استور میں غذائی قلت قحط کا خطرہ :امیدوار قانون ساز اسمبلی تعارف عباس نے وجہ تحریر نیوز کو بتا دی

استور(ٹی این این ) ضلع استور میں زلزلوں کے جھٹکوں کے بعد ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود تاحال استور ویلی روڈ نہیں کھلنے کی وجہ سے استور کی عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جسمیں غذائی قلت،گیس لکڑی اشیاء خوردنوش کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ چھوٹا گوشت بڑا گوشت مارکیٹ میں ناپید ہونے کی وجہ سے عوام کو مسائل کا سامنا ہے۔صحت کی سہولیات استور میں نہیں ہونے کے برابر تھے حالیہ دنوں زلزلوں اور برف باری کی وجہ سے عوام کے مختلف امراض کا شکار ہوئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار تعارف عباس ایڈوکیٹ امیدوار قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان نے صحافیوں کے ساتھ پریس بریفنگ میں کہا۔انھوں نے مزید کہا کہ ضلعی ہیڈکواٹر میں پانی کا شدید بحران کی وجہ سے غریب لوگ کئی میل دور جاکر پانی اٹھا کر لانے پر مجبور ہیں اور آئے روز لوڈشیدنگ کی وجہ سے عوام اندھیرے میں بیٹھنے کے ساتھ ساتھ دیگر کمیونیکیشن کا نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے علاقے کے عوام کا ملک کے دیگر شہروں میں بسنے والے عزیز و اقارب کے ساتھ رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے زہنی مرض کا شکار بن چکے ہیں اور دیگرشہروں کی طرف سفر کرنے والے مریض مسافر اور ملازم محصور ہوگئے ہیں اسلیے حکام بالا وزیر اعلی فورس کمانڈر اور چیف سیکریٹری نوٹس لیتے ہوے ضلع استور کو آفت زدہ قرار دے کر تمام ضروریات زندگی کی بنیادی اشیاء پر سبسڈی دیں اور زلزلہ سے متاثرہ علاقوں شلتر ڈوئیاں ، دشکن ،ہرچو اور بونجی کو آفت زدہ قرار دے کر ایمرجنسی بنیادوں پر متاثرین کو ریلیف پنچایا جائیں ۔

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc