بلتستان میں سخت سردی نے تاریخ رقم کردی، حکومتی انتظامات زیرو عوام پریشان۔ سول سوسائٹی نے بڑا مطالبہ کردیا

سکردو (ٹی این این)گلگت بلتستان کے بلتستان ڈویژن کے چاروں اضلاع میں میں درجہ حرارت منفی 27 سے اوپر چلا گیا ، جب کہ بالائی علاقوں میں منفی 40ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث دریائے سندھ اور دریائے شیوک منجمد ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق اسکردو سمیت بالائی علاقوں میں برف باری کے بعد خشک سردی نے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، شدید سردی کے سبب دریائے سندھ اور شیوک سمیت تمام ندی نالے بھی جم گئے ہیں۔بالائی علاقوں میں پائپ لائنوں میں پانی جمنے سے مختلف مقامات پر پانی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے، جب کہ ضلع کھرمنگ کے کئی علاقہ جات سمیت شیلا، شغرتھنگ اور گلتری میں دواں اور غذائی قلت کا سامنا ہے۔ اسکردو، شغرتھنگ، گلتری اور شیلا کا زمینی رابطہ بھی بحال نہیں ہو سکا ہے۔ سخت سردی کے ساتھ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈینگ نے عوام کوجینا دوبھر کر کردیا جبکہ دوسری طرف ایندھن کے طور پر استعمال ہونے والے لکڑیوںاور مائع گیس سلنڈر کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ محکمہ موسمیات نے سردی کا 58 سالہ ریکارڈ بھی توڑنے کا دعویٰ کردیا اس سب صورت حال کے باوجود صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت نے بلتستان میں سردی کی ٹمپریچر کو کم دیکھا کر اپنا جان چھوڑنے کی پالیسی اپنایا ہوا ہے اور اب تک سکردو میں -27 ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ سلترو شگر کھرمنگ کے بلائی علاقوں میں -40 سے ریکارڈ کی گئی ہے اور حکام ایمرجنسی نافذ کرنے کیلئے بھی اقدامات نہ کرنا بلتستان کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے اور ایمرجنسی صورتحال میں گیس سلنڈر کی قیمت میں 400 سو کا اضافہ ہونے کے باوجود پرائس کنٹرول کمیٹی بھی خاموش ہے سکردو کے سول سوسائٹی نے اعلی حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے گیس سلنڈر اور لکڑیوں کی قیمتوں میں نظر ثانی کرتے ہوئے سبسڈی دینے کا مطالبہ کردیا ہے

About TNN-ISB

One comment

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc