بلتستان میں سردی حکام کی عدم دلچسپی

سکردو سمیت بلتستان کے طول وعرض میں سردی نے ڈھیرے ڈال دیئے ہیں،پچھلے چند سالوں کی نسبت رواں برس سردی کی شدت میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سردی کی یہ لہر جنوری کے اختتام تک برقرار رہے گی، بتایا جاتا ہے کہ پچھلے بیس سالوں کے دوران ماہ دسمبر میں پہلی بار پارہ نقطہ انجماد سے اٹھارہ درجے نیچے آیا ہے جبکہ شہریوں کے لیے جنوری مزید سخت ہونے والی ہے۔موسم سرما کے ان آیام میں شہریوں کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں،پانی کی پائپ لائینیں جمنے سے پانی کا حصول مشکل تر ہو جاتا ہے ،موسمی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں، سڑکوں پر برف جمنے سے ٹریفک کا نظام متاثر ہو جاتا ہے،خون جما دینے والی سردی سے بچنے کے لیے گھروں میں ایندھن کا خاص انتظام کرنا پڑتا ہے، گرم ملبوسات زیب تن کیے بنا گزارہ نہیں ہوتا۔ ایسے حالات میں نشیبی علاقوں کی نسبت بالائی علاقوں کے مکین دوگنی پریشانی سے دو چار ہوتے ہیں، خصوصاً جب برف باری کے بعد بالائی علاقوں کا کئی ماہ کے لیے شہر سے زمینی رابطہ منقطع ہو جاتا ہے تو اس دوران بالائی علاقوں کے مکین موسم کے سخت امتحان سے دوچار ہوتے ہیں، اس دوران ان علاقوں میں صحت اور دیگر سہولیات کی کمی کے باعث کئی ایک جان کی بازی تک ہار جاتے ہیں۔ موسم کے کڑے امتحان کا مقابلہ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی صاحب حیثیت لوگوں کی بڑی تعداد ملک کے گرم اور موسمی طور پر معتدل حصوں کا رخ کرتے ہیں، جبکہ مالی اور دیگر مجبوریاں بہت سوں کو برفیلے پہاڑوں کے بیچ ہی گزارہ کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

بلتستان میں سرد ترین ایسے متعدد مقامات ہیں جہاں سردیوں کے آیام میں پارہ نقطعہ انجماد سے 30 درجے سے بھی نیچے گر جاتا ہے، آبادی کے مناسبت سے گانچھے کا صدر مقام خپلو، سلترو گونگما،شگر میں برلداو باشہ، ارندو ،کھرمنگ میں تحصیل گلتری،ڈورو، شیلا سکردو میں شغرتھنگ وغیرہ بلتستان میں سرد ترین مقامات تصور کیے جاتے ہیں، مگر المیہ یہاں یہ ہے کہ مزکورہ تمام علاقے محکمہ موسمیات کی حدود میں شامل نہیں یا یوں کہا جا سکتا ہے محکمہ موسمیات کا سیٹ اپ صرف سکردو میں موجود ہے جس کے باعث دیگر اضلاع گلگت بلتستان میں سرد ترین ہونے کے باوجود ہمیشہ دنیا کی نظروں سے اوجھل رہے ہیں ۔یہاں ضرورت اس امر کی ہے بلتستان کے دیگر اضلاع شگر، کھرمنگ اور گانچھے میں محکمہ موسمیات کا سب سٹیشن قائم کیا جائے تاکہ ان علاقوں میں خوں جما دینے والی سردی کے حالات واضح ہو سکیں علاوہ ازیں سخت موسمی حالات کے پیش نظر حکومت کی جانب سے خصوصی اقدامات کیے جانے کی ضرورت ہے، بلکہ حالات اس نہج پر ہیں کہ مزکورہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے کر ایمرجنسی نافذ کی جانی چاہئے۔

تحریر سید لیاقت کاظمی

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc