دیامر کے جنگلات میں موجود اربوں روپے کے چلوغوزے بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہورہا ہے لیکن کوئی توجہ دینے والا نہیں۔

چلاس( محمد قاسم) قدرت نے گلگت بلتستان کے کثیر قدرتی وسائل سے مالا مال کیا ہوا ہے لیکن بدقسمتی سے ان وسائل کو بروئے کا لانے کیلئے وسائل اور قومی درد رکھنے والے لیڈران کا فقدان ہے۔ دیامر کے قدرتی جنگلات میں چلغوزے کے درخت کثیر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔  چلغوزے کو دنیا بھر میں فیورٹ ڈرائی فروٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ چلغوزے کا درخت نہ سرد نہ گرم بلکہ درمیانہ موسمی علاقوں میں وافر مقدار میں موجود ہیں۔دور دراز کے سخت سنگلاخ چٹانوں اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں موجود چلغوزہ کا “کون'” جمع کرنا انتہائی محنت طلب کام ہےاور اس سے مکمل طور پر علاقے کا غریب طبقہ ہی مستفید ہوتے ہیں مقامی سطح پر کمیونٹی چلغوزے کے درخت کی مکمل دیکھ بال کرتی ہے اور جب چلغوزے کے کون میں موجود دانہ رنگ پکڑ کے پک جاتا ہے تو چلغوزہ کے “کون” جمع کئے جاتے ہیں۔

دیامر سے ہر سال ہزاروں ٹن چلغوزہ اندورن اور بیرون ملک درآمد کیا جاتا ہے اور اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ اس سال گمان کیا جارہا ہے کہ دو سے تین اارب روپے کا چلغوزہ فروخت کیا جا یئگا۔ مگر بدقسمتی سے چلغوزے اس سے دو گنا ضیاع ہو جاتے ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کی حکومتی سطح چلغوزے کی بروقت عالمی مارکیٹ تک رسائی اور ضیاع اور خراب ہونے سے بچانے لے اقدامات کریں تو گلگت بلتستان کی معیشت پر مثبت اثر پڑھ سکتا ہے۔

حکومت کو چاہئیے کہ چلغوزہ کے درخت کے حفاظت کے اور اندرون اور بیرون ملک منڈی تک رسائی کرنے میں اقدامات کریں

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc