گلگت بلتستان کے حوالے سےآذاد کشمیر قیادت کا خواب اور زمینی حقائق۔

محترم قارئین آج سے شائد ایک سال پہلے کی بات ہے کہ آذاد کشمیر اسمبلی نے گلگت بلتستان کو بھی آذاد کشمیر طرز کے سیاسی نظام دینے کیلئے متفقہ طور پر قرداد منظور کی۔اس قراداد کو گلگت بلتستان کے عوام میں بڑی پذیرائی ملی اور عوام جو پہلے کشمیری قیادت کو حقوق گلگت بلتستان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے، اٌنہیں یقین ہوگیا کہ ہمارا معاملہ دراصل کہیں اور لٹکا ہوا ہے۔یوں ایک سال گزر گیا عوام یہی سوچ رہے تھے کہ آذاد کشمیر اسمبلی اسلام آباد سرکار کو اُس قراداد کے بارے میں شائد بھی یاد دہانی کرائے اور اسلام آباد کو حقوق گلگت بلتستان کے حوالے سے منافقانہ پالیسی ترک کرنے پر مجبور کرے۔لیکن کل کشمیری قیادت نے پھر سے آل پارٹیز کانفرنس کی بیٹھک لگا دی جس میں گلگت بلتستان کے کسی سٹیک ہولڈر کو مدعو نہیں کیا لیکن اُنہوںنے اسلام آباد سے مطالبہ کیا کہ آذاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو ملا کر مشترکہ ریاستی اسمبلی تشکیل دیا جائے۔
پس یہاں یہ بات واضح ہوگیا کہ جس طرح اسلام آباد سرکار گلگت بلتستان کی تہتر سالہ محرومیوں کو نان ایشو سمجھ کر موسم کی تبدیلیوں کے حساب سے نعرے متعارف کراتے ہیں بلکل اسی طرح آذاد کشمیر قیادت بھی متحدہ ریاست کا فریبی نعرہ لگا کر فقط کرسی مضبوط کرتے ہیں اور مراعات مفادات میں اضافہ کرواتے ہیں۔یہ بات مزید واضح ہوگیا کہ جس طرح گلگت بلتستان اسمبلی کو تہتر سالہ سیاسی محرومیاں نان ایشو ہے اور فقط اپنے مراعات منوانے کیلئے اسلام آباد کو قوم پرستوں کے خوف میں مبتلا کرکے نوکری حلال کرتے ہیں بلکہ اسی طرح آذاد کشمیر قیادت بھی گلگت بلتستان کے عوام کو آج بھی اپنا غلام سمجھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جس طرح انہوں نے 28 اپریل 1949 کو کراچی سرکار کے ساتھ ملکر گلگت بلتستان کے سٹیک ہولڈر سے بغیر کسی مشاورت کے معاہدہ کراچی کرکے ایک شق کے ساتھ باندھ دیا اور آج بھی اپنے فیصلے گلگت بلتستان پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔ اُنہیں شائد زمینی حقائق کا ادراک نہیں، اُنہیں شائد علم نہیں کہ معاہدہ کراچی کے ایک اُس شق کو آج گلگت بلتستان کی نئی نسل غلامی کا طوق سمجھتے ہیں اور آج ہماری نئی نسل آپ سے برابری کے بنیاد پر حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔
بدقسمتی کی بات ہے کہ آذاد کشمیر قیادت آج بھی گلگت بلتستان کے معروضی حالات سے بلکل ہی نابلند نظر آتا ہے اُنہیں معلوم ہی نہیں کہ ہمارے وطن دوست لیڈروں اور اہل قلم نے اپنی زندگیوں کو خطرات میں ڈال کر نئی نسل تک حقائق سے مکمّل طور اگاہ کرنے کیلئے طویل جہدوجہد کی ہے جو آج معاشرے میں پھل پھول رہا ہے۔ آج گلگت بلتستان میں اندرونی طور کر جو لاوا پک رہا ہے وہ کل کو طوفان بن کر بہت سے لوگوں کے آرمانوں کو بہا کر لے جاسکتا ہے کیونکہ گلگت بلتستان کی نئی نسل نے اب فریب اور جھوٹ کے درمیان میں پھنسے اپنے مسائل کی نشاندہی کر لی ہے لیکن بدقسمتی سے اس بات کا نہ اسلام آباد کو ادارک ہے نہہی آذاد کشمیر قیادت اس بات سے باخبر نظر آتا ہے۔
آزاد کشمیر قیادت کو شائد معلوم نہیں کہ چار ہزار مربع میل خطے کو پٹھانوں نے آذاد کرکے آپکو دی تھی جبکہ ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے خطے ہندوستان کی جولی میں جانے سے بچایا تھا یہ الگ بات ہے کہ ہمارا لداخ پھر بھی ہندوستان کے قبضے میں چلا گیا۔آذاد کشمیر قیادت کو شائد اس بات کا بھی علم نہیں کہ جس اقوام متحدہ کے چارٹررڈ کی بنیاد پر آپکو اپنا آئین اور پرچم ملا ہوا ہے اُسی قراداد میں وہی حکم گلگت بلتستان کیلئے بھی شامل ہیں لیکن آپ لوگوں نے اُس وقت معاہدہ کراچی کیلئے سہولت کاری کا کردار ادا کرکے ہمارا خطہ آج تہتر سال بعد بھی بدترین سیاسی، معاشی استحصالی کے شکار ہیں۔لہذا ہم سمجھتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے حقیقی سٹیک ہولڈر کی شمولیت کے بغیر گلگت بلتستان والوں کو ملا کر مشترکہ اسمبلی تشکیل دینے کا مطالبہ دراصل معاہدہ کراچی 2020 ورژن ہے۔
ہمارا سوال یہ بھی ہے کہ اقوام متحدہ کے جس قراداد کی بنیاد پر آذاد کشمیر کا چار ہزار مربع میل مکمل ریاستی نظام کو انجوائے کر رہا ہے وہی گلگت بلتستان کے لئے کیوں نہیں؟کشمیری قیادت شائد آج بھی ہم گلگت بلتستان والوں کو پاگل اور بیوقف سمجھتے ہیں. یہ انکی بھول ہے ہم کسی صورت مشترکہ اسمبلی کے حامی نہیں ہماری اپنی الگ جداگانہ حیثیت ریاست جموں و کشمیر کی اہم اکائی کے طور پر اقوام متحدہ کے چارٹررڈ 13 آگست 1948 میں واضح ہیں۔
تحریر:شیر علی انجم

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc