گلگت بلتستان کو منظور پشتین کی ضرورت ہے ۔۔؟

حالیہ دنوں میں گلگت بلتستان سے یہ خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ ایک خاص ٹوپی ( جسے پشتون تحفظ موومنٹ کے عروج سے شہرت ملی ) کے خرید و فروخت پہ پابندی لگائی گئی ہے ۔ گلگت بلتستان کے نوجوانوں نے سوشل میڈیا پہ انتظامیہ کے اس عمل کی بھرپور مخالفت کی لیکن ایک جملہ بارہا پڑھنے اور سننے کو ملا کہ ” گلگت بلتستان کو منظور پشتین جیسے لیڈر کی ضرورت ہے ” ۔ یہ جملہ دراصل سوشل میڈیا مجاہدین کا تیار کردہ ہے باوجود اس کے کہ ان کی نیت اور خلوص پہ شک نہیں کیا جانا چاہئے لیکن میرا موقف ان کے برعکس ہے ۔
انیس سو پچاس کے بعد کی گلگت لیگ پہ پابندی سے لیکر انیس سو ساٹھ کی دہائی میں گلگت بلتستان کی سیاسی تحریکوں تک ۔ ایڈوکیٹ جوہر علی ، شیر ولی اور رحمان عالمگیر جیسے رہنماؤں سے لیکر قاسم شیرلیاٹ ملکہ بلتستانی راجہ اسحاق اور سید حیدر شاہ رضوی جیسے مزاحمت پسندوں تک سب نے اپنی بساط کے مطابق عوام کو سیاسی طور پہ منظم کرنے اور جدوجہد کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کی ۔ مگر عوام نے ان کا اس طرح سے ساتھ نہیں دیا جس طرح دیا جانا چاہئے تھا ۔ کہیں انہیں ریاستی جبر کا براہ راست نشانہ بنایا گیا تو کہیں مختلف حیلے بہانے سے عوام کو ان سے متنفر کیا گیا ۔ اس کے علاؤہ بھی عوام کے ساتھ نہ دینے کے یچھے بہت سے محرکات ہوں گے مگر ہم س بحث میں نہیں جاتے ۔
ساٹھ یا ستر کی دہائی کی نسبت آج حالات یکسر مختلف ہیں انٹرنیٹ ہم سب کی دسترس میں ہے ، سیاسی شعور میں بھی پہلے کی نسبت بہتری آئی ہے اور ماضی کا بھیانک چہرہ بھی ہمارے سامنے ہے لیکن آج بھی گلگت بلتستان کے مزاحمت پسند رہنماؤں کے ساتھ عوام نہیں ہیں ۔ جس قوم کے پاس حیدر شاہ رضوی ، نواز خان ناجی ، ایڈوکیٹ احسان علی ، حسنین رمل ، بابا جان ، افتخار کربلائی شبیر مایار منظور پروانہ, شیخ حسن جوہری جیسے اور دیگر نڈر رہنماء موجود ہوں انہیں کسی دوسرے ” جیسے ” لیڈر کی قطعی ضرورت نہیں ہے ۔ البتہ اگر ضرورت ہے تو ایک ایسے قوم کی جسے اپنے رہنماؤں کی پہچان ہو ۔ ایک ایسی قوم جو اپنی ماضی سے سبق سیکھے ۔ یک ایسی قوم جسے ظلم اور ظالم کی پہچان ہو ۔ ایک ایسی قوم جو قربانی دینے سے دریغ نہ کرے اور قائدین کی آواز پہ لبیک کہے ۔ ایک ایسی قوم جو اپنی ذاتی مفادات کو قومی مفاد پہ ترجیح نہ دے ۔
منظور پشتین اگر آج کھل کر ظلم کے خلاف بات کرتا ہے تو وہ یہ جانتا ہے کہ اس کے پیچھے اس کی قوم کھڑی ہے لیکن بدقسمتی سے ہم نے کبھی اپنے رہنماؤں کو سمجھا ہی نہیں ۔ ہم ہمیشہ ریاستی مشینری کی تیار کردہ پروپگینڈے کو حرف آخر سمجھ کر اپنا بیانیہ تبدیل کرتے رہے ۔ ہم نے ہر برے وقت میں ان کا ساتھ چھوڑ دیا ۔ ہم نے مصلحت کے نام پہ منافقت کی ۔ ہم نے ان کا ساتھ صرف سوشل میڈیا تک ہی دیا ۔ قوموں کی تقدیر سوشل میڈیا پہ شعلہ بیانی سے تبدیل نہیں ہوا کرتے تن من دھن کی قربانی دینی پڑتی ہے ۔ ہم سوشل میڈیا پہ قومی ہمدردی میں دو چار الفاظ ٹھوک کر اپنے کو بری زمہ سمجھتے ہیں ۔ ہم نے دیگر مظلوم اقوام کو اپنے حق کے لئے لڑتے دیکھا مگر ہم اپنے لیے لڑنے پہ آمادہ نہ ہوئے ۔ ہم نے چاہا کہ دیگر اقوام کے مزاحمت پسند ہمارے لئے آواز اٹھائیں مگر کبھی اپنے کسی لیڈر کو عملی تعاؤن کی یقین دیہانی نہیں کرائی۔ عملی میدان میں ان قائدین کا ساتھ دیں پھر دیکھیں جبر کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو ظالم جتنا بھی طاقتور ہی کیوں نہ ہو ہم اپنا حق چھین کے لینے میں کامیاب ہوں گے اور جس طرح آج ریاست پختونوں کے سامنے بےبس ہے بلکل اسی طرح ہمارے مطالبات بھی سنے اور سمجھے جائیں گے ۔

تحریر: ڈاکٹر ساجد حسین سید

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc