گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ فسادات اور سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزی میں پیپلزپارٹی کا کردار، ہوشرباء انکشافات۔

سکردو( ٹی این این تحقیقاتی رپورٹ) تقسیم ہند کے وقت اور اس سے پہلے انگریز دور حکومت میں 1947 سے 1957 کے درمیان شیعہ اور سنی تنازعات کو جڑ سے اکھاڑپھینکنے میں عنقریب کامیاب ہوچکے تھے۔ مسلم فیملی لاء کے ذریعے دونوں کے اختلافات کی بنیادی وجوہات جانتے ہوئے نہ صرف تہہ تک پہنچ گئے تھے بلکہ اس کے خاتمے اور آپس کی ہم آہنگی کے بہت قریب تر پہنچ چکے تھے۔ ساتویں سنچری کے بوئے ہوئے نفرت کے بیج کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کےبہت قریب تھے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انگریز کے نزدیک اس تنازعے کا حل بہت ضروری اور اہم تھا۔
نومبر 1947 کو جب گلگت بلتستان پاکستان کے زیر انتظام چلاگیا اور اس کے فور ا 16 نومبر 1947 کے بعد ہی یہ طے ہوچکا تھا کہ اس خطے کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کیا جائے اور اس پر من و عن عمل کیا جائے مگر عملا ایسا نہیں ہوا۔ تب سے لیکر 2009 کے آرڈنینس آرڈر تک بیشتر موقعوں پر سیاسی قوتوں بلخصوص پاکستان پیپلز پارٹی کی لیڈرشپ بلخصوص ذوالفقار علی بھٹو نے فرقہ وارانہ فساد کی دوبارہ سنگ بنیاد ڈال دی تھی۔ چونکہ بھٹو کو اس بات کا ادراک تھا گلگت بلتستان کے لوگ کسی بھی اہم ایشو پر کبھی ایک اور یک زبان ہونے کو کبھی ترجیح نہیں دیتے جس کا فائدہ اٹھا کر اس نفرت انگیزی کا دوبارہ آغاز کیا گیا۔ اور اس نفرت کو دوبارہ زندہ کیا جسے انگریز سرکار بڑی کاؤشوں سے ختم کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔اسی طرح ستر کی دہائی میں اور پھر 1974 میں ایف سی آر کا خاتمہ اسی نفرت کا پھل ہی تھا جسے بو کر ذوالفقار علی بھٹو نے کئی سالوں پر محیط نفرتوں کو نہ صرف ہوا دیا تھا بلکہ اس کو عملی جامہ پہنانے میں اپنا بھرپور کرداراداکردیا۔ ایف سی آر کے خاتمے کے بعد جب ڈسٹرک کا قیام عمل میں آیا تب بھی اس بات کو مزید تقویت ملی کہ فرقہ وارانہ نفرتیں نہ صرف مزید بڑھی بلکہ ایسے دل دہلانے والے واقعات رونما ہونے شروع ہوئے کہ دونوں مسلک پیروکار بھی اس عمل سے پریشان تھے کہ آخر اچانک یہ سب کیسے ہوا۔ یوں بھٹو نے اپنے خو د کی پھیلائی ہوئی انارکی اور فرقہ وارانہ نفرتوں کا فائدہ اٹھا کر اسٹیٹ سبجیکٹ رول کی سنگین خلاف ورزی شروع کردی۔ اور ملک بھر سے غیر مقامی افراد کی گلگت میں بڑے پیمانے پر آباد کاریاں شروع کی۔ مُلک بھر سے کثیر تعداد میں لوگوں کو وہاں زمینیں بانٹی گئی۔ اس طرح اس فساد اور آپسی لڑائی کو کئی سالوں تک برقرار رکھا گیا۔ آرڈر 2009 بھی اسی تسلسل کا شاخصانہ تھا۔ جس کے نفاذ کے بعد گلگت بلتستان میں شیعہ سنی تصادم قابو سے باہر ہوگیا تھا۔

نوٹ: یہ رپورٹ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کی جانب گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ تصادم کے حوالے سے جاری انگریزی میں تحقیقاتی کتابچہ (Sectarian conflict in Gilgit-Baltistan)کے صفحہ نمبر 13 پر موجود ہے اور اس کتابچے کو پلڈاٹ نے مئی 2011 میں شائع کی تھی جسے انٹرنیٹ سے بلکل مفت ڈاون لوڈ کیا جاسکتا ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc