عمائدین اسقر داس نگر مسائل کی شنوائی نہ ہونے پر نگر پریس کلب پہنچ گئے،صحافیوں کو اپنی مسائل کی روئیداد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پچھلے ڈیڑھ سال سے مسلسل ایل جی آر ڈی ،اے ڈی ڈیزاسٹر اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے بیسیوں چکر لگا کر بیسیوں ہزار روپے اور قیمتی وقت صرف کر چکے لیکن ڈیزاسٹر کے مد میں منظور شدہ رقم صرف ساڑھے چھہ لاکھ روپے نہیں مل سکے ۔

نگر (اقبال راجوا) عمائدین اسقر داس نگر مسائل کی شنوائی نہ ہونے پر نگر پریس کلب پہنچ گئے۔ عمائدین اسقرداس ایک بڑا وفد سابق آزاد امیدوار حلقہ ۵ نگر محمد حسین کی سربراہی میں ضلعی ہید کوارٹر پہنچے جہاں ،مسائل کی شنوائی نہ ہوئی تو پریس کلب پہنچ گئے۔ صحافیوں کو اپنی مسائل کی روئیداد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پچھلے ڈیڑھ سال سے مسلسل ایل جی آر ڈی ،اے ڈی ڈیزاسٹر اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے بیسیوں چکر لگا کر بیسیوں ہزار روپے اور قیمتی وقت صرف کر چکے لیکن ڈیزاسٹر کے مد میں منظور شدہ رقم صرف ساڑھے چھہ لاکھ روپے نہیں مل سکے ۔ ڈپ ٹی کمشنر کے پاس جاتے ہیں تو ڈپٹی کمشنر ہدایات دے کر ایل جی آرڈی یا اے ڈی ڈیزاسٹر کے دفتر بھیجتا ہے جہاں سے ہمیں بتایاجاتا ہے کہ پیسے نہیں ہیں کیا کیا جائے ،ڈی سی نے تحریی حکم نہیں دیا ہے ،تو کبھی اے ڈی ڈیزاسٹر کی یہ فرمائش کی کہ میری گاڑی میں تیل نہیں یا میرے جانے کے بعد بھی کام نہ ہوجائے جیسے بہانے تو کبھی کچھ بہانہ تو کبھی کچھ ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈیڑھ برس تک ان بذرگوں کو تمام دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود کس وجہ سے ٹرخای جاتا ہے؟ عمائدین کا کہنا تھا کہ پچھلے جون میں شدید طوفانی برشوں نے اسقرداس کی بڑی آبادی کو آباد کرنے والا چینل تباہ کیا تھا جس کا موقع ملاحظہ کرتے ہوئے مسئلے کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے سابق ڈپٹی کمشنر نگر محمد آصف رضا نے اسقر داس کی عمائدین کو فوری طور پر کام شروع کر کے پانی بحال کرکے فصلیں اور قیمتی درختان کو بچانے کے لئے اقدامات کی اور ڈی سی نے اپنی جانب سے درکار پائپ اور سیمنٹ کا خرچہ فراہم کرنے کا زبانی حکم دیا تھا۔ عمائدین نے کہا کہ کام مکمل کرنے کے ساتھ ڈی سی کے تحریری احکامات کے مطابق اس وقت ہنزہ میں اور بعد از آں نگرمیں ایل جی آرڈی دفتر اور بعد میں ڈیزاسٹراآفس ہنزہ میں تمام ضروری دستاویزات کی تحریر و تصدیق مکمل کرا لی گئیں اور ضلع گلگت سے مختلف دکانداروں سے ادھار کر کے درکار پائپ اور بتی بارود اور سیمنٹ وغیرہ کو ادھار لاکر آبادی کے لئے پانی بحال کی گیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک ہم مسلسل ان تینوں دفاتر میں ہم کم از کم بیسیوں مرتبہ وفد وں کی شکل گاڑیاں بھر بھر کے آتے رہے ہیں لیکن آج بھی ہمیں اسی تیکونہ چکر میں ڈال کر چکر دیا جارہا ہے۔ ہمارے حلقے کے ممبر اسمبلی صرف کسی گھر میں فاتحہ خوانی کے دن ہی آتے ہیں ۔ہم نے ان سے بھی کئی بار رابطہ کیا اورصرف آج تک وعدے اور ٹیلیفونوں پہ یقین دہانیاں ہی ملتی رہی ہیں۔ آخر کار ہم میڈیا کے پاس آئے ہیں۔ میڈیا میں مسلہ حکام بالا تک پہنچانے کے بعد حل نہ ہونے کی صورت احتجاج پر مجبور ہونگے۔ عمائدین جن میں نوے سال تک کے بزرگ بھی تھے انہوں نے کہا کہ ہمیں تو بتایا گیا تھا کہ ضلع بننے کے بعد زیادہ پیسے آئیں گے اور مسائل زیادہ اور جلدی حل ہونگے لیکن ہمیں ایسا نظر نہیں آرہا ہے۔ صحافیوں نے عمائدین کی پریشانی کے سبب ممبر اسمبلی حاجی رضوان علی سے بھی رابطہ کیا جس پر ممبر اسمبلی نے صحافیوں کو یقین دہانی کرا دی کہ حکام بالا سے اس معاملے پر بات کر کے فوری طورپر حل نکالا جائے گا۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc