مجبور ماں اور بے ضمیر معاشرہ۔

الیکشن ائیر (Election Year) میں روڑز میٹل کروانے جیسے تمام کام دکھاوا اور سیاسی رشوت کے مترادف ہے ۔ گڈ گوارننس کا کہیں نام و نشان نظر نہیں آرہا ۔ سیاسی رہنما ء میگا پروجکٹس گنوانے میں مگن ہیں جبکہ زمینی حقائق یوں ہیں کہ ماں اپنے دو ماہ کےلخت جگر کو بھوک و پیاس کی وجہ سے مسجد میں خدا کے سپرد کر کے چلی گئی ۔ سیاسی رشوت خوروں کو ووٹ کی پڑی ہے انہیں لگتا ہے کہ 5 سال بعد ان پروجکیٹس کو لیکر عوام کی عدالت میں سرخرو ہونگے ۔ غافل ہیں، نہیں جانتے ، اللہ نے بھی ایک عدالت لگا رکھی ہے اور اصل پوچھ گش تو بس وہی پہ ہونی ہے ۔

کرپشن کا بازار گرم ہے ۔ ہر میگا پروجیکٹ کی فیزیبیلٹی کمیشن کو مد نظر رکھ کر بنائی جارہی ۔ کرپشن ہر ایک کے خون میں رچ بس گئی ہے ۔ رشوت کے بغیر کوئی آفیسر جائز کام کر جائے تو مزہ نہیں آتا ۔ دو نمبری میں زیادہ ماہر تیز ترین اور ہوشیار کہلانے لگا ہے ۔ غریب کے شیر خوار بچے کو دودھ میسر نہیں جبکہ امیر دیگر زرائع کے علاوہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور بیت المال جیسے پروگرامز سے بھی مستفید ہورہا ہے ۔

اسلامی تعلیمات میں ہے کہ سفید پوش غریب عزت نفس کی وجہ سے ہاتھ نہیں پھیلاتے انہیں ڈونڈھ نکال کر ان کی مدد کی جائے۔۔۔!!
زمانہ بچپن میں اپنے بڑوں سے سنا تھا کہ سڑکوں، گلی، محلوں یا گھر گھر پیسے، روٹی، کپڑا یا آٹا مانگنے والوں کو بھکاری کہتے ہیں۔ ساتھ ساتھ یہ بھی سننے کو آیا تھا کہ ان میں زیادہ تر فریبی ہوتے ہیں۔ حقیقتاً مجبوری کی بنا پر مانگنے والا شاید ہی کوئی ہوتا ہے۔
بڑوں نے کہا! ہم نے مان لیا۔ اسی تصور کو لے کر وقت گزار دیا اور ہم جوانی کو پہنچ گئے۔ اب وہ وقت تھا جب ہر چیز کے بارے میں سوچ سمجھ آنے لگی ہر بات کے جواب میں “کیوں، کب، کہاں اور کیسے کہنا شروع کر دیا۔ پھر کیا دیکھا کہ بھکاری کی تعریف ہمیں غلط بتائی گئی تھی ۔میرے شہر میں تو الٹی گنگا بہ رہی ہے ۔ یہاں سب بھکاری ہیں ۔ عوام روڈمانگتے ہیں اور حکمران روڈکے بدلےووٹ ۔ غریبوں کے نام پہ تقسیم ہونے والی رقم غریبوں کے قریب تک پہنچ نہیں پاتی ۔بیت المال پہ داڑھی والے امیر نمازی جبکہ بینظیر سپورٹ پہ بے ضمیر ب۔۔۔ت قابض ہیں۔
پیشہ ور ٹھیکہ داروں نے پیشہ ور بھکاریوں کی تعداد ا اتنی بڑھادی ہے کہ ہر جانب معاف کرو معاف کرو کی سدائیں بلند ہورہی ہیں ۔ سفید پوش لوگوں کو ڈونڈھنا تقریبا ناممکن ہوا ہے ۔ غلطی سے کوئی سفید پوش ہاتھ لگ بھی جائے تو سفید کفن میں ملبوس آخری سفر پہ روانہ دکھائی دیتا ہے ۔
پھر ان کی مدد دعاوں کے زریعے ہی ممکن رہتی ہے۔

یقینا ایک ماں کیلئے اپنے دو ماہ کے بچے کو مسجد میں چھوڑ جانے والا لمحہ قیامت سے کم نہ تھا مگر۔۔۔!!
سوال یہ ہے کہ کیا اس نے ہم جیسے بے ضمیروں کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے ہونگے ؟؟؟ کیااس نے اپنے نوزائیدہ بچے کی خاطر در در کی ٹھوکریں نہیں کھائی ہونگی؟؟ کیا وہ نمازوں کے اوقات میں مسجدوں کے باہر نمازیوں سے مخاطب نہیں ہوئی ہونگی؟؟؟ یقینا ہوئی ہونگی۔۔!! مگر اس سے جتنی معافیاں لوگوں نے مانگی ہونگی اس سب کے بعد ایک معافی اس ماں نے اپنے بچے سے مانگی ہوگی جسکے بعد بچے کو یہ کہ کر اللہ کے سپرد کیا ہوگا کہ آپ کی مخلوق کی عدالت میں انصاف ملنا ممکن نہیں ۔سب مال دنیا بنانے میں محو ہیں ۔ غریب مائیں بچوں کو لیکر در در کی ٹھوکریں کھارہی ہیں ۔ شیر خوار بچے بھوک و پیاس سے مر رہے ہیں مگر کسی کو بھی بھوک و ننگ نظر نہیں آتی اور اب مجھ سے بھی اپنے لخت جگر کو اس حال میں دیکھا نہیں جاتا لہذا اے میرے مالک۔۔!! اب اس بچے کو آپ کے حوالے کرتی ہوں ۔ میرے رب تو سب سے بڑا منصف ہے ۔
انصاف کر۔

اللہ کی عدالت میں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ دنیا کس کو کس نگاہ سے دیکھتی تھی ۔ کس کے پاس کتنا پیسہ تھا۔ کون دنیا کی نظر میں کتنا زیادہ معتبر تھا ۔ اللہ کی عدالت جب لگے گی تو پھر اک اک چیز کا حساب ہوگا ۔ حکمران حکمران اور محکوم محکوم نہیں رہیگا۔ کرپشن کے پیسے کام آئینگے نہ ہی غریبوں کا کھایا ہوا حق ۔ یہ تو بس عزاب کی صورت اختیار کر جائینگے ۔

وقت کی ضرورت ہے کہ اب بھی عقل ٹھکانے آجائے ۔ سیاسی رشوت دینے کے لئے میگا پروجیکٹس لگانے سے پہلے لوگوں کی بنیادی ضروریات کو دیکھا جائے ۔ کچھ اور نہیں ہوسکتا تو کم از کم بیت المال اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے استفادہ حاصل کرنے والوں کے ناموں کی لسٹیں بنا کر متعلقہ علاقوں کے موضوع جگہوں پہ چسپاں کئے جائیں تاکہ غیر مستحق بے ضمیر لوگوں کو تھوڑی بہت شرم آجائے ۔ اگر ایسا نہیں کرتے تو یہی اخز کیا جائے گا کہ یہ تمام غیر مستحق لوگ آپ کے ہی چہیتے ہیں اور آپ نے انہیں سیاسی رشوت دینے کی نیت سے نوازا ہوا ہے ۔

تحریر : ایڈووکیٹ حیدر سلطان

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc