سی پیک گلگت بلتستان کی خوش حالی کی علامت ہے،امریکہ نے پاکستان کو نہیں گلگت بلتستان کو دھمکی دی ہے۔ گلگت بلتستان کسی دستور کے محتاج نہیں۔ ترجمان حکومت گلگت بلتستان

گلگت ( تحریر نیوز) انور مقصود کا ایک شعر ہے کہ، سُنا ہے جنگلوں میں بھی کوئی دستور ہوتے ہیں مگر آج ترجمان حکومت گلگت بلتستان نے واضح کر دیا کہ گلگت بلتستان میں جنگل جیسا قانون بھی نہیں بلکہ کچھ لوگوں کے مراعات کو ہی دراصل اس خطے کے حقوق میں شمار کیا جاتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثت اور سی پیک پر بات پر بیان کے رد عمل میں حکومت گلگت بلتستان کے ترجمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک گلگت بلتستان کی خوش حالی کی علامت ہے،امریکہ نے پاکستان کو نہیں گلگت بلتستان کو دھمکی دی ہے۔ گلگت بلتستان کسی دستور کے محتاج نہیں۔ جبکہ حکومت پاکستان اور چین واضح انداز میں اس بات کو کہہ چُکے ہیں کہ متنازعہ حیثیت کے سبب گلگت بلتستان میں صنعتی زون بنانا ممکن نہیں۔

یاد رہے اُنکے اس بیان کی قانونی طور پر کوئی اہمیت اور حیثیت نہیں کیونکہ یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے اور پاکستان چین دونوں اس بات سے متفق ہیں کہ متنازعہ خطے سے سی پیک جیسے اہم پراجیکٹ کو گزارنے کیلئے اس خطے کی حیثیت کو واضح کرنا بہت ضروری ہے۔ لیکن جس انداز میں ترجمان نے چھوٹی منہ بڑی بات کرکے نہ صرف دنیا حیران کردیا بلکہ یہ بات بھی دنیا پر واضح ہوگئی کہ متنازعہ خطوں میں کس طرح مراعات یافتہ طبقہ ذاتی مفادات کیلئے قوموں کو گمراہ کرتے ہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc