سکردو اور پلاٹ برائے فروخت۔ تحریر: سید ساجد حسین

کچھ عرصہ قبل راقم نے ایک آرٹیکل بعنوان پلاٹ برائے فروخت لکھا تھا جس کا مقصد استعارہ کے استعمال سے ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنا تھا ـ جس کا مرکزی خیال یہ تھا کہ بلتستان میں غیر مقامی افراد منہ مانگی رقوم دے کر زمینیں خرید رہے ہیں اور مقامی افراد بغیر چوں چراں کے بیچ رہے ہیں ـ غیر مقامی افراد کی بلتستان میں آباد کاری ایک سوچے سمجھے پلان کے تحت ہورہی ہے ـ مگر ہمارے بہت سارے دانشگردوں نے میرے تجزیہ کو نہ صرف رد کیا بلکہ اسے تنگ نظری قرار دیاـ کئی احباب اسے جدیدیت کا مرحلہ کہتے رہے اور کئی دوست اسے کاروبار کا نام دیتے رہے۔
پچھلے دنوں اسکردو سے برآمد ہونے والے مارٹر گولوں اور دیگر اسلحوں نے ہمارے موقف کی نہ صرف تائید کی بلکہ دانشگردوں کے منہ پہ طمانچہ رسید بھی کیا۔ اب بھی وقت ہے اور حالات ہمارے کنٹرول میں ہیں اگر ابھی ہوش سے کام نہ لیا تو بلتستان کو وزیرستان بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ اس ناپاک پلان میں نہ صرف پاکستان کا بالائی مراعات یافتہ طبقہ شامل ہے بلکہ ان کے آلہ کار اور ان کے مفادات کے محافظ مقامی مراعات یافتہ طبقہ بھی ہے جو اپنے آقاؤں کی ایماء پہ سرزمین امن کو خانہ جنگی کی طرف دکیلنے کے لئے سر توڑ کوشش کرہے ہیں ـ
نہ صرف بلتستان کے بلکہ گلگت بلتستان کے جوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اب مصلحتوں سے بالا ہو کر عملی میدان میں نکلیں اور تمام مظالم کے خلاف منظم جدوجہد کریں ورنہ پانی سر سے گزر جائے گا اور سوائے تف افسوس کے ہمارے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا ـ

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc