گلگت بلتستان آئینی حقوق کمیٹی شیخ چلی کی کہانی بن چکی ہے۔گلگت بلتستان کونسل عوام کے خون پسینے کی کمائی لُوٹنے کا ادرہ بن چکا۔ لگتا ہے آئینی حقوق کمیٹی کا نوٹیفکیشن بھی کیلیبری فونٹ میں ٹائپ کیا گیا ہے۔سعدیہ دانش

چلاس (تحریر نیوز )پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی سکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان آئینی حقوق کمیٹی شیخ چلی کی کہانی بن چکی ہے۔گلگت بلتستان کونسل عوام کے خون پسینے کی کمائی لُوٹنے کا ادرہ بن چکا۔لگتا ہے آئینی حقوق کمیٹی کا نوٹیفکیشن بھی کیلیبری فونٹ میں ٹائپ کیا گیا ہے۔وفاقی اور مقامی حکومت گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کا معاملہ لٹکا کر عظیم کایا پلٹ اقتصادی منصوبے سی پیک کے خلاف عالمی لابی کو سازشوں کا موقع فراہم کر رہی ہے۔آئینی حقوق کوئی پانامہ یا اقامہ نہیں کہ جس میں ہیرا پھیری کی جا سکے بلکہ یہ گلگت بلتستان کے لاکھوں عوام کے مستقبل کے تعین کا انتہائی نازک اور حساس ترین معاملہ ہے۔گلگت بلتستان پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے یہاں کے عوام نے پاکستان کی بقا،سلامتی اور استحکام کے لئے لازوال قربانیاں دیں ہیں۔آئینی حقوق گلگت بلتستان کے عوام کا بنیادی حق ہے جس میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔یہ کیسی آئینی حقوق کمیٹی ہے جس کی سفارشات کئی سال گزرنے کے باوجود وزیر اعظم تک نہیں پہنچ سکیں۔جتنے جھوٹ آئینی کمیٹی کے نام پر بولے گئے اتنا پیچیدہ تو آئینی حقوق کا معاملہ بھی نہیں۔گلگت بلتستان میں گرجنے والے نواز لیگی نام نہاد شیر وفاقی حکومت کے سامنے بھیگی بلی بن جاتے ہیں اور وفاقی سطح کے اجلاسوں میں مسلط کئے گئے فیصلوں کی تائید میں سر ہلانے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔اتنے نازک اور اہم ترین ایشو پر جھوٹ بول کر گمراہ کرنے والے گلگت بلتستان کے عوام کے مجرم ہیں۔سی پیک کا سرچشمہ گلگت بلتستان ہے مگر یہاں کے حکمرانوں کو کوئی احساس تک نہیں کہ اس اہم ترین منصوبے پر ہماری کیا حکمت عملی ہونی چاہیے۔گلگت بلتستان کونسل عوام پر ٹیکس عائد کر کے اپنی تنخواہوں اور مراعات کا بندوبست کر رہی ہے۔اراکین کونسل اپنی اے ڈی پی رشتہ داروں میں بانٹ رہے ہیں۔اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کو گلگت بلتستان کونسل کے وجود کا علم ہی نہیں۔کونسل میں موجود اراکین کو یہ تک نہیں معلوم کہ کونسل کا دائرہ اختیار اور کام کیا ہے۔ایسے میں کونسل کے اراکین صرف تنخواہ دار ملازم اور کونسل کا وجود محض ایک بوجھ سے زیادہ کچھ نہیں۔صوبائی حکومت کے وزراء خود میرٹ کی پامالی اور اپنی بے بسی اور بے اختیاری کا رونا رو رہے ہیں۔پیپلزپارٹی نے سیلف گورننس آرڈیننس کے ذریعے گلگت بلتستان اسمبلی اور کونسل کو اختیارات دئے جبکہ حفیظ سرکار بیورو کریس کے رحم کرم پر نظام چلا رہے ہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc