انسانی حقوق تنظیموں کے نام کرگل لداخ کے منقسم خاندانوں کے درد ناک کہانیوں پر مبنی سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے صحافی ذولفقار علی کھرمنگی کا کھلا خط

انسانی حقوق کے ادارے متوجہ ہو..

سب سے پہلے ہم گلگت بلتستان کے سرحدی ضلع کھرمنگ کے باسیان انسانی حقوق کے لٸیے خدمات انجام دینے والے آپ تمام کارکنوں کوپیاراور انسانیت بھرا سلام عرض کرتے ہیں۔

بعد از سلام…

آپ تمام محترم کارکنوں کی توجہ گلگت بلتستان کے سرحدی علاقہ کھرمنگ میں موجود کارگل سکردو راہداری کی طویل بندش کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔

کرگل سکردو راہداری انڈیا کے زیر انتظام” جموں کشمیر لداخ اور پاکستان کے زیر انتظام. گلگت بلتستان” کو ملانے والی ماضی کی عظیم شاہراہ ہے۔

یہ شاہراہ مغل سلطنت،انگریز راج اور ڈوگرہ راج . یعنی تقسیم برصغیر تک گلگت بلتستان و لداخ خطہ “کی تجارتی سرگرمیوں کی مرکز کا حامل رہا ہے۔برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں جب “پاکستان” اور “ہندوستان” وجود میں آیا تو لداخ گلگت خطہ دو حصوں میں بٹ گیا جس طرح یہ خطہ دو حصوں میں بٹ کر ایک دوسرے کےلٸیے اجنبی بن گۓ ویسے ہی اس اہم شاہراہ کا بھی بٹوارہ ہو گیا۔جو راستہ ایک شاہراہ کی مانند رکھتا تھا اب دوسرے والےسانپ کی مانند دکھاٸی دیا۔اور اس سانپ کا نام بارڈر پڑگیا اور یہ بچھڑے ہوۓ خاندانوں کو ڈسنے لگا۔دونوں حصوں کا صرف تقسیم عمل میں نہیں آیا بلکہ اس کے نتیجے میں خونی رشتہ داریوں پر مبنی رشتوں کا بھی تقسیم عمل میں آیا۔کیا کیا نہ ہوا ۔یہاں خاندانوں کا بٹوارہ بھی ہوا۔کسی بھاٸی کے حصے میں ماں آٸی تو کسی کو حصے میں باپ ملی۔کوٸی ماموں کے ساتھ ہجرت کرنے چل پڑی تو کوئی پھوپھی اور خالہ کے ساتھ جہاں تھا وہی ڈھیرے لگاۓ۔کوٸی بہن سے بچھڑ کر بہن کا پیار ڈھونڈتا رہا تو کوٸی بھائی کو پکار پکار کے راستہ کا تعین بھی نہ کرسکا۔ کئی سینکڑوں ماٶں کی ممتا ٹھنڈی پڑی تو کوئی بیٹا عمر بھر ماں کی گودی ڈھونڈتا رہا۔شفقت پدری کا سوال ہی نہ پوچھے اس خونی لیکر نے تو ذندہ بیٹے کو زندہ باپ کے ہوتے ہوۓ یتیم قرار دیا تو باپ کے حصے میں بھی بے اولادی کا طعنہ دے دیا۔بہت ہی خاموشی سے بہتر سالہ ازیت ناک دنوں کا گزر ہوا۔ماں مری بیٹا کندھا دینےنہیں پہنچا، بہین کی شادی ہوٸی بھاٸی سہارا نہیں بنا۔ اف بیٹے کی شادی کا سوال ہی نہ کریں۔۔۔۔ باپ،عزیز خونی رشتے دار تو چھوڑیے سوہنا گاٶں کا بھی کوٸی فرد شرکت نہ کرسکا۔اس طویل عرصے میں نا جانے کتنے والدین بوڑھاپے کوپہنچے مگر اولاد سےشناساٸی نہ ہوٸی۔ماں باپ کا بوڑھاپے کا سہارا کھبی نمودار ہی نہیں ملا۔

اے انسانی حقوق کے لٸیے فراٸض سر انجام دینے والے کارکنوں.. میری بستی اور قبیلے والوں کا حال تم نہیں پوچھو گے… ؟ میری بستی میں یہ سب کچھ بیتی اور تمہیں خبر بھی نہیں ہوٸی۔اگر خبر تھی اور تم لوگ خاموش تماشاٸی بنی رہی ہے تو دنیاۓ انسانیت تجھے معاف نہیں کریگا۔اور اگر تجھے خبر نہیں ہے تو لو آج ہم نے بستی کی خبر تم پر روشناس کیا ہے۔

آج ہم نے تم پر اپنی حجت تمام کی ہے۔اگر اگررررر…

اگر تم اب بھی خاموشی سے میرے اجڑے ہوۓ بستی کا تماشہ سر عام دیکھتے رہو گے تو ہم سمجھے گے تیری عدالت کا نظام ناقص اور باطل ہے۔

ہم نے دیکھا ہے کرتاپور راہداری کھلنے پر تیرا قبیلہ جھوم جھوم اٹھا تھا۔یقین جانیے جب تمام سکھوں کو باآسانی گرونانک تک رساٸی کی خبر ملی اور سکھ یاتریوں کے چہرے پر خوشی دیکھی تو ہمارے گہرے زخم بھی بھر آۓ۔ہم بھی تیری ہی طرح جھوم جھوم اٹھے۔

کیونکہ ہم درد سمجھنےاور جاننے والے لوگ ہے۔میرے قبیلے کے مظلوموں نے اپنی مظلومیت کو بالاۓ طاق رکھ کر ہر دور میں ہر مظلوم کے لٸیے سدا بلند کی ہے۔ہمارے قبیلے نے یہ کھبی نہیں دیکھا۔مظلوم کس نسل کا ہے،رنگ کونسا اختیار کیا ہوا ہے۔ کونسی عقیدے کا پابند ہے۔بس ایک شرط رکھی مظلوم ہو بے کس و لاچار ہو،

ہماری آواز میں صرف انسانیت کا درد چھپا ہوا ہوتا ہے۔

لیکن ہم سمجھتے ہیں ہماری بے کسی و لاچاری تمہاری برگیڈ سمیت کسی اور کو نظر بھی نہیں آتی۔کیا ہم انسانی بنیادوں پر حقوق کے لٸیے آواز بلند کرنے والوں کو نام نہاد کہہ سکتے ہیں۔

اگر آپ یہ کہے۔۔۔۔ نہیں کہہ سکتا ۔۔۔۔۔۔تو بہتر سالہ راہداری بندش پر خاموشی کس زمرے میں آتا ہے۔

اے انسانی حقوق کے علمبردار..

ہم پھربھی امید لٸیے ہے

کہ تمہارا قبیلہ اپنے نام کا پاس رکھینگے۔یہاں پر بھی تیرے نظر و کرم ہو گی۔

ہم بے کس و لاچار بہتر سالہ بچھڑے ہوۓ خاندانوں کی زخموں پر مرہم لگانے کا تو بندوبست کروگی۔ہم یقین رکھتے ہیے تیرا قبیلہ نام نہاد نہیں ہوگی بلکہ اپنے نام کی طرح روشنی کا زریعہ ہو گا۔اور ہمارے اندھیر نگری کو سحر ملنے تک جدوجہد کرو گے۔

تحریر سوشل ایکٹوسٹ ذوالفقار علی کھرمنگی

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc