“خالصہ سرکار غیر آئینی اور غیر قانونی اصطلاح

قسط۔  چہارم (گزشتہ سے پیوستہ)
خالصہ سرکار اور اسٹیٹ سبجیکٹ رول کے حوالے سے دو سال پہلے قانون ساز اسمبلی میں حزب اختلاف نے ایک بل بھی پیش کیا تھا لیکن تادم تحریر اس حوالے سے بحث کی کوئی اطلاع نہیں ھے۔
حکومت نے اس حوالے سے ایک کمیٹی بنایا ھے جسے لینڈ ریفارم کمیٹی کا نام دیا گیا ھے۔ 5 سال گزرنے والی ھے نا اھل کمیٹی اپنا مکمل رپورٹ پیش نہ کرسکا۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو اس کمیٹی کا بنانا ہی غیر قانونی ھے کیونکہ پاکستان کے وزیر خارجہ نے پچھلے سال آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم ریاست پاکستان گلگت بلتستان سے اسٹیٹ سبجیکٹ رول ختم نہیں کیا ھے یہ علاقہ متنازعہ ھے اور کشمیر کے مسئلے کی حل تک یہ علاقہ متنازعہ رھے گا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی واضح طورپر کہا ھے کہ یہ علاقہ متنازعہ ھے وزیر خارجہ اور اعلی عدلیہ کی واضح بیان کے بعد صوبائی حکومت کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وھ ہمارے زمینوں کی از سر نو ریفارم کے لئے کمیٹی بنائیں اس کمیٹی کا بنانا ہی غیر قانونی ھے کیونکہ اوپر کے دو واضح بیانات کے بعد یہ علاقہ تسلیم شدھ متنازعہ علاقہ ھے اور یہاں کے زمینوں پر یہاں کے عوام کا حق ھے ریاست یا ریاستی اداروں کو زمین کی ضرورت ھے تو باقاعدھ عوام کو معاوضہ دیکر لیا جاسکتا ھے ورنہ ایک غیر قانونی کمیٹی کے فیصلے پر عوام ایک انچ زمین مفت میں دینے کو تیار نہیں۔
وفاق پاکستان کو چاہئیے کہ اس خطے کے عوام کی حب الوطنی کا مزید امتحان نہ لیا جائے اور یہاں کے وسائیل اور زمینوں پر اس خطے کے عوام کو جو قانونی حق حاصل ھے اسے تسلیم کرکے یہاں کے عوام کو حق ملکیت دیا جائے۔ اس وقت گلگت بلتستان میں کوئی مقامی باشندھ اپنے زیر استعمال اراضی کے اپنے نام انتقال ملکیت کی درخواست دے تو سرکاری اہلکار کہتے ہیں کہ 1986 سے قانون انتقال معطل ھے لیکن حکومت نے غیر قانونی طورپر کئی ہزار کنال اراضی پچھلے مختصر عرصے میں ریاستی اداروں کے نام نجانے کس قانون کے تحت منتقل کی گئی ھے عوام اتنا جانتے ہیں کہ یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ھے لیکن یہ روش اب ختم ہو جانی چاہئیے کیونکہ دنیا بدلتی جا رھی ھے نئی نسل باشعور ھے جو شدت سے اس بات کو محسوس کر رھی ھے کہ انہیں حکمرانوں کی جانب سے دھوکہ دیا جا رھا ھےاور ان کے حقوق سلب کئیے جارھے ہیں ۔
خالصہ سرکار اور اسٹیٹ لینڈ میں بڑا فرق ھے میں پہلے عرض کرچکا ہوں اصل مسئلہ گلگت بلتستان میں جو بیورو کریٹ بابو آتے ہیں انہوں نے خالصہ سرکار کو اسٹیٹ لینڈ ڈکلئیر کیا بے جوکہ قانون کی سراسر خلاف ورزی ھے بغیر کسی معاوضے کے ہمارے حق تصرف میں موجود زمین اسٹیٹ لینڈ ڈکلئیرڈ نہیں ہوسکتا ھے۔ اگر خالصہ سرکار کو اسٹیٹ لینڈ ڈکلئیر کرنا ھے تو اس کے لئے یا ریاست پاکستان کو خالصہ سرکار کے ساتھ اپنا معاہدھ سامنے لانا ہوگا یا خالصہ سرکار کا نمائیندھ یا وارث کو سامنے لانا ہوگا جبکہ یہ دونوں موجود نہیں اس لئے خالصہ سرکار کو اسٹیٹ لینڈ ڈکلئیر نہیں کرسکتے یہ غیر قانونی ھے
یاد رھے جو چراگاھ ھے وھ اسٹیٹ لینڈ نہیں ہوسکتا چراگاھ میں گاھ چرائی کے حقوق ہوتے ہیں وہاں حکومت کا کوئی حق نہیں ہوتا ھے ۔ عوام کو چاہئیے کہ ان میں فرق سیکھیں تاکہ اپنے حقوق کا دفاع کرسکے۔(جاری ھے)

تحریر:احمد چو شگری مرکزی جنرل سکریٹری انجمن تاجران سکردو

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc