خالصہ سرکار غیر آئینی اور قانونی اصطلاح ۔۔ قسط سوئم

جب بھی گلگت بلتستان کے عوام نے اپنے حقوق کی حصول کے لئے آواز بلند کرنے کی کوشش کی تو اس خطے میں مذہبی منافرت کو ہوا دی گئی یوں لوگ اصل مسائیل سے ہٹ کر آپس میں الجھتے رھے دوسری طرف ریاست اور ریاستی ادارے ہمارے خوبصورت ملکیتی اراضی پر قابض ہوتے رھے۔ لہذا ہمیں یہ سمجھنی چاہئے کہ ڈوگروں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد ہمارے آباواجداد نے اپنے مرضی سے پاکستان میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن ریاست پاکستان اور کشمیری راہنماوں نے ملکر اس خطے کو دوبارھ کشمیر کے رسی سے باندھ لیا تو ھے لیکن جو حقوق سابق ریاست کے باقی خطوں کو حاصل ھے وھ حقوق گلگت بلتستان کو دینے کے لئے تیار نہیں ھے۔ لیکن ہماری مقامی سیاستدانوں کی مجبوری یہ رہی ھے کہ وھ پاکستان سے ایسا کچھ بھی منوانے میں ناکام رھے۔ کہنے کو تو ہمارے علاقے وسائیل کی وجہ سے پاکستانی کہلاتے ہیں لیکن یہاں قانون کی عملداری کے حساب سے دیکھا جائے تو اسلام آباد والوں کی مزاج پر منحصر ھے یہ لوگ ہمارے علاقے میں اپنے مزاج کے تحت قانون بناتے ہیں اور اپنے ہی مزاج کے تحت قانون کو بگاڑتے ہیں آپ خود ملاحظہ کریں جب ان کو اپنے ہی لوگوں کو نوازنے کے لئے زمینوں کی یا معدینیات کی لیز دینا ہوتا ھے تو ہم پر ریاست پاکستان کا قانون لاگو کرکے پاکستانی قوانین کے مطابق ہر ایرئے غیرے کو لیز دیا جاتا ھے جب ہم اس لیز کے بدلے میں حقوق کی بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ آپ پاکستان کا آئینی شہری نہیں ھے آپ کشمیر اشو سے منسلک ھے جس کی وجہ سے کشمیر کا مسئلہ حل ہونے تک آپ متنازعہ ھے اور متنازعہ علاقوں کے عوام کو آئینی شہری کے حقوق نہیں ملتے۔ جب ریاست یا ریاستی اداروں کو گلگت بلتستان میں زمین کی ضرورت ہوتی ھے یا کسی خوبصورت جگہے پر ان کی نظر پڑتی ھے تو وھ یہاں پر بھی پاکستان کے قوانین کو لاگو کرکے ادھر سے عوام کی ملکیتی زمینیں ہتھیا لیتے ہیں یہ جو ہم سے زمینیں لی جا رہی ہیں وھ عین پاکستانی قوانین کے مطابق لئے جا رھے ہیں جب ہم اس کے بدلے میں حقوق کی بات کرتے ہیں تو وھ پرانا والا منطق دہرایا جاتا ھے ۔ یہ سب کچھ عوام کو اپنے حقوق کے حوالے سے معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ہو رہا ھے گلگت بلتستان کے عوام نے پہلی بار مختلف فورم پر ریاست پاکستان سے مطالبہ کرنا شروع کردیا ھے کہ آخر کب تک گلگت بلتستان کے عوام کو ایک معلق پل کی طرح لٹکا کے رکھوگے ۔اب ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کشمیر اشو کی وجہ سے متنازعہ ھے یا ریاست پاکستان کا آئینی شہری ھے اگر متنازعہ ھے تو یہاں پاکستان کے قوانین لاگو نہیں ہوسکتے متنازعہ علاقوں کے اپنے قوانین ہوتے ہیں جس کے تحت ریاست یا ریاستی اداروں کو یہاں کی ایک انچ زمین بھی بغیر معاوضے کے نہیں لے سکتے۔ اگر ریاست سمجھتے ہیں کہ یہ علاقہ پاکستان کا آئینی حصہ ھے تو ملک کے دیگر خطوں میں رہنے والے آئینی شہریوں کے برابر حقوق گلگت بلتستان کے عوام کو بھی ملنی چاہئے۔ حقیقت یہ ھے کہ الحاق بہارت سے بغاوت کرکے ڈوگروں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے لیکر اب تک یہ خطہ اور یہاں کے عوام اپنی تمام تر پاکستان کے ساتھ وفاداریوں کے باوجود آئینی و قانونی طورپر نہ ہی پاکستان کے آئینی شہری ہیں اور نہ ہی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرکے متنازعہ علاقوں کے حقوق مل رھے ہیں یعنی اس وقت یہاں کے عوام جہاں اپنی زمینوں کے لئے پریشان ہیں وہیں قومی شناخت کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ھے ۔ سی پیک میں اس خطے کو متنازعہ حیثیت کے سبب با لکل ہی نظر انداز کر دئے پیں جبکہ دوسری طرف ہماری ملکیتی اراضی کو پاکستانی قوانین کے تحت خالصہ سرکار ڈکلئیر کر کے دو نمبری طریقے سے ریاست اور ریاستی ادارے اپنے قبضے میں لے رھے ہیں۔ اس دہرا معیار کی وجہ سے عوام میں احساس محرومی پہلے سے کہیں زیادھ بڑھ رھے ہیں لیکن یہاں کی مقامی حکومت جبر کے ذریعے اس لاوا کو دفن کرنے کی چکر میں ہیں جوکہ بہت زیادھ نقصاندھ ثابت ہوسکتے ہیں۔ لہذا جب تک مسئلہ کشمیر کی حل کی کوئی پیش رفت نہیں ہوتی یہاں کی تمام زمینیں قانونی طور پر یہاں کے عوام کی ملکیت ھے اور غیر ریاستی عناصر یا اداروں کو اس خطے کی زمینوں کو الاٹ کرنے کا مقامی حکومت کو کوئی اختیار نہیں ۔ (جاری ہے)

تحریر: :احمد چو شگری
مرکزی جنرل سکریٹری انجمن تاجران سکردو

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc