خالصہ سرکار غیر آئینی اور غیر قانونی اصطلاح

قسط: پنجم (گزشتہ سے پیوستہ

۔پہلے ذکر ہوچکا کہ ایک سکھ ریاست کو خالصہ سرکار کہتے تھے جیسے آج بھی ہندستان میں خالصہ سرکار کی حکومت دوبارھ لانے کے لئے خالصتان تحریک چل رہے ہیں ۔ ریاست پاکستان نے سکھ ریاست کی قانون کو ہی ریاست پاکستان کا قانون بنا کر ان زمینوں کو چھین رہا ھے جوکہ غیر آئینی اور غیر قانونی ھے ۔ گلگت بلتستان چونکہ ریاست جموں کشمیر کا حصہ ھے ریاست جموں کشمیر اور ریاست پاکستان میں آسمان زمین کا فرق ھے ۔ ریاست جموں کشمیر ایک منارکی اسٹیٹ تھی جبکہ ریاست پاکستان ایک ڈیموکریٹک اسٹیٹ ھے ۔ منارکی میں جتنے زمین ہوتی ھے وھ بادشاہ کی ہوتی ھے اور وھ جسے چاہے دے سکتا ھے اسی لئے گلگت بلتستان میں ریاست جموں کشمیر کے قانون کے مطابق زیادھ تر زمینیں خالصہ سرکار ہیں اور کم زمینیں ملکیتی ہیں ۔لیکن ریاست پاکستان کی ایڈ منسٹریشن میں آنے کے بعد ریاست پاکستان آج جو زمینیں چھین رھے ہیں وھ آزاد جموں کشمیر کے قانون کے مطابق نہیں بلکہ ریاست پاکستان کی قانون کے مطابق چھین رھے ہیں ۔ آج گلگت بلتستان میں ریاست جموں کشمیر کا قانون نہیں چل رہا۔ بلکہ ریاست پاکستان کا قانون چل رہا ھے ۔ اسی طرح گلگت بلتستان میں جو ریوینیو ڈیپارٹمنٹ ھے وھ ریاست جموں کشمیر کے قانون کے مطابق نہی چل رھے بلکہ ریاست پاکستان کے قانون کے مطابق چل رھے ہیں ہم اسے اس لئے غیر آئینی اور غیر قانونی کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین میں جو ریاست کی زمین ھے اسے اسٹیٹ لینڈ کہا جاتا ھے ریاست جموں کشمیر میں جو اسٹیٹ لینڈ ہوتا ھے اسے خالصہ سرکار کہا جاتا ھے لہذا آپ خالصہ سرکار کو براھ راست اسٹیٹ لینڈ ڈکلئیر نہیں کر سکتے۔ کیونکہ وھ ایک منارکی اسٹیٹ تھی اور یہ ایک ڈیموکریٹک اسٹیٹ ھے منارکی اسٹیٹ میں زمین کے قوانین کچھ اور ہوتے ہیں جبکہ ڈیمو کریٹک اسٹیٹ میں زمین کے قوانین کچھ اور ہوتے ہیں۔ منارکی میں لینڈ سب سے پہلے بادشاہ کی ہوتی ھے جبکہ ڈیموکریسی میں جو لینڈ ہوتی ھے لوگوں کی ہوتی ھے ڈیموکریسی میں ریاست کو زمین کی ضرورت ہوتی ھے تو وھ لوگوں سے خریدتی ھے ہماری بد قسمتی یہ ھے کہ گلگت بلتستان میں جب بھی زمین کی تعریف کرنی ہوتی ھے تو ریاست جموں کشمیر کے قانون کو لایا جاتا ھے اور جب ہم سے زمین چھیننے کا پروگرام بنتا ھے تو ریاست پاکستان کے قانون کے تحت چھینا جاتا ھے یہ سراسر زیادتی اور غیر قانونی ھے اسے اردو محاورے کے اصطلاح میں آدھا تتیر آدھا بٹیر کہا جاتا ھے۔ یہ محاورھ اب زیادھ عرصہ نہیں چلنے والی ھے۔

گزشتہ 73 سالوں سے گلگت بلتستان میں ایسے ایسے غلط اصطلاح استعمال کرکے یہاں کے عوام کو کنفیوژن میں مبتلا کرکے رکھا تاکہ یہاں کے عوام پر حکومت کرکے ان کے وسائیل پر قبضہ مضبوط کرے

انہیں مذموم عزائیم کی تکمیل کے لئے ہمیں 73 سال سے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کے رکھا۔ اب وقت آچکا ھے کہ ہمیں مضبوط فیصلے کرنے ہونگے تاکہ اپنے حقوق کا دفاع کرسکے ۔ ریاست پاکستان گلگت بلتستان میں غلط اصطلاح استعمال کرکے یہاں کے عوام کی حقوق پر ڈالنا چاہتا ھے ۔ ریاست پاکستان کی قوانین کے مطابق زمین عوام کی ملکیت ھے کیونکہ ڈیموکریٹک اسٹیٹ میں زمین عوام کی ہوتی ھے ریاست کی نہیں ہوتی ریاست پیسے دیکر زمین عوام سے خریدتے ہیں ۔جس ریوینیو ایکٹ کے تحت یہ سب کچھ کر رہا ھے اس ایکٹ میں خالصہ سرکار کا ذکر ہی نہیں۔ خالصہ سرکار حکومت کا ہیڈ کوارٹر لاہور میں ہوتا تھا وہاں کوئی خالصہ سرکار نہیں تو گلگت بلتستان میں کون سا خالصہ سرکار آگیا سکھوں نے اپنے دور میں اپنی ضرورت کے تحت ایک اصطلاح رکھ لیا تھا۔(جاری ھے)

تحریر: احمد چو شگری مرکزی جنرل سکریٹری انجمن

تاجران سکردو۔

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc