کہتے ہیں یہاں سرکاری محکموں کے چپراسی سے لیکر وزیر اعلیٰ تک کرپشن کے ٹیکنیکل طریقے تلاش کرتے ہیں. میڈیا جس نے اس طرح کے معاملات کی نشاندہی کرنا تھا پیٹ کے پیچھے ہمیشہ محکمہ اطلاعات کے سیڑھیوں پر سجدہ ریز نظر آتا ہے۔
ورنہ گلگت بلتستان میں کس چیز کی کمی ہے جو آج ہم گندم سبسڈی کے نام پر فنا ہونے کیلیے تیار نظر آتا ہے۔یہ تو تھی دل کی بڑاس لیکن بڑاس کا ساتھ رقص بھی سکون کا سبب بنتا ہے۔
تحریر: شیر علی انجم

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc