خالصہ سرکار کی غیر آئینی اور غیر قانونی اصطلاح۔۔

قسطدوم۔ (گزشتہ سے پیوستہ )
اُنیس سو سینتالیس کے بعد جب خالصہ سرکار یا پرنسلی اسٹیٹ کے ٹکڑے ہوگئے ۔ گلگت بلتستان کو خالصہ سرکار حکومت کے ٹکڑے ہونے کے بعد معاہدھ کراچی کے تحت پاکستان نے انتظامی امور کے حوالے سے اپنے کنڑول میں لیا۔ گلگت بلتستان میں ریوینیو ڈیپارٹمنٹ کو لینڈ ریوینیو ایکٹ کے تحت چلانا شروع کیا جو پرانا قانون اور پرانا سارا ریکارڈ جس میں جو زمینیں خالصہ سرکار کے نام سے موجود تھا ان زمینوں کو لینڈ ریوینیو ایکٹ کے مطابق اسٹیٹ لینڈ ڈکلئیر کیا گیا جبکہ رولز کے مطابق اسے اسٹیٹ لینڈ ڈکلئیر نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ریاست پاکستان ایک ڈیمو کریٹک ملک ھے یہاں پر لوگوں کے رائے پوچھی جاتی ھے لوگوں کے حقوق کو تحفظ دیا جاتا ھے ان تحفظات کو وائیلیٹ کیا گیا آور خالصہ سرکار کی جو اصطلاح تھی اسے غلط طریقے سے استعمال کیا گیا آور خالصہ سرکار کو بطور اسٹیٹ لینڈ تصور کیا گیا آور جتنے بھی زمین خالصہ سرکار کے نام سے موجود تھا اسے براھ راست اسٹیٹ کا لینڈ ڈکلئیر کیا گیا جب ضرورت پڑے تو ریاست یا ریاستی ادارے ان زمینوں کو اپنے قبضے میں لیتے اور معاوضہ دینے سے انکار کرتے جبکہ یہ ایک غیر قانونی کام ھے۔ یہ طریقہ کار آئین پاکستان اور لینڈ ریوینیو ایکٹ دونوں کی خلاف ورزی ھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خالصہ سرکار کی اصطلاح ہی غیر قانونی ھے جسے مختلف حیلے اور بہانوں کے ذریعے جاں بوجھ کے طول دیا جارھا ھے جوکہ عوام سے ان کی زمینیں چھیننے کی گہری سازش ھے۔ خالصہ سرکار کے حوالے سے عوام کو تسلسل سے بیوقوف بنایا جا رھا ھے۔ عوام کے بیوقوف بننے کی بنیادی وجہ یہ ھے کہ عوام ان چیزوں سے آگاھ نہیں ھے جس کی وجہ سے ان کے ہاتھ سے ان کی زمینیں ایک روپیہ معاوضے کے بغیر چھینے جارھے ہیں۔ جیساکہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ خالصہ سرکار ایک حکومت کا نام تھا جو منارکی طرز حکمرانی کرتا تھا جس میں زمینیں بادشاہ کی ہوتی تھی بادشاہ ملکیتی حقوق اپنے پاس رکھتے تھے جبکہ عوام کو صرف چرائی اور کاشت کاری کے حقوق دیتے تھے ۔ اس طرز حکمرانی میں بادشاہ جسے چاہے زمین دیدیتے تھے ۔ جب تک ریاست پاکستان اپنے ریاست میں اپنے سسٹم کے اندر خالصہ سرکار کے کسی وارث کو لیکر نہیں آتے یا ریاست پاکستان کا اس خالصہ سرکار حکومت کے ساتھ کوئی معاہدھ دکھائے جس معاہدے کے تحت وھ ان زمینوں کو ہڑپ کرے جبکہ یہ دونوں چیزیں موجود نہیں ھے۔ ان دونوں صورتوں کے بغیر اگر ریاست پاکستان آئیں پاکستان کی پاسداری چاہتا ھے اور لینڈ ریوینیو ایکٹ کے تحت ان زمینوں کو کنٹرول کرنا چاہتا ھے تو یہ ہرگز ممکن نہیں۔ ریاست پاکستان کا ان دونوں صورتوں کے بغیر زمینوں پر قبضہ کرنا آئین پاکستان اور لینڈ ریوینیو ایکٹ دونوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ھے۔ گزشتہ 72 سالوں سے گلگت بلتستان میں ریوینیو ڈیپارٹمینٹ کو لینڈ ریوینیو ایکٹ کے تحت چلایا جا رھا ھے لینڈ ریوینیو ایکٹ میں اسٹیٹ لینڈ کا ذکر ہوا ھے جبکہ خالصہ سرکار زمینوں کو آپ اس وقت تک اسٹیٹ لینڈ ڈکلئیر نہیں کرسکتے جب تک خالصہ سرکار حکومت کے اس پرنس کا کوئی وارث کلیم نہ کرے یا اگر کوئی وارث ھے تو حکومت پاکستان ہمیں دکھائے کیونکہ خالصہ سرکار حکومت کے ٹوٹنے کے بعد زمینیں اس پرنس کی ھے اگر وھ لینا چاہتا ھے یا وھ ریاست کو دینا چاہتا ھے ایسی کوئی چیز نہیں ھے ریاست پاکستان اس غیر قانونی اصطلاح کو لیکر گلگت بلتستان کے لوگوں کے زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتا ھے جوکہ سراسر ظلم ھے اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی ھے۔ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ھے کہ ہمیں زمینوں کی بنیادی حقوق نہیں دی جارہی ہمیں سیلف گورننس کا حق نہیں دیا جارھا جس کے لئے پیپلز پارٹی گلگت بلتستان نے بڑے شدومد کے ساتھ تحریک کا آغاز کیا تھا اس تحریک کو حق حاکمیت اور حق ملکیت کا نام دیا گیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں جو ادارے کام کر رھے ہیں وھ جیسے بھی ہو آئین پاکستان کی تابع ھے اسی کا بہانہ بناکر خالصہ سرکار کی جعلی اصطلاح کے ذریعے آئین پاکستان کا وھ بنیادی حق جو ایک شہری کو حاصل ہوتا ھے حق حاکمیت اور حق ملکیت کا خاص کر حق ملکیت کا اسے ہم سے چھیننے کی سازش کی جارہی ھے۔ ریاست یا ریاستی اداروں کو جب بھی زمین کی ضرورت ہوتی ھے تو ریاست پاکستان کی قانون ہم پر لاگو کرکے ہم سے زمینیں چھینے جاتے ہیں جب ہم حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ آپ پاکستان کے آئین میں شامل نہیں آپ متنازعہ ھے اور کشیر اشو کا حصہ ھے ۔زمین کی ضرورت پڑے تو پاکستان کا قانون حقوق کی بات کرے تو کشمیر کا قانون ۔ یعنی آدھا تتیر اور آدھا بغیر والا قانون بروقت ضرورت ریاست پاکستان ہم پر لاگو کرتے رہتے ہیں۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ خالصہ سرکار ایک غیر قانونی اصطلاح ھے جس کا قانون یا آئین سے کوئی تعلق نہیں ھے بلکہ ریاست کے آئین سے متصادم ھے۔ اس لئے عوام کو چاہئے کہ وھ حقائق کو سمجھیں اور یہ جو زمین ہم سے چھینے جا رھے ہیں وھ آئین پاکستان ہی کی رو سے ہماری ملکیتی زمین ھے ہمیں بیوقوف بناکے ہم سے چھینے جا رھے ہیں اسے بچانے کے لئے ہر ایک کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ (جاری ھے)

تحریر:احمد چو شگری
مرکزی جنرل سکریٹری انجمن تاجران سکردو۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc