سکردو سے لداخ کیلئے350 کلومیٹر طویل زیرزمین راستہ دریافت،سوشل میڈیا پر تہلکہ مچ گیا۔

سکردو(ٹی این این ) بلتستان کے معروف مزاحیہ بلتی اداکار علی کاظم گولڈن نے گزشتہ روز اپنے سوشل میڈیا فیس بُک میں ایک ویڈیو اپلوڈ کیا ہے جس میں اُنہوں نے بلتستان میں ایک تاریخی غار دریافت ہونے کا انکشاف کیا ہے۔ اُن کے مطابق یہ تاریخی زیر زمین راستہ اسکردو شہر سے تقریباً 15کلو میٹر کے فاصلے پر مغرب میں گمبہ سکردو تھیور کے پہاڑی علاقے میں موجود ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس غار سے پرانے زمانے میں سکردو سے کرگل لداخ آمدرفت کا راستہ موجود تھا اورہمارے بزرگوں کے مطابق لوگ لکڑی کے مشعل جلا کر سفر کیا کرتے تھے اور کافی عرصے پہلے سفر کرنے والے بھی موجود تھے جو اب دنیا سے رخصت پاگئے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق اس طویل زیر زمین سرنگ کی لمبائی کم از 350کلو میٹر تک ہو سکتا ہے اور عین ممکن ہے اس کوبلتستان کے کسی بادشاہ نے اپنے کسی جنگی مقاصد کے لئے تعمیر کرایا ہو لیکن تاریخ بلتستان میں اس غار کے بارے میں کوئی ذکر نہیں۔ مقامی کلچرل اداکار علی کاظم کے مطابق اُنہیں پچھلے سال ایک چینی سیاح خاتون کے ذریعے اس بات کا علم ہوا جو خصوصی طور پر اس غار کی تلاش میں چین سے آئی تھی۔ اُنکا کہنا تحا کہ چینی سیاح خاتون نے انکشاف کیا کہ( سنگ سنگ کاژے ) جو بلتی زبان میں اس طویل زیر زمین راستے کا نام ہے،کا ذکر چینی تاریخی کتابوں میں موجود ہے۔ مقامی لوگوں کااس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ وہ غارکے اندر تقریباً گھنٹے تک اندر سفر کر چُکے ہیں اور اس زیر زمین راستے میں کئی مقامات پر سڑھیاں اور بیٹھنے کیلئے جگے بھی بنائے ہوئے ہیں اور اس زیر زمین تاریخی راستے سے چھے فٹ کا شخص باآسانی کھڑا ہو کر گزر سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بڑا چرچا ہے لیکن محکمہ آثار قدیمہ گلگت بلتستان کی جانب سے ابھی تک اس طویل زیر زمین غار کی حقیقت معلوم کرنے کیلئے اقدامات نہیں اُٹھایا گیا ہے حکومت کو چاہئے کہ اس حوالے سے تحقیق کریں اور اگر واقعی میں اس طویل زیرزمین راستے کی کوئی حقیقت ہے تو یہ بلتستان کا تاریخی ورثہ بن سکتا ہے اور بین الاقوامی سطح میں سیاحت کی فروغ کیلئے بھی فائدہ ہوگا۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc