سی پیک کے حوالے سے امریکی حکومت کے بیان پر گلگت بلتستان کے نواجوان نسل مقامی اور وفاقی حکومت برس بڑے۔ سوشل میڈیا پر محاذ جنگ کا سماں پیش کر رہا ہے۔

اسلام آباد (تحریر نیوز سروے) ٹرمپ انتظامیہ نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی گلگت بلتستان سے گزرگاہ ہونے پر مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پراجیکٹ کو ایک متنازع خطے سے گزارا جارہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی سیکریٹری اسٹیٹ جیمز میٹس نے سینیٹ آرمڈ کمیٹی کو بتایا کہ چین کا منصوبہ ’ون بیلٹ ون روڈ (سی پیک جس کا حصہ ہے)‘ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقے سے گزر رہا ہے جو کہ اپنی من مانی کر کے خود ہی اپنی کمزوری ظاہر کر رہا ہے۔

یہ خبر جب سے پاکستانی میڈیا پر چلنے کے بعد سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان کے نواجوانوں اور عوام نے گلگت بلتستان کے مقامی حکومت کو شدید تنقید کا نشانا بنایا جارہا ہے کیونکہ گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے باوجود مقامی حکومت گلگت بلتستان کو ایک فریق کے طور پر پیش کرنے میں ناکام رہے اور مقامی اخبارات میں مسلسل اس اہم پراجیکٹ سے گلگت بلتستان کو ملنے والے فوائد کے حوالے سے جھوٹ بولتے رہے۔ ایک کالم نگار لکھتے ہیں کہ ہم نے بار بار حکومت گلگت بلتستان کو بتانے کی کوشش کی کہ اس خطے کی متنازعہ حیثیت کو واضح کئے اور یہاں کے عوام کو فریق بنائے بغیر سی پیک کی گزرگاہ سے دشمن کو موقع ملے گا اور آج وہی ہوا، ایک اور سوشل ایکٹویسٹ لکھتے ہیں کہ ہم اب اس انتظار میں ہیں کہ حکومت گلگت بلتستان امریکی حکومت کے خلاف ایکشن لیں اور غداری کے مقدمات درج کرائیں کیونکہ گلگت بلتستان میں جو بھی لوگ متنازعہ حیثت کے مطابق حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں اُنہیں کسی نہ کسی طریقے سے زدکوب کیا جاتا ہے جھوٹے مقدمات بنائے جاتے ہیں، گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک  محقق اپنے وال پر لکھتے ہیں کہ جب ہم اپنے آئینی حقوق کا مطالبہ کرتےہیں تو وفاق ہمیں جھڑک کے پیچھے دھکیل دیتی ہے کہ جی بی کی حیثیت متنازعہ علاقے کی ہے۔ ہر وزیر و مشیر اور سیاستدان یہی بیان دیتے نہیں تھکتے۔ہم جب اپنے مطالبے پر کچھ اصرار کریں تو ہمیں وفاق سے غداری کی سند عطا کی جاتی ہے۔ پھر کاتب تقدیر ایسے سرپھروں کے لیے سلاخوں یا زبان بندی کا راستہ دکھا دیتے ہیں،آج بھی علاقے کی معروف سیاسی و سماجی شخصیات جناب بابا جان، حسنین رمل سمیت کتنے ایسے لوگ جیلوں میں بند ہیں جن کا جرم محض اپنے آئینی و سیاسی کا مطالبہ ہے۔ ایک کالم نگار اپنے وال پر لکھتے ہیں اس ایشو پر لکھنے کے جرم میں مقامی پرنٹ میڈیا پر میرے کالم کی اشاعت پر غیراعلانیہ پابندی ہے جبکہ لفافہ صحافیوں کے ذریعے مجھے بدنام کرنے کی کوشش بھی کئی لیکن آج جب امریکہ کو بولنے کا موقع ملا تو مقامی حکومت کے زبان پر تالا نظر آتا ہے۔ایک اور لکھاری اپنے والا پر لکھتے ہیں کہ اقتصادی راہداری کے بل بوتے پر پاکستان کو جنت بنتے تو نہیں دیکھ سکتا البتہ یہ ایک عظیم منصوبہ ہے جس کاسب سے زیادہ فائدہ ہمارے ہمالیہ سے زیادہ بلند دوست چائنہ نے سمیٹنا ہے اور ضمنا ہم بھی اس کے ثمرات لوٹنے کے چکروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کا گیٹ وے گلگت بلتستان کی بے آئین سرزمین ہے جو کہ ریاستی طورپر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے یہ اور بات ہے کہ جی بی کے عوام کی اکثریت گذشتہ سات دہائیوں سے آئینی پاکستانی بننے کی خواہش لے کردم توڑچکی ہیں اور موجودہ نسل بھی اس پر نازاں ہیں کہ ہمارے آباواجداد نے آذادی کے بعد پاکستان سے الحاق کیا کی کہانی سے پریشان ہیں۔ ایک اور لکھاری اپنے وال پر لکھتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام نے جب سی پیک میں تیسرے فریق۔نعرہ لگایا تو طاقتور پاکستانیوں نے ہماری خواہشات و مفادات کو نیشنل ایکشن پلان اور شیڈول فور کے قوانین کا استعمال کرکے روند ڈالا۔ ہم سی پیک میں دئے جانے والے منصوبوں سے خوش اور مطمن ہرگز نہیں۔ زبردستی اور بذریعہ طاقت اور مجھے دیوار سے لگا کر معاہدے عوامی جمہوریہ چین سے کئے گئے۔ مجھے نظر انداز کردیا گیا۔ میرے کٹھ پتلی ممبران آپنے آقاؤں کے فیصلے پر خاموش رہے۔ میری دھرتی کے سرفروں نے زیادتیوں پر آواز بلند کی تو انکو جیل میں ڈالا گیا۔ کچھ کو شیڈول فور کے شکنجوں میں پھنسایا گیا۔

اس طرح گلگت بلتستان کی نئی نسل خاص طور پر باشعور نوجوان نسل میں اس حوالے سے شدید غم غصہ پایا جاتا ہے کیونکہ اگر گلگت بلتستان کو متنازعہ حیثیت کو واضح کرتے ہوئے بین القوامی قوانین کے مطابق اس خطے کو حقوق دیکر یہاں سے سی پیک گزارئیں تو پاکستان دشمن عناصر کو کبھی بولنے کا موقع نہیں ملے گا کیونکہ گلگت بلتستان کے عوامی کی دھڑکنیں پاکستان کے ساتھ ڈھرکتی ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc