نگر کا سب سے بڑا گاؤں اور مین ٹاؤن ایریاء میں پینے کے لئے پانی کا کوئی موثر نظام موجود نہیں ، ٹاؤن ایریاء چھلت پائین میں چار ہزار سے زیادہ آبادی ہے لیکن صاف پانی کے لئے علاقے کی عوام پچھلے تیس سالوں سے پریشان حال۔

نگر (تحریر نیوز) نگر کا سب سے بڑا گاؤں اور مین ٹاؤن ایریاء میں پینے کے لئے پانی کا کوئی موثر نظام موجود نہیں میں ٹاؤن ایریاء چھلت پائین میں چار ہزار سے زیادہ آبادی ہے لیکن صاف پانی کے لئے علاقے کی عوام پچھلے تیس سالوں سے خود ہی دربدر ہو رہی ہے۔آج سے بارہ برس قبل بالائی مقام بونگسلائی سے ایک این جی اور کے خصوصی تعاون سے صاف پانی کا نظام قائم کیا گیا لیکن کئی سال گزرنے کے باوجود اس نظام میں ایک روپے کی تبدیلی یا اضافہ نہیں کیا گیا لیکن نگر میں سب سے برا گاؤں ہونے اور اندرونی آبادی میں سو فیصداضافہ اور باہر سے ہجرت کرکے آنے کے باوجود اس سسٹم میں ایک اینچ کا بھی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ بعضعلاقوں میں پانی نصف رات گئے تک بھی دستیاب نہیں ہوتا۔کیوں کہ علاقے میں بڑی ٹینکی کے قریبی علاقوں میں گھروں میں پانی اان کیا جاتا ہے تو کئی کلومیٹر دور گھھرانوں کے لئے پانی پہنچ ہی نہیں جاتا،عوام علاقہ نے صاف پانی کی کمی پر قابو پانے کے لئے منصوبہ بندی کر رکھی ہے کہ ہینے کے صاف پانی کو واش روم میں استعمال نہیں کیا جائیگا۔ عومی حلقوں نے محکمہ تعمیرات عامہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پانی نظام کی بہتری اور عوام کو مساوی طریقے سے پانی پہنچانے کے لئے کم تین ملازم جن میں ایک پلمبر اور دو چوکیداروں کو بھرتی کیا جائے۔ پانی کی کمی اس لئے بھی ہو رہی ہے کہ بعض علاقوں میں زیر زمین دفن شدہ پائپوں میں کسی بھی طرح خرابی پیدا ہو چکی ہے۔اس خرابی کو دور کرنے کے لئے پچھلے دس سالوں سے علاقے کی عوام اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں سے پائی پائی اکھٹی کر کے ٹھیک کرر ا رہے ہیں۔ اتنے بڑے پانی کے منصوبے پر جب تک مذکورہ تینوں ملازمین کی مستقل ڈیؤٹی نہیں ہوگی تب تک آنے والے وقتوں میں پانی کی کمی کا مسلہ گھمبیر ہوتا جائے گا۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے کے اس دیرینہ اور اہم مسلے کی طرف ارباب اختیار فوری غور کریں تاکہ عوام کو صاف پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc