حکومت کی بڑی کامیابی، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/ٹی این این) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہو گئی ہے جس پر حکومتی اراکین کی جانب سے نعرے بازی اور صادق سنجرانی کو مبارکباد پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ اپوزیشن بنچوں پر خاموشی چھائی ہے۔ صادق سنجرانی کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک کے حق میں صرف 50 ووٹ ملے اور ایک چوتھائی ووٹ نہ ملنے کی وجہ سے تحریک کو ناکام قرار دیدیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی تاریخ میں پہلی بار چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کو عہدے سے ہٹانے کی قراردادوں پر رائے شماری ہوئی ہے۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش کی جس کی تصدیق کیلئے ووٹنگ کرائی گئی اور 64 اراکین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر راجہ ظفر الحق کی قرارداد کی حمایت کی۔اراکین کی جانب سے قراداد کی حمایت کے بعد پریزائیڈنگ افسر نے اراکین کو تحریک عدم اعتماد کیلئے ووٹنگ کے طریقہ کار سے آگاہ کیا۔اپوزیشن کی جانب سے مسلم لیگ ن کے سینیٹر جاوید عباسی اور حکومت کی جانب سے نعمان وزیر کو پولنگ ایجنٹ مقرر کیا گیا۔چیئرمین سینیٹ کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک کیلئے کل 100 ووٹ کاسٹ ہوئے جبکہ تین اراکین سراج الحق، مشتاق احمد اور چوہدری تنویر غیر حاضر رہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چوہدری تنویر بیرون ملک ہونے کے باعث ووٹ کاسٹ نہیں کر سکے جبکہ جماعت اسلامی کے دو سینیٹرز سراج الحق اور مشتاق احمد نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بیرسٹر سیف نے اعلان کیا کہ صادق سنجرانی کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک کے حق میں 50 اراکین نے ووٹ دئیے ہیں اور متعلقہ ایک چوتھائی ووٹ نہ ملنے کی وجہ سے قرارداد ناکام قرار دی جاتی ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc