بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ذمہ دار کون ۔؟

جنوبی افریقہ کے سابق صدر اور مشہور انگلابی رہنما نلسن منڈیلا نے یہ بات کی تھی ۔ہمارے بچے چٹان کے مانیند ہے جس کے اوپر ہماری مستقبل کی عمارت کھڑی ہے ۔ہماری قوم کے اہم اثاثے ہے ۔یہ ہمارے قوم کے مہمار ہے اور یہ بچے ہمارے قوم کے اہم سرمایہ ہے جو اپنے بچوں کی اچھی نشوونما کرتا ہے وہ اپنے قوم کے بچوں اور لوگوں کی اچھی نشوونما کرتا ہے ۔خیر یہ بات بہت اہم اور دلچسب ہے۔حققتَا بچے کسی قوم کے اہم اثاثے ہوتے ہے۔اسطرح پاکستان مہیں بھی بچوں کو اہک اہم مقام حاصل ہے اور ان بچوں کو بہت اولين مقام پر رکھنا کی تلقين کی ہے ۔اور دنیا کے ہر مذاہب مہیں بچوں کے حقوق کی تحفظ کی بات کی ہے ۔جب ہم پاکستان کے نظام کے اوپر نگاہ جماتے ہے ۔تو یہ پاکستان کے ہر بچے کی زندگی کے اوپر نظر ڈاے تو ہماری ظاہری آنکھ بند ہو جاتی ہے اور ہمارے خیالات لفظ انسانیت کی پہلو پر آ کر پھنس جاتی ہے ۔جب ہمارے بچوں کے مستقبل اور اُن کے زندگیوں کے ساتھ برُا ہوا دیکتھے ہے ۔جب ہمارے بچے ہنستے کَھلتے ہوے سکولوں کی طرف نکلتے ہےتو ان کےبارے مہیں پتہ ہی نہیں کی وہ خیرتی سے گھر اتے ہے بھی نہیں ۔ یہ نہہیں بلکی زیاتی کر نے واے آدم خور اور درنندے ان کے جسم کو نچوڑنے کے انتظار مہیں ہوتے ہے اور اس وقت اخبارات اور سوشل میڈیا مہں جنسی زیادتی کے واقعات بھرے رہتے ہے۔پاکستان جو کی اہک اسلامی ملک ہے ۔پاکستان کے دستور مہیں بچوں اور شہریوں کے حقوق کے تہفظ کے قوانين بھی موجود ہے لکین حکومت وقت ان قواننن کو عملی جامعہ پہننہے مہیں نا کام رہی ہے ۔پاکستان کی اعلا عدليہ، وفاقی حکومت مسلسل مشکالات کا شکار رہی ہے ان جسے واقعات کو دیکھ کر پاکستان کے چھوٹے بچوں کے اندار بھی خوف و بربرریت نے جگہ لی ہے ۔ اور پاکستان کا ہر بچہ بچہ اپنے والدہن سے یہ سوال دریافت کر رہا ہے کی کیا ہم اس ملک مہیں محفوظ ہے ؟ لکین میری نظریے کے مطابق ہمارے بچے محفوظ نہہیں ہے ۔اگر ہمارے بچے محفوظ ہوتےتو شب و روز ہمارے بچوں کے ساتھ زیادتی کر کے اُن کوقتل نہ کر تے ، اُن کے جسموں مہیں تشدد کے نشانات نہ ہوتے ۔ اگر وہ محفوظ ہوتے تو ان کے ساتھ جنسی ذیاتی کر کے ان بچوں کے لاشوں کو جنگلوں، گلیوں اور سڑکوں مہیں نہہیں پیھنکتے اور اگر محفوظ ہوتے پاکستان مہیں بچوں کے والدین رو رو کر ارباب اقتدار سے اپنے بچوں کی زندگيوں کی بھک نہ مانکھتے ۔ان جسے واقعات کے اوپر حکومت ،عدليہ اورقانون نافذ کرنے ولے ادارے اقدامات کر نے مہیں نا کام ہوتے ہوے نظر آتے ہے ۔ ساحل کے نام سے اہک[NGo] جو کی پاکستان مہیں وقوع پذیر ہونے واے معاشرتی مسائل پر کام کرتا ہے ۔ گزشتہ دو سالوں میس اُن کے اہک پش کردہ research کے مطابق سال 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان مہیں2,332 بچوں کو جنسی ذیادتی کر نے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ان مہیں سے 1,332واقعات رپورٹ ہوے ۔ان مہیں (%56 }چھوٹی بچیاں اور (% 44) بچے شامل ہے ۔اور جب ہم تعداد کی بات کر تے ہے تو بچیوں کی تعداد زیادہ ہے ۔اگر صوبائی لحاظ پر دیکھتے ہے تو ۔ پجاب سے (%25)،اسلام آباد سے(%3)، خیبر پختون خواہ سے (%2) اور بلوچستان سے (% 3) ،آزاد کشمير سے (21) واقعات اور گلگت بلتستان سے (3)واقعات رپورت ہوے ۔پاکستان مہیں ٹاپ نمبر سندھد کا ہے جہاں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات عروج پر ہے ۔ جب کی سال 2019 مہیں dawn news کے اہک شایع کردہ رپورٹ کے مطابق( 3,307) واقعات رپورت ہوے جن مہیں (39 )واقعات رپورت ہوے،(56)واقعات کسی بھی ادارے سے غیر الحاق شدہ ہےاور (430) واقعات اخباروں مہیں پرھنے کو ملے ۔جب ہم ان واقعات کو صوبائی سطح پر دیکتھے ہے تو پچاب مہیں اس سال (658) واقعات وقوع پذیر ہوے ، سندھ مہیں (458) واقعات ہوے، درُلحکومت اسلام آباد مہہیں (90)واقعات ہوے، خیبر پختون خواہ مہیں ( 51) واقعات رپورت ہوے، بلوچستان سے (32)واقعات رپوت ہوے ، کشمیر سے (18) اور گلگت بلتستان سے (3) واقعات رپورت ہوے ۔اور جب اس (NGO) کی رپورت کو دیکتھے ہے تو (45) واقعات سکولوں مہیں وقوع پذیر ہوے اور جب کہ (47)واقعات مدرسُوں سے رپورت ہوے ۔یہ سن کر ہمں شرُم آنی چاہیے کی جہاں ہمارے بچے سکولوں مہیں پڑھنے جاتے ہے ان کو اچھی درس دینے کی بجایہے اُن کے ساتھ جنسی زیادتی کر کے قتل کیا جاتا ہے ۔اب دوسری بات یہ آ جاتی ہے کہ ہماریے مدرسوں کی جہاں والدین اپنے بچوں کو قران پاک کی تعلم حاصل کرنے کےلیہے بجھتے ہے وہاں کچھ درنیندے قسم کے جلی مولوی ان بچوں کو جنسی زیاتی کا نشانہ بناتے ہے۔تا کی یہ عالم انسانیت کے خلا ف اور ہر مذہب اس گندے کام کی اجازت ہر گز نہں دیتاہے ۔اگر کوہی بندہ اس ملک مہہیں کسی مولوی کے خلاف بات کرتاہے تو اُس کے خلاف سڑکوں پر آتے ہے جب کوہی بچے کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو ہم اس کو خاموش تماشاہی کی طرح دیکتھے ہے اور ہمں بھی آواز بلنید کر نا ہوگا۔اور یہ واقعات ہر دن پمارے بچوں کے ساتھ پیش آتے ہے ۔ہر فرد واحد کو سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان مہیں بچے صنعتوں مہہیں کام کر تےہے اپنے گھر کے اخراجات اور اپنے والدین کے بنیادی ضروریات کو پوری کرنے کے لیے گھر سے نکلتے ہے اور یہ بچے جنسی زیاتی کا نشانہ بنتے ہے ۔جب کی ریاست مدینہ جو کی عمران خان صاحب کا نظریہ ہے ۔ریاست مدینہ اہک بڑی فلاحی ریاست تھی جہہاں جراہیم کا کوہی تصور ہی نہیں تھا ۔لکن جس ریاست کی بات عمران خان کر رہے ہے وہ ریاست مدینہ نہں ۔ریاست مدینہ مہیں بچوں کے ساتھ ایسے واقعات نہیں ہوتے ہے ۔اور ان جسے بڑے واقعات کے اُپر سرکار کی سرپرستی نہیں ہے اور بلکی عدلیہ بھی ان جسے اہم معاشرتی مسائل کے اوپر قانون سازی کرنے مہیں ناکام ہے ۔ اگر ہمں ان جسیے واقعات کو ریاست پاکستان سے جڑ سے ختم کرنے ہے تو ہمں مضبوط منصوبہ بندی کر نی ہوگی ۔ہم اس کا بنیادی حل کیا ہوگا ہمں اس کے بارے مہیں سوچنے کی ضروت ہوگی ۔اگر ہمں ان واقعات کو روکنا ہے تو ہمں ہمں ہر صوبے مہیں پو لیس کے نظام کو ٹھیک کر نا ہوگا ۔سکولوں اور مداسوں مہیں سکورٹی کو بڑھنا ہوگا اور ( child safety force )کےنام سے اہک الگ ٹاسک فورس قایم کرنا پڑھے گا۔ اور یہ واقعات پاکستان مہیں آگ کی طرح بکھر رہے ہے۔ اگر ارباب اختیار ان واقعات کے اوپر اقدامات نہیں کیے تو یہ ہمارے آنے والی نسل کو متاثر کر سکتے ہے.

تحریر: جنید خان

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc