سرزمین لداخ کی ریاست جموں کشمیر سے علیحدگی۔۔؟-(قسط-1)

پانچ اگست 2019کو بھارتی سرکار نے بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی حثیت سے جوڑے 370 اور 35اے کے خاتمہ کے بعد 31اکتوبرسے ان خطوں کو باضابطہ طور پر دو وفاقی اکائیوں میں تقسیم کر دیا ہے۔اس نئے معائدہ کے تحت جموں کشمیر کے ایک کروڑ بائیس لاکھ افراد پر مشتمل ایک علحیدہ اور لداخ کے دو لاکھ ساٹھ ہزار افراد پر مبنی دوسری اکائی کہلائے گا۔اور دونوں اکائیاں براہ راست نئی دہلی میں موجود وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہوں گی۔جموں کشمیر الگ اور لداخ الگ اکائی بنا دیا گیا ہے،مقبوضہ جموں کشمیر کی نئی وفاقی اکائی ایک منتخب قانون ساز اسمبلی ہو گی جس کی مدت پانچ برس ہو گی اس کی سربراہی بھارت کی جانب سے تعینات لیفٹینٹ گورنر کریں گے۔
بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیر و لداخ کو اب عملا” تقسیم کر دیا ہے جہاں اب بھارتی آئین و قوانین کا نفاذ ہو چکا ہے۔لداخ اور جموں پر دہلی کی حکومت نئے قوانین کے تحت ہندو شہریوں کو جموں کشمیر اور لداخ میں جائیداد خریدنے،شہریت حاصل کرنے کا باقاعدہ حق دے چکی ہے۔جس سے ریاستی حثیت و قانون ریاست باشندہ کے اطلاق کا خاتمہ ہو چکا۔بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیر کے لیے گریش چندر اور لداخ کے لیے آر کے ماتھر کو گورنر تعنیات کر دیا ہے۔جس کی وجہ سے ریاست جموں کشمیر سے لداخ عملا کٹ چکا ہے۔آج کی اس تحریر میں لداخ سے متعلقہ معلومات حقائق پیش خدمت ہیں۔
1947کی تقسیم جموں کشمیر سے قبل صوبہ لداخ و گلگت بلتستان 63554مربع میل جبکہ اس تقسیم کے بعد بھارت کے زیر قبضہ صوبہ لداخ کا کل رقبہ 24569مربع میل ہے۔صوبہ کشمیر 6839مربع میل اور صوبہ جموں 9880مربع میل ہے۔جغرافیائی خصوصیات کے لیے لداخ کو مون لینڈ (چاند کی دھرتی)دنیا کا بلند خطہ ہونے پربام عالم،مخصوص رسومات اور ثقافت کے پیش نظر میجک لینڈ(جادوائی دیش)مسٹریس لینڈ (پراسراردنیا)نیا شنگریلا اور ہرمٹس کنگڈم (زاہدوں کی دنیا)نادر جنگلی حیات کے لیے شکاریوں کی جنت کہا جاتا ہے۔
اگر فضاء سے لداخ پر نظر ڈالی جائے تو صرف تین رنگ نظر آئیں گے سفید بھورا اور سیاہ۔لداخ کا موسم طلسماتی نوعیت کا ہے۔گنگا جمنی تہذیب کی طرح لداخ کو بودھ مسلم کی مشترکہ ثقافت ورثہ میں ملی ہے ماضی میں لہیہ وسط ایشاء کا اہم ترین تجارتی مرکز تھا سب اسی راستے وسط ایشاء اور تبت جاتے رہے ہیں۔تب لہیہ سے تبت کی راجدھانی لہاسہ تین ماہ،مشرقی ترکستان کا پہلا بڑا شہر یارقند ایک ماہ اور سری نگر سولہ دن لگتے تھے ایک برٹش جوائنٹ کمشنر آرایل کینسین نے لکھا تھا کہ سوئز کنال کے لیے جتنی پورٹ سعید ضروری ہے وسط ایشاء کے لیے لہیہ ضروری ہے۔یورپ اور لداخ کے دانشوروں،قدردانوں نے انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار لداخ اسٹڈیز کے نام سے ایک عالمی تنظیم قائم کی۔جو یورپ اور لداخ میں خطے کی تذیب و ثقافت تاریخ و تمدن پر مجالس مناظرہ وغیرہ کا انعقاد کرتی ہے۔جو اب تک انگلینڈ،فرانس، جرمنی، ڈنمارک اور اٹلی وغیرہ میں تیرہ سے زائد سیمینار منعقد کر چکی ہے۔ جس نے لداخ کی اہمیت کو بین الاقومی سطح پر زبردست طور پر متعارف کرایا ہے۔
لداخ صدیوں سے سیاحوں،محققوں اور مہم جووں کا گہوارہ رہا ہے۔گرمیوں میں یہاں کے بازارمیں سینٹرل ایشاء کے علاوہ تبت،شمالی،ہندسائبریااور افغانستان تک کے تاجر جمع ہوتے تھے۔لداخ کو سنگاخ چٹانوں بے آب و گیاہ میدانوں،کھاری جھلیوں اور برف پوش کوہساروں میں بے پناہ کشش اور جازبیت ہے۔اکبر کے نورتن اور وزیر ابوالفضل نے آئین اکبری میں لداخ اور تبت کا ذکر بڑی تفصیل کے ساتھ کیا۔مولوسوا، ساپنو لداخ کے دو قدیم نام ہیں سلک روٹ اور صحراء گوبی میں آثار قدیمہ کے انمول خذینے کی تلاش میں لداخ سے کئی مہمیں گزریں ہیں۔
ریاست جموں کشمیر کے ساتھ لداخ کے تعلق کو جاننے کے لیے ہمیں سرسری طور پر معائدہ امرتسر کا جائزہ لینا ہو گا۔1846میں سکھ سلطنت کے زوال کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے ساری سکھ سلطنت پر تسلط جما لیا۔کشمیر کا خطہ بھی اسی میں شامل تھا۔16 مارچ1846کو معاہدہ امرتسرکی رو سے مہاراجہ گلاب سنگھ نے تاوان کے عوض جموں کشمیر کا اقتدار اعلی انگریزوں سے بڑی ہوشیاری اور دوراندیشی سے حاصل کیا۔مہاراجہ گلاب سنگھ نے اسی معائدہ سے ہی جدیدو موجودہ ریاست جموں کشمیر کی بنیاد رکھی تھی جس کا اقوام متحدہ میں ابھی تصفیہ ہونا ابھی باقی ہے اور پورے خطے کو اسی تنازعے کی وجہ سے ریاست کے نقشہ کے ساتھ جوڑے ہوئے ہے۔ڈوگرہ خاندان 1846سے 1947تک جموں کشمیر پر برسراقتدار رہا۔انتظامی اعتبار سے 101سالہ ڈوگرہ عہد مثالی تھا۔
اس معاہدے میں دریائے سندھ کے پار گلگت ہنزہ نگر اور یاسین وغیرہ کے علاقے شامل نہیں تھے۔مہاراجہ گلاب سنگھ اور رنبیر سنگھ کے عہد میں ان علاقوں کو سلطنت جموں کشمیر کے زیر انتظام لانے کے لیے پے در پے حملے ہوئے۔چنانچہ1851میں چلاس 1863میں یاسین اور 1866میں داریل وغیرہ کو فتح کر کے مملکت جموں کشمیر کی سرحدیں پامیر اور ترکستان تک وسیع کر دیں۔ہزہائی نس مہاراجہ جموں کشمیر کے حکم سے وزیر اعظم رام چندکاک نے 12جوالائی 1947کو ایک حکم نامہ جای کیا جس میں گلگت وزارت کو صوبے کا درجہ دے کر برگیڈئیر جنرل سٹاف گھنسارا سنگھ کو اس صوبے کا گورنر تعنیات کر دیا گیا اور یوں 30جولائی کو گلگت پہنچ کر گھنسارا سنگھ نے چارج سنبھال لیا۔یوں 12سال کے بعد اس علاقے پر مہاراجہ کی عملداری قائم ہو گی۔
جس پر طے ہوا کہ گلاب سنگھ اور برطانیہ کے درمیان ایک علیحدہ معائدہ طے پائے گا۔16مارچ 1846کو ایسٹ انڈیا کمپنی اور مہاراجہ گلاب سنگھ کے مابین دس دفعات پر مبنی معائدہ طے پایا۔جس کے تحت وادی سے لے کر دریائے سندھ کے درمیان کشمیر،چمبہ ہزارہ کا علاقہ مہاراجہ کے کلی اختیار میں دیا گیا اور طے پایا کہ ان علاقوں پر حق حکمرانی کے لیے مہاراجہ،برطانیہ سرکار کو 75 لاکھ نانک شاہی سکے کے طور پر ادا کریں گے۔اس پر رانی جنداں اور اس کے وزیر اعظم لعل سنگھ نے بہت برا منایا اور مہاراجہ کی بہت مخالفت کی جس کے لیے انہوں نے کشمیر میں متعین گورنر شیخ امام الدین کو بغاوت پر اکسایا۔تاریخی حقائق کو مسخ کرتے ہوئے ریاست جموں کشمیر پر قابض غاصب مقتدر طاقتوں حکمرانوں اور ان کے وظیفہ خور سہولت کاروں نے ریاستی عوام میں اس غلط فہمی کو ہوا دی کہ مہاراجہ گلاب سنگھ نے 75 لاکھ نانک شاہی کے عوض ریاستی عوام کشمیریوں، مسلمانوں کو بھیڑ بکریوں کی مانند فروخت کیاتھا۔جس سے مہاراجہ کے خلاف نفرت پھیلائی گی۔جو حقائق کے برعکس ہے۔
درحقیقت سلطنت پنجاب اور انگریزوں کی جنگ میں پہل سکھوں کی طرف سے ہوئی تھی اس جنگ میں انگریزوں کو اگرچہ جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا لیکن میدان انگریزوں کے ہاتھ میں رہا اور سکھوں کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔جس پر انگریزوں نے ڈیڑھ کروڑ نانک شاہی سکہ بطور تاوان جنگ سکھ سلطنت سے طلب کیا۔تاوان کی ادائیگی تک انگریزوں نے ستلج اور بیاس کے درمیانی دو آبہ،چمبہ،کشمیر،ہزارہ اور ان سے ملحقہ کوہستانی علاقہ جات سے سکھوں کی عملدداری ختم کر دی تھی۔سکھ حکومت اتنی بڑی رقم دینے کی طاقت نہیں رکھتی تھی۔اس صورتحال میں مہاراجہ گلاب سنگھ نے کمال مہارت سے رقم اپنی گرہ سے ادا کی۔اور ان علاقوں کا آزاد فرمانروا تسلیم کر وا لیا۔معاہدہ امرتسر کی رو سے گلاب سنگھ نے جو مملکت حاصل کی اس میں کہوٹہ،مری اور ہزارہ کے علاقے جو دریائے جہلم اور دریائے سندھ کے درمیان سلطنت پنجاب سے ملحق تھے وہ 5مئی 1847کو ایک معاہدہ کے تحت پنجاب کو واپس کر دیے اور اس کے بدلے میں کھڑی اور مناور کے علاقے اپنی سلطنت میں شامل کیے۔
اگر مہاراجہ گلاب سنگھ معائدہ امرتسر نہ کرتا تو جدید وموجودہ ریاست جموں کشمیر کا یہ نقشہ ہی نہ ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ مہاراجہ گلاب سنگھ کو جدید ریاست جموں کشمیر کا بانی اور رئیس بھی کہا جا تا ہے۔مہاراجہ نے جو ریاست تشکیل دی تھی وہ آج ٹوٹ چکی ہے۔مسلم پرستی اور انتہا پسندی پر مبنی اسلام آباد کی پالیسیوں پر مبنی تحریک آزادی جموں کشمیر صرف اور صرف سری نگر کی تحریک رہی جہاں حریت کانفرنس کو بطور سہولت استعمال کر کے اور نام نہاد بیس کیمپ کو ڈھونگ بنا کر لداخ کا استحصال کرتے اسے کنارے لگائے رکھا رہا۔اور جموں کے خلاف نفرت پھیلائی گی۔ریاست کی آزادی کی نام نہاد جنگ لڑنے والوں نے مذہب اسلام مسلم پرستی انتہا پسندی کے بل بوتے پر مہاراجہ ہری سنگھ کی خود مختار ریاست کو بائیس اکتوبر کے قبائلی حملہ سے توڑا اور گلاب سنگھ کی ریاست معاہدہ امرتسر کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں نے آخر کر وحدت جموں کشمیر میں شامل لداخ کو ریاست سے علحیدہ کروا دیا۔
دوبارہ آزادی لینا تو دور کی بات لاکھ سے زائد قربانی دینے کے باوجود آج جموں کشمیر عملی طور پر تقسیم ہو چکا۔لداخ کے مجرم،نام نہاد بیس کیمپ آزاد جموں کشمیر،سری نگر،حریت کانفرنس دہلی اسلام آباد کی سہولت کار جماعتیں اور قوم پرست ہیں جہنوں نے کبھی لداخ کی اہمیت کو نہ سمجھا اور نہ ہی انھیں اپنے ساتھ جوڑے رکھا رہا۔تاریخ اس مجرمانہ کردار کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔
(جاری ہے)

تحریر: شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc