اُف یہ تماشے کا تماشا ہونا۔۔

مملکت خداداد پاکستان وجود میں آکے 73 سال گزر گئے ان 73 سالوں میں ریاست پاکستان کے بابوں نے گلگت بلتستان کو عمومی طورپر جبکہ بلتستان کے عوام کو خصوصی طورپر مختلف ادوار میں جعلی اور غیر قانونی اصطلاح کے ذریعے بے وقوف بناکے رکھا ۔ شروع میں خالصہ سرکار کے نام سے ایک جعلی اور غیر آئینی اصطلاح کے ذریعے اس قوم کو اتنا بے وقوف بنایا کہ لوگوں نے اپنے ملکیتی اراضی سے بھی بے دخل ہونے کو اپنا قانونی فرض سمجھا یوں لوگ اپنے آبا واجداد کی جانب سے مالیہ اور لگان ادا کرنے والے زمینوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ جب میاں نواز شریف کی آخری حکومت آئی تو ریاست اور ریاستی اداروں نے ملکر ملک میں دھشت کردی کے خاتمے کے لئیے قانون میں ایک شق کا اضافہ کیا جسے دھشت گردی ایکٹ کہا گیا ۔ جس طرح ریاستی بابوں نے خالصہ سرکار کی اصطلاح کو یہاں غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر نافذ کیا اسی طرح دھشت گردی کے اس دفعے کو بھی یہاں غیر آئینی اور غیر قانونی طورپر نافذ کیا جارہا ھے ۔گلگت میں ایک اعلی ریاستی آفیسر کو زدوکوب کیا گیا ان کو گالیاں دی گئیں ساتھ میں ان کو سنگین دھمکیاں بھی دی گئی یہ سب کچھ اس آفیسر کے دفتر میں گھس کے کیا گیا چونکہ وھ آفیسر بلتی تھا اس لئے ان کو ذدو کوب کرنے والوں کے خلاف کوئی دھشت گردی کا دفعہ نہیں لگا ۔ اس کے بر خلاف اس بد نام زمانہ دفعے کو بلتستان میں غیر قانونی اور غیر آئینی طورپر استعمال ہورہا ھے۔ یہاں بجلی،پانی اور دیگر عوامی حقوق کے لئے آواز اٹھا نے والوں پر بھی دھشت گردی کا دفعہ لگایاجاتا ھے ۔ سکردو شہر میں حالیہ دنوں میں شہر کے چند نوجوانوں اور اسسٹنٹ کمشنر کے درمیان جو تنازعہ ہوا اس میں نوجوانوں کو قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہئیے تھا لیکن ایسے حادثات میں عوام جذباتی ہوتے ہیں ان کی زندگی کی جمع پونجی خس و خاشاک ہوچکا ہوتا ھے ان کے آنکھوں میں تارے آچکے ہوتے ہیں ایسے حلات میں اس طرح کے واقعات کا رونما ہونا ایک فطری عمل ہوتا ھے ۔ اسسٹنٹ کمشنر سکردو ایک سنجیدھ اور اعلی تعلیم یافتہ آفیسر ھے ۔اسسٹنٹ کمشنر اور کمشنر بلتستان سے یہ توقع نہیں تھا کہ یہ دونوں بھی اپنے پیش رو نا اھل آفیسروں کی طرح اس طرح کی غلطیاں کرینگے۔ ایسے معاملات باہمی افہام و تفہیم سے حل کئے جاتے ہیں اس پر بھی دھشت گردی کا دفعہ لگانا بلتستان کے عوام کے لئے لمحہ فکریہ ھے ہم کب تک غیر آئینی اور غیر قانونی اصطلاح کا شکار ہوتے رہینگے۔ بحر حال ہم امید رکھتے ہیں اسسٹنٹ کمشنر سکردو اور کمشنر بلتستان اس معاملے کو طول دے کے حالات کو مزید خراب کرنے کے بجائے ذاتی دلچسپی لیکر اس معاملے کو سلجھانے میں اہم کردار ادا کرینگے۔
تحریر: احمد چو شگری مرکزی جنرل سکریٹری انجمن تاجران سکردو

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc