ہم کب ملیں گے۔؟ بلتستان کے منقسم خاندانوں کا نوحہ

میں پاک فوج میں ملازم تھا،جنگ کے دوران میں ڈیوٹی پرتھا،مجھے میرے وطن کی فکرنے خاندان کی فکربھلادی تھی،میں اپنے وطن کی خاطرکچھ بھی کرنے کوتیارتھا،دشمن ہم پرقبضہ جماناچاہتے تھے،لیکن میں اس دھرتی کامحافظ ،بھلامیں کٹ مرنے کوبھی تیارتھا،جنگ کی شددخوفناک تھی، مجھے کیاپتہ تھایہ تیرہ دن کی دہشت ناک جنگ جیتے جی خاندان کوہمیشہ ہمیشہ کیلئے الگ کردیں گے، میں اورمیری اہلیہ تیرہ برس تک انتظارکرتے رہے،کہ اللہ نے چاہاتوہم مل پائیں گے،لیکن اللہ کوکچھ اورہی منظورتھاایک دن بہتی گنگاشایدہماری جدائی برداشت نہیں کرسکی ،دریامیری بیوی کی لاش میرے ملک لے آیا،یہ الفاظ تھے پاکستانی فوج سے ریٹائرڈہونے والی اسی سالہ سپاسی غلام قادرکی،غلام قادرتیاکشی کارہائشی تھا،بچپن سے پاک فوج سے محبت اوروطن کی حفاظت کاجذبہ دل میں کوٹ کوٹ کربھراہواتھا،معاشی حالات اوروقت کی نزاکت نے بھی پاک فوج کی ڈوری تھامنے پرمجبورکیایوں پاکستان فوج کاحصہ بن گیا،وہ پاک فوج میں فرائض انجام دیتے رہے،وقت گزرتاگیاوہ اپنی ڈیوٹی انجام دیتے رہے االلہ کاکرناایساہوا1971میں پاکستان اورانڈیاکے درمیان سیاچن کرگل سمیت مشرقی پاکستان میں جنگ چھڑگئی وہ بلتستان میں تعینات تھے جنگ شدداختیارکرگئی وہ وطن کی حفاظت میں قومی جذبے سے سرشارخدمت انجام دیتے رہے،انہیں نہ اپنی اولادکی فکرتھی نہ خاندان کی، والدین کی فکرتھی نہ بیوی کی،تیرہ دن خدمت سرانجام دیتے تھے،ان تیرہ دنوں کی جنگ کے بعدجب وہ اپنی گھرکی راہ لینے لگی توپتہ چلاکرگل اوربلتستان کے درمیان نہ ختم ہونے والی لکیرکھینچی گئی ہے اب سے کوئی بھی پارنہیں کرسکتاچاہے باپ بیٹے سے جداہواہو،بھائی بھائی سے جداہواہویاشوہربیوی سے جداہوئی ہو،وہ سرحدکے اِس پاربیٹھ کراپنے کھوئے ہوئے وطن کودیکھ توسکتے تھے مگرجاکراپنے پیارو ں سے مل نہیں سکتے تھے،بہرحال وہ اپنی دامن میں یادوں کی بستی سمیٹ کراسکردوکی گلیوں میں آنسوبہاتے ہوئے زندگی کی شمع جلانے پرمجبورہوگئے،وقت گزرتاگیاوہ اپنی خاندان اورعزیزوںکی یادمیں تڑپتارہا،ادھرسرحدکے اس پاربھی لوگ اپنے عزیزکوکھونے کی داغ کودل میں جگہ دینے پرمجبورتھے،طرفین حکومت وقت کی جانب دیکھ رہے تھے،کہ حکومت جلدویزاپالثی میں نرمی بھرتیں گے،لیکن جن کے اپنے عزیزاپنے باہو ں میں بیٹھے ہوئے ہو ں ان کودوسروں کی کیافکر،وہ اب صرف خوابوں میں ملتی ہے،اورجی بھرکررولیتے ہیں،غلام قادرایک د ن دریائے شیوک کے کنارے بیٹھ کرگیت گارہاتھا،اچانک اس کی نظردریاکے بے رحم موجوں پرکیاپڑی ایک خاتون دریاکے کنارے پڑی ہوئی ہے،جب وہ قریب جاکردیکھاتودیکھتے ہی رہ گیا،شایدقدرت کویہی منظورتھاشایدان کی نصیب میں زندگی میں کبھی ملنانہیں تھا،وہ اس کی اپنی بیوی بانوتھی،شایدوہ اپنے شوہرکی جدائی برداشت نہ کرسکی اورمصنوعی پل سے چھلانگ لگاکراپنے شوہرسے ملنے کی سعی کی گئی ،وہ ملے ضرورلیکن وجودزیست سے جان نکل چکی تھی،غلام قادرکابھائی شمشیراورساٹھ سالہ بہن حبیبہ ایک نشریاتی ادارے سے گفتگوکے دوران کہتے ہیںکہ ہم کوششوںکے باوجودنہ مل سکیں ،ہماری نصیب میں ایک دوسرے سے ملنانہیں ہے یاشایدہم بدنصیب ہے ،گورنمنٹ کرتارپوررہداری توکھول لیتے ہیں لیکن ہم اپنے خاندان سے بچھڑے ہوئے ہیں ہماری آہ پرلبیک کہنے والاکوئی نہیں ،وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کئی بارکوشش کی لیکن ناکام رہے بعدازاں بھائی کی درخواست پرہم حج کے دوران سعودی عرب میں ایک دوسرے کی دیدارکرنے میں کامیاب ہوا،ہمارانصیب یہی تھابس،اورشایدبہن اپنے بڑے بھائی سے ملے بغیرداغ اجل کولبیک کہہ جائیں گے،ہماری ملاقات اب سوشل میڈیاتک پہنچ گئی ہے،پتہ نہیں یہ سلسلہ کب تک چلے گا،یہ ویڈیوکلپ ایک تک ہزارو ں لاکھوں بارشیئرہوچکے ہیں لاکھوں ،کروڑوں افرادنے دیکھ کران کی فریادسنتے ہوئے آنسوبہائے ہیں،لیکن حکومت ہے ٹس سے مس نہیں ہورہا۔
آپ کویادہوگاپی ٹی آئی سرکارنے نظام حکومت سنبھالتے ہی کرتارپورراہدای کھول کرباباگرونانک کے چاہنے والوں کوخوشخبری دینے کی عزم کااظہارکیا،حکومت نے اس منصوبے کوفوری طورپرمکمل کروانے کیلئے دن رات ایک کیا،ٹھیک ایک سال بعدباباگرونانک کی 550جنم د ن پرکرتارپورراہ داری کھو ل کرسیکھو ں سے کیاہواوعدہ مکمل کیا،اس راہ کی کھولنے کی دیرتھی ہرطرف پاکستان کی واہ واہ ہونے لگی،ہرطرف تالیاں بجنے لگی کہ پاکستان نے دوستی میں پہل کی،پاکستان واقعی میں امن ومحبت اوربھائی چارگی چاہتے ہیں،بالکل صحیح ہم مان لیتے ہیں کہ پاکستان نے کرتارپورراہ داری کھول کرانسانیت کادرجہ پایادنیااورانڈیاکوامن کاپیغام دیا،اس پرواقعاتالی بجنی بھی چاہیے اوربجانی بھی،لیکن 1971کی دردناک جنگ کے نتیجے میں اپنے پیاروں سے بچھرنے والے خاندانوں کواپنے پیاروںسے ملنے کیلئے اقدامات کب کریں گے،کیاوہ سیکھوں سے کمترہے،کیاوہ انسان نہیں ہے یاغلام قادرجیسے لوگ جوپاکستان پرجان نثارکرنے کیلئے ہمہ وقت تیارہے وہ پاکستانی نہیں ہے؟۔
آپ کویہ بھی یادہوگاکرتارپورراہداری کے کھولتے ہی بلتستان کے ضلع کھرمنک میں لوگ اسکردوکرگل روڈکھولوتحریک کاآغازکرچکاہے،اس تحریک کی ابتداکھرمنگ بارڈرایریاسے ہوئی ہے،جواب تک پورے ضلع سمیت پورے بلتستان ڈویژن میں پھیل چکے ہیں،لوگ اپنے گھروں سے نکل رہے ہیں،لوگ اپنے پیاروںسے ملنے کیلئے ترس رہے ہیں ،لوگ حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ہمیں اپنے بچھڑے ہوئے پیاروں سے ملنے دیں،لیکن سرکارنشے میں مست ٹس سے مس نہیں ہورہا،کیایہی انصاف ہے،آخراس ملک میں دوہرارویہ کیوں ہے،کیاوہ لوگ پاکستانی نہیں؟مان لیتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے لوگ متنازعہ ہے،کیابے آئین گلگت بلتستان کے لوگوں کواپنے پیاروں سے ملنے کابھی حق نہیں،کیاوہ باباگرونانک کے چاہنے والوں سے گرے ہوئے لوگ ہے؟،صرف تبدیلی کانعرہ بلندکرنے سے کچھ نہیں ہوتاعوام کی خدمت کرنی ہوتی ہے،تب جاکے نیاپاکستان بنے گا،آپ نام سے نہیں کام سے نیاپاکستان بنائیں جس میں ہرایک کویکساں حقوق حاصل ہو۔
میں حکومت سے بس یہی کہناچاہتاہوں آپ بس غلام قادرجیسے بزرگوں پررحم کیجئے،آج بارڈرکے دونوں طرف ہزاروں غلام قادراس امیدمیں بیٹھے ہوئے ہیں کہ شایدآج نہیں توکل حکومت ہمیں اپنے خاندان سے ملنے دیں گے،ہزاروں غلام قادراس امیدکودل میں لیے اس دارجہاں سے کوچ کرگئے ہیں،آپ کواگرفرصت ملی توان ہزاروں غلام قاردجیسے مخلص پاکستانیوںکی آوازپرکان دھرنے کی کوشش کریں یہ دل میں بچھڑنے کازخم لیے آپ سے ہاتھ جوڑکراستدعاکررہے ہیں،آپ ان کی فریادسن لیجئے یہ جھولی پھیلاکرآپ کے حق میں دعائیں دیں گے،آپ اگربارڈرمکمل طورپرکھول نہیں سکتے توکم ازکم آزادکشمیراورجموں کشمیرکی طرح سکردوتاکرگل تک بس سروس چلانے کیلئے حکومت ہندسے درخواست کریں،آپ باباگرونانک کے چاہنے والوں کیلئے پوری قوت کے ساتھ اربوں روپے خرچ کرسکتے ہیں توبنی ہوئی را ہ سے منصوعی لکیرہٹاناکونسامشکل ہے،آپ یہ کردیکھائیں ،یوں آپ کوتبدیلی کااصل زائقہ محسوس ہوگا،ورنہ دوسری صورت میںاگر آپ ان کی فریادنہیں سنیں گے تویہ آپ کی تبدیلی کے جنازے کوبھی لادماریں گے،آپکوچھپنے کی جگہ نہیں ملے گی اوروہ سوشل میڈیاپراپنے پیاروںسے آنسوبھرے آنکھوں سے دیکھتے ہوئے ہم کب ملیں گے کہتے ہوئے زندگی کی سختیایاں جھیلنے پرمجبورہوجائیں گے۔

تحریر: ممتازعباس شگری

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc