گلگت بلتستان پر غیر قانونی ٹیکسز کی نفاذ کے حوالے سے قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر کا متنازعہ بیان عوام دشمن اور غریب کش پالیسی پر مبنی ہے ۔عوامی حلقے

سکردو( تحریر نیوز) اسپیکر قانون ساز اسمبلی فدا محمد ناشاد نے گلگت بلتستان پر وفاق کی جانب سے ٹیکسز کی نفاذ کے حوالے سے کہا تھا کہ ٹیکس ہم نے نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کے دور میں لگایا تھا اور اُس وقت ہم نے احتجاج کی تھی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ اُنہوں نے کہا اُس وقت پیپلزپارٹی چاہتی تو فیصلہ واپس لے سکتی تھی لیکن اُنہوں نے ایسا نہیں کیا اور آج اس ٹیکس کے خلاف بات کرتے ہیں جوکہ آج کے تناظر میں ممکن نہیں ،مقامی حکومت اس حوالے سے وفاقی حکومت کے احکامات پر عمل درآمد کے پاپند ہیں۔ اُنکے اس بیان پر گلگت بلتستان کے عوام میں غم غصہ پایا جاتا ہے عوام کا کہنا ہے کہ کس قسم کے لوگ ہیں جو عوام سے ووٹ لیکر عوام پر ظالم نظام مسلط کرنے اور غیر قانونی ٹیکسز کی نفاذ کیلئے دیوار بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے سیاسی ،مذہبی جماعتوں،طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے لوگوں کی جانب سے شدید خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان آئینی نہیں بلکہ انتظامی طور پر پاکستان کے زیر انتظام ہیں لہذا جب تک گلگت بلتستان کی قسمت کا فیصلہ قانونی اور آئینی طریقے سے نہیں ہوتے یہاں پر کسی بھی قسم کی ٹیکس کا نفاذ غیرقانونی ہے۔ سول سوسائٹی کے ایک ممبر کا کہنا تھا کہ وفاق کو گلگت بلتستان کے عوام پر ٹیکس لگانے کا اتنا ہی شوق ہے تو پہلے ہمیں شہری حقوق دیں، ایک صحافی کہتے ہیں کہ فدا محمد ناشاد کی سیاست لوٹا کریسی اور مفادات کے گرد گھومتی ہے اگر وہ اس قدر بے بس ہیں تو عہدے سے استعفاء کیوں نہیں دیتے۔ پیپلزپارٹی کے ایک رہنما کا کہنا ہے کہ ناشاد اس حوالے سے عوام کو گمراہ کر رہا ہے پیپلزپارٹی کے دور میں بات چیت ضروری ہوئی تھی لیکن کئی اراکین کونسل کی مخالفت کی وجہ سے اس غیرقانونی ٹیکس کو لگایا نہیں جاسکا تھا جسے آج عوام پر مسلط کیا جارہا ہے۔ بلتستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ایک رہنما کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندے اس قدر بے اختیار اور بے بس ہیں تواُنہیں حکمرانی کا کوئی حق نہیں۔عوامی ایکشن کمیٹی کے چیرمین نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اس قسم کے ٹیکسز کا نفاذ دراصل ہمارے عوام کی کم علمی اور لاشعوریت کا نتیجہ ہے جنہیں گلگت بلتستان کی بین الاقوامی سٹیس اور اپنے حقوق کا ادراک نہیں اور ہمیشہ عوام دشمن عناصر کو لیڈر سمجھ کو ووٹ دیتے ہیں۔ عوامی ایکشن تحریک کے چیرمین اس حوالے سے کہتے ہیں گلگت بلتستان میں ایک طرح سے کالونیکل نظام رائج ہیں جس میں چند افراد کو مراعات سے نواز کر اجتماعی حقوق کا گردن دبایا جاتا ہے ۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc