سال 2019 میں کیسا رہاگلگت بلتستان؟، اہم واقعات پر تفصیلی رپورٹ۔

گلگت ۔سکردو ۔کھرمنگ (ٹی این این نمائندگان) گلگت بلتستان میں سال 2019 میں کیا سیاسی تبدیلی آئی اور چند اہم واقعات کے حوالے سے تحریر نیوز نیٹ ورک کی ٹیم نے ایک خصوصی رپورٹ مرتب کرلیا۔ ان میں اہم واقعات اور سیاسی صورتحال کے بارے ہماری ٹیم کے مطابق گلگت بلتستان کے مقامی قوم پرست جماعت کے چیئرمین عبدالحمید خان کی خودساختہ جلاوطنی اور اُن پر سنگین کے حوالے سے عوام بہت ذیادہ تذبذب کے شکار رہے۔ اُنکا گزشتہ مارچ میں اچانک پاکستان واپسی کی خبروں نے عوام کے شکوک شبہات میں مزید اضافہ کردیا۔ اُن پر سنگین الزام تھا کہ وہ سمیت اُنکی پارٹی کے دیگر ممبران سی پیک کے خلاف سازشوں میں ہندوستان سے فنڈز لیکر گلگت بلتستان کا امن خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔جب یہ غیر یقینی طور پر پاکستان پونچنے کی خبر میڈیا کی زینت بنی توگلگت بلتستان ایک بار پھر مُلکی میڈیا کی زنیت بنی اور پاکستانی میڈیا نے گلگت بلتستان سے راء کا بہت بڑا نیٹ ورک پکڑنے کا انکشاف کیا لیکن ثبوت فراہم نہیں کئے اور گلگت بلتستان کے عوام پر الزامات کی بوچھاڑ شروع کردی۔ اس واقعے کے بعدیہاں کے عوام نے پاکستانی میڈیا کے خلاف سوشل میڈیا کے زریعے بھرپور کمپئن چلایا۔ اور پھر اچانک عبدالمجید خان کو ریاست پاکستان کے اہم اداروں کی جانب سے کلین چٹ ملنے اور اُنہیں سیاست کرنے کی اجازت ملنے والی خبروں نے پاکستان میڈیا پر گلگت بلتستان کے خلاف میڈیا ٹرائل کو مزید مشکوک بنا دیا۔
گزشتہ سال گلگت بلتستان کے عوام کو اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آذاد کشمیر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان صوبہ نہیں بن سکتا ہم کسی صورت میں کشمیر کاسٹ کو نقصان پہنچانے کے متحمل نہیں ہے۔اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں گلگت بلتستان کوداخلی مختاری دینے کا وعدہ بھی پورا نہ ہوسکے۔ شاہ محمود قریشی کی بیان پر یہاں کے عوام کافی مایوس ہوئے اور اس سال بھی مزید لوگوں کو گلگت بلتستان کی حقوق پر آواز بلند کرنے پر شیڈول فور میں شامل کرلیا گیااوراس سال بھی صوبائی حکومت خالصہ سرکار زمین کا معاملہ حل کرنے میں ناکام رہےجس کی وجہ سرکار اور عوام کے درمیان زمینوں کی تنازعے پر فسادات ہوتےرہے۔ سرکار عوامی زمینوں پر قبضہ کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کرتا رہا اور عوام بھی احتجاج کرتے رہے۔ پاکستان کی تیسری بڑی پارٹی پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بلتستان کا دورہ کیا ان کے دورے موقع پر سکردو میں بہت بڑا پاور شو کیا گیا اور عوام اس بارے میں سوچ رہا تھا کہ بلاول بھٹو عوام کی امنگوں کے مطابق خطاب کرینگے مگر خطاب اس کے بالکل برعکس تھا ۔اپنے خطاب میں گلگت بلتستان کا ذکر کرنا تک گوارا نہیں کیا۔ گلگت بلتستان کی سر زمین پر خطاب کرتے ہوئے یہاں کے عوام کی مسائل پر بات نہ کرنے پر بھی کافی تنقید کا نشانہ بنا اور پاکستان تحریک انصاف نے کافی عرصے سے گلگت بلتستان میں صوبائی قیادت کوذمہ داریاں نہیں دیا تھا اور اس سال صوبائی قیادت کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق صوبائی صدر و (ر )چیف جسٹس گلگت بلتستان جعفر شاہ کو گلگت بلتستان کا صوبائی صدر بنایا اور پاکستان تحریک انصاف نے اس سال کافی لوٹوں کو اپنے پارٹی میں شامل کرلیا۔ ان میں سب سے بڑا نام گلگت بلتستان کا مولانا فضل الرحمان آغا محمد علی شاہ کو بھی شامل کرلیا جس پر بھی پاکستان تحریک انصاف کھرمنگ کی مقامی قیادت نے سخت تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اس سال گلگت بلتستان کی اہم سیاسی پارٹی کی مقامی رہنما کا رنگ ریلیاں مناتے ہوئے ویڈیو بھی منظر پر آنے کے بعد ویڈیو وائرل ہوگئی اور مسلم لیگ ن کی رہنما اور چند بیوروکریٹس کا ٹک ٹاک گرل حریم شاہ کے ساتھ نازیبا ڈانس کی ویڈہو وائرل ہوگئی اور سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔اس سال بھی گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں کے حوالے کوئی بڑا اعلان نہ ہوسکا اور وزیراعظم عمران خان نے گلگت کا دورہ کیا اسی دوران تین بڑے منصوبوں کا اعلان کیا ان میں ہرپو بجلی گھر سکردو میں دو پچاس بیڈ ہسپتال اور نیشنل گرڈ اسٹیشن کے ساتھ گلگت بلتستان کو منسلک کرنے کیلئے پروجیکٹ کا اعلان ہوا جبکہ حفیظ سرکار نے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے پچھلے چار سالوں سے بلتستان کو جو نظر انداز کرریا تھا اسی پالیسی کو برقرار رکھا اور سارا میگا پراجیکٹس گلگت میں بنا رہا ہیں جن پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ان میں نلتر ایکسپریس وے ،چار ارب گلگت کینسر ہسپتال ،گلگت دل کا سب بڑا ہارٹ ہسپتال گلگت ، اہل سنت والوں کیلئے شہید سیف الرحمان ہسپتال کو پانچ سو بیٹ ہسپتال بنایا جارہا ہے۔گلگت شہر کے تمام سٹرکوں کو جدید مشینری سے ری کارپیٹنگ کا کام جاری ہے۔ گلگت سٹی کو جدید سٹی بنانے کیلئے اربوں روپے کی خصوصی گرانٹ رکھا کر کام جاری ہے۔ اور گلگت سکردو روڈ پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ تعلیم کے شعبے میں کے آئی یو یونیورسٹی کا بلڈنگ جو اربوں روپے کی لاگت سے جدید بلڈنگ کا کام بھی تیزی سے جاری ہے بلتستان یونیورسٹی کو سیاسی اور علاقائی تعصب کا نشانہ بنایا ہوا ہے جس کی وجہ سے بلتستان یونیورسٹی کا وجود کو بھی خطرہ لاحق ہوکر ہے اور ساتھ میں بدانتظامی کی زد میں اکر نظام تعلیم بھی بری طرح متاثر ہے اور یوم شہید امام حسین دن منانے کیلئے حوالے سے فسادات ہوتے ہوتے بچ گئے اور اس سال گلگت بلتستان کا مشہور کارباری شخص حاجی اکبر خان اور بلتستان یونیورسٹی کے رجسٹرار ارشاد حسین سمیت کئی اہم بیورکریٹس اور سیاست دان وفات پاگئے۔ سال گزشتہ گلگت بلتستان کی تاریخ کا المناک حادثہ مشہ بروم کمپنی کے بس کے ساتھ پیش آیا جس میں 28 افرادجاں بحق ہوگئے لیکن کوئی تحقیقات نہیں ہوئی۔ نہ ان کو معاوضہ دیا گیا اور اس بھی سال فورس کمانڈر گلگت بلتستان سیاسی رہنماوں سے ذیادہ عوام میں مقبول رہے وزیر اعلیٰ سے ذیادہ اُنہوں نے عام عوام کو درپیش مسائل حل کرنے کی کوشش کی اور عوامی حلقوں کی جانب سے فورس کمانڈر گلگت بلتستان کو سیاسی قیادت سے ذیادہ گلگت بلتستان کے عوام کا درمند جیسے خطاب سے نوازے۔ کرتاپور کوریڈور کھولنے کے بعد گلگت بلتستان کے ہزاروں منقسم خاندانوں کی سہولت کیلئے سکردو کرگل راہداری سمیت دیگر قدیم تجارتی راستوں کو کھولنے کیلئے عوام سال بھر احتجاج کرتے رہے ۔اس حوالے سے فورس کمانڈر نے خوش خبری سُنانے کا وعدہ کیا لیکن وعدہ وفا نہ ہوسکے۔ اور خطہ لداخ سے منتخب لوک سبھا کا ممبر نے دنیا کے سب بڑے اسمبلی میں پہلی مرتبہ لداخ خپلو کرگل سکردو روڈ کھولنے کی بات کہ ساتھ میں منقسم خاندانوں کو اپس میں ملانے پر زور دیا اور ان کے تقریر کے بعد گلگت بلتستان میں موجود تمام مہاجرین کا دل بھی جیت لیا۔اور سیاح گزشتہ سالوں کی نسبت گلگت بلتستان میں اُمڈ کر آئے لیکن سہولیات کا فقدان ہوٹل مافیا اور ٹرانسپورٹ مافیا کی جانب سے سیاحوں کو لوٹنے کی شکایتوں مسلسل میڈیا پر آنے کے باوجود حکومت نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان پر میگا کرپشن اور مسلکی بنیاد پر سرکاری پراجیکٹس کی تقیسم اور نوکریوں کے بندربانٹ کے کئی سنگین الزامات پرنٹ اور میڈیا پر لگائے گئے لیکن وہ صفائی پیش کرنے میں بُری طرح ناکام رہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے گلگت بلتستان کے حوالےسے تاریخی فیصلہ سُناتے ہوئے گلگت بلتستان کو ریاست جموں کشمیر کا حصہ قرار دیا اور گلگت بلتستان کے عوام کو دیگر صوبوں کے برابر جمہوری حقوق دینے کا حکم دیا لیکن عملدرآمد نہ ہوسکے۔ اس علاوسپریم کورٹ کے فیصلے میں گلگت بلتستان کوصوبہ بنانے کے نام پر گزشتہ دہائیوں سے ووٹ لینے والے مذہبی اور سیاسی جماعتیں بے نقاب ہوگئی اور اُن کے پاس عوام کوبناتے کیلئے کچھ بھی الفاظ نہیں تھے۔ امن امان کے حوالے سے ضلع کھرمنگ گلگت بلتستان کا پرُامن قرار پایا جبکہ ضلع دیامر میں سب سے ذیادہ قتل اور منشیات برآمد ہونے کے واقعات پیش آئے۔ ضلع غذر میں معصوم لڑکے کو جنسی ذیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا اور تمام ملزمان گرفتار ہوئے۔ گلگت بلتستان میں مذہبی ہم آہنگی کیلئے عوامی ایکشن کمیٹی کا کردار نہایت شاندار رہے اور یوتھ نے گلگت بلتستان میں مذہبی تفرقے کو ہوا دیکر عوام کو لڑانے کی سازشوں کو بے نقاب کرنے میں بھرپور ادا کیا۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc