یونیورسٹی آف بلتستان کا وجود خطرے میں پڑ گیا، بلتستان کے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

سکردو(ٹی این این) یونیورسٹی آف بلتستان سکردو کا وجود خطرے میں پڑ گیا یونیورسٹی جوان ہونے سے پہلے ہی سیاسی اکھاڑہ اور سازشوں کا گڑھ بن گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر ارشاد مرحوم کی وفات کے بعد سے یونیورسٹی دن بدن کسی نہ کسی سازش کا شکار ہوتا جا رہا ہے اور اس وقت یونیورسٹی کی وجود بھی خطرے میں ہے۔ ۔
ذرائع کے مطابق نئے رجسٹرار وسیم اللہ جان ،جو ذاتی طور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کا قریبی تعلق دار ہے، نے ذاتی مفادات کی حصول کیلئے ایک خطرناک کھیل کھیلا ہے جو کہ اس یونیورسٹی کی وجود کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ رجسٹرار کی تعیناتی کا عمل بھی چونکہ سفارش اور سیاسی اثر رسوخ کی بنیاد پر ہوئی ہے اور اُن کی تعیناتی کیلئے بلتستان کے نامی گرامی پروفیسرنے اپنے ذاتی مقاصد اور مراعات حاصل کرنے کیلئے کاندھا دیا اور اُنہوں نے اپنا داماد جو کہ پہلے ہی انگلش ڈپارٹمنٹ کا ایچ او ڈی ہے ،جنہیں ڈپٹی رجسٹرار بنوا کر اور اپنے بیٹے کو بطور لیکچرار تعینات کروا کر مفادات تو حاصل کرلیا لیکن یونیورسٹی کا وجود اس وقت شدید خطرے میں ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہموجودہ رجسٹرار نے آتے ہی بلتستان یونیورسٹی کے خلاف سازشوں کا جال بچھانا شروع کردیا۔ نئے منتخب ہونے والے رجسٹرار نے اپنے مستقل طور پر رجسٹرار کے عہدے پر براجمان رہنے کی خاطررجسٹرار کی پوسٹ پر تعیناتی کوتاخیر کرنے کیلئے ڈسی سی شگر جو کہ ان کا خاص ہے، کے پاس جا کر ایک خط ڈی سی سکردو کو لکھوایا جس میں یونیورسٹی زمین کو متنازعہ بناتے ہوے شگر والوں کا بھی حق ہونے کا دعویٰ کروا یا اور یوں شگروالے بلتستان یونیورسٹی کے مختص زمین کی ملکیت کے حوالے سے کورٹ چلے گئے۔ پروگرام کے مطابق بلتستان یونیورسٹی کی نئی عمارت کی تعمیر کا کام جون میں شروع ہونا تھا جو کہ اس وقت ناممکن لگتا ہے کیونکہ معاملہ اس وقت عدالت میں ہے۔ اگر ایسا ہوا تو شنید ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ فنڈز واپس چلاجائے اور بلتستان یونیورسٹی کا خواب ادھورا رہ جائے گا اور بلتستان یونیورسٹی کے تعمیراتی کام رُک جاتے ہیں تو اسکا اصل ذمہ دار سکردو کے معروف پروفیسر اور وائس چانسلر ہوگا کیونکہ نئے رجسٹرار کی تعیناتی کے عمل میں میرٹ کی پامالی کرتے ہوئے تعینات کرنے میں اُنکا براہ راست سیاسی اثر رسوخ کا استعمال سفارش اور ہاتھ ہے۔ رجسٹرار تعیناتی سازش کو کاندھے دینے والے اس وقت بلتستان یونیورسٹی کے خلاف سازشوں کو روکنے کیلئے نیند حرام کرنے کوششوں میں مصروف ہے لیکن معاملہ عدالت پہنچنے کے بعد صورت حال کچھ اچھا نظر نہیں آرہا۔
گورنر گلگت بلتستان کو اس سنگین صورت حال کا جائزہ لیکر بلتستان یونیورسٹی کے خلاف سازش کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc