ایران کی غلطی اور امریکہ کی غلطیاں

ایران کی جانب سے یوکرائنی مسافر بردار جہاز کو ریڈ زون میں داخل ہونے کے بعد ہٹ کرنے کا اعتراف اور اسے انسانی غلطی قراردینے کے بعد ذمہ داروں کو سزادینے کی اعلان کے بعد بعض لوگوں کے منہ جو برسوں سے بند تھے کھل گئے ہیں۔
ان لوگوں سے عرض ہے کہ کبھی کبھی یا بعض موارد میں میں سچ بولنا حق گوئی نہیں کہلاتا حق گوئی کا مطلب ہے ہمیشہ سچ بولنا۔۔۔
اگر انسانیت کی خاطر بولنے کا جذبہ ہے۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا شوق ہیں غلطیوں کی نشاندہی کرنے کا اگرولولہ ہے تو ہمیشہ اپنی ضمیر کو زندہ رکھیں زبان کو قوت گویائی دے کر رکھیں چاہے ظالم کوئی بھی ہو۔ مظلوم جو بھی ہو۔۔۔۔حق جسکا بھی ہو۔ سچ جو بھی ہو تسلسل کے ساتھ ان صفات کے حامل رہیں۔
آئیں ذرا امریکہ کی جنگی غلطیوں اور بربریت کا مختصر جائزہ لیں۔۔۔
3 جولائی 1988 کو امریکہ نے ایک ایرانی مسافر بردار طیارے کو بغیر کسی جنگی حالات کے ہٹ کیا جسکے نتیجے میں 290 کے قریب مسافر اور جہاز کا عملہ شھید ہوا۔
نتیجتا امریکہ نے ہٹ کرنے والے نیوی کے اہلکاروں کو انعامات اور اعلی عہدوں سے نوازا ۔۔۔
پھر امریکہ نے بھت سے لوگوں کے منہ سی لیا تب سے آج تک اقوام متحدہ سمیت بھت سے لوگ خاموش تھے ۔۔۔
اسکے بعد چین سمیت کئی ممالک کے کئی بحری جہازوں کو ہٹ کیا ۔۔۔۔۔
ایک اسامہ کی خاطر لاکھوں عام افغانیوں کے جسموں کے ٹکڑے کردیے اور پورے افغانستان کو اجاڑ دیا۔
عراق میں ہزاروں عوامی مقامات کو بمباری کا نشانہ بنا کر اب تک کئی لاکھ عراقیوں کو خاک و خوں میں غلطاں کرنے کے بعد پورے ملک کو بنجر و کھنڈر بنادیا.
داعش کے ذریعے شام میں لاکھوں انسانوں کا قتل عام کروایا۔۔۔
فضائی بمباری سے اب تک ہسپتال اسکول مساجد سمیت شادی کی تقریبات پہ خطرناک بم برسائے۔
قندوز میں مدرسے کے حفاظ کرام کے پروگرام پہ حملہ کرکے سوسے ذائد ننھے حفاظ کو خون میں غلطاں کردیا ۔۔۔
یمن میں اب تک عوامی مقامات وتقریبات پہ بمباری سے ہزاروں یمنی شھید و زخمی ہوگئے۔ معصوم بچے معذور ہوگئے۔۔۔
عراق افغانستان اور پاکستان میں کئی فوجیوں کو قتل کرنے کی بعد فرینڈلی فائر کہہ کر گزر گیا۔۔
پاکستان میں سینکڑوں ڈرون حملوں کے ذریعے تیس ہزار سے ذائد عام پاکستانیوں کو قتل کیا۔
ایبٹ آباد میں خفیہ آپریشن کے ذریعے کئی گھنٹے تک نہ صرف کاروائی کرتے رہے بعد میں مرنے والوں کی میتیں بھی لے جاکر سمندر برد کردیا۔۔
2011 میں سلالہ چیک پوسٹ پہ پاکستانی افواج پہ حملہ کرکے بیس سے ذائد ہمارے نوجوانوں کو شھید کرنے کے بعد ایک لفظ سوری کہنے میں ایک ماہ سے ذیادہ کا لگ بھگ عرصہ لگا۔۔۔
مانتا ہوں امریکہ کی غلطیاں ایرانی غلطی کیلیے کوئی عقلی جواز بھی نہیں مگر بات یہ ہے کہ۔۔۔
ایران اور حسن نصراللہ کی جانب سے امریکہ کی فقط آرمی کو ہٹ کرنے کی اعلان کے بعد صدربش نے عوامی مقامات بلخصوص مقدس مقامات کو ٹارگٹ کرنے کا اعلان تک کردیا تھا۔۔۔
جرنل قاسم سلیمانی عراقی دعوت پہ سیاسی ایلچی کے طور پہ ایرانی پیغام لے کر گئے تھے تاکہ ایران و سعودیہ کے درمیان دوریوں کو کم کیا جاسکے اس مہمان کو انکے اپنے آينی جرنل ابہدی المہندس کے ساتھ بغداد أیرپورٹ پہ نشانہ بنایاگیا۔۔۔
مگر ان تمام مواقع پر بھت سے لوگوں کا منہ بند رہا۔۔۔
اب ایک غلطی حالت جنگ میں ایران سے سرزد ہونے پر انکے منہ تو کھل گئے ہیں مگر انکی آنکھیں اور دماغ اب بھی بند ہیں۔۔۔اب ایسے لوگوں کے منہ امریکہ کی دوبارہ کسی غلطی تک کھلے رہینگے۔۔۔
لیکن ہمیں امید ہیں کہ ایران کی اسلامی حکومت نے جس طرح اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے اسی طرح ذمہ داروں یا سازشی عناصر کو عبرتناک سزادینے کے ساتھ ساتھ جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو تاوان یا دیہ بھی ادا کریگا۔
خدا ان تمام لواحقین کو صبرجمیل عطا کرے۔ ہم یوکرائن اور مرنے والوں کے لواحقین کی دکھ میں برابرکے شریک ہیں۔۔ اللہ تعالی ہمیں معاشرے میں ہمیشہ حق بولنے اور بولتے رہنے ظالم سے نفرت کرنے اور کرتے رہنے مظلومین کا ساتھ دینے اور دیتے رہنے کی توفیق عطاکرے۔ آمین

تحریر: محمد بشیر دولتی

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc