تازہ ترین

ایک شخص سارے شہر کو حیران کر گیا۔۔۔

کمانڈر ایف سی این اے گلگت بلتستان میجر جنرل احسان محمود خان کی جانب سے ایف سی این اے ہیڈکواٹر گلگت میں گلگت اور دیامر ڈویزن کے صحافیوں اور سکالرز کو ایک پرتکلف افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔میزبانی کے فرائض فورس کمانڈر گلگت بلتستان میجر جنرل احسان خان نے خود سر انجام دیتے ہوئے ہر فرد سے گرم جوشی سے گلے ملتے رہے۔ ایف سی این ہیڈکوارٹر کے وسیع احاطے میں موجود پنڈال کو برقی قمقموں سے سجھایا گیا تھا۔اعلی عسکری قیادت سادہ لباس میں موجود ہر آنے والے قلم کار اور سکالرز کو خوش آمدید کہتے رہے۔فورس کمانڈر گلگت بلتستان میجر جنرل احسان محمود خان نے جب سے گلگت بلتستان کا بحثیت کمانڈر کمان سنبھالا ہے۔علاقے کے عوام میں پائی جانے والی احساس محرومی کے خاتمے کا سبب بنتا جا رہا ہے۔اور لوگوں کے توقعات پر پورا اتر رہے ہیں۔علاقے کا ہر شہری اس کی بڑھتی ہوئی مخلصی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔جدھر بھی جاتے ہیں محبت خلوص اور وفا نچھاور کر کے ایک داستان رقم کرتے ہیں ایسی داستاں جو آب زر سے لکھنے کے قابل ہے ۔ان کی عوام دوستی لوگوں سے والہانہ عقیدت اور محبت کا اظہار یہاں کا ہر شہری اور دیہی علاقوں میں کو بکوں خوشبو کی طرح پھیل رہی ہے اور قریہ قریہ بستی بستی ان کے خلوص کے گیت گائے جارہے ہیں ۔ ہر فورم ہر جرگہ اور ہر محفل ہر سیاسی، سماجی، ادبی ،ثقافتی، تمدنی اور تہذیبی اور ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد ان کی شخصیت سے متاثر ہیں۔غرض زندگی کا ایسا کوئی شعبہ نہیں جہاں موصوف نے پیار محبت اخوت سے خوشبو نہ مہکایا ہو۔ آپ کی خطے سے محبت خلوص اور عقیدے کا رشتہ اس حد تک ہے کہ علاقے کی ہر قسم کے مسائل پہ گہری نظر رکھتے ہیں۔اور اہم مسائل کے حل کے لئے اپنی تمام تونائی صرف کرنے میں بخل کا قطعی مظاہری نہیں کرتے ۔ حقیقت تو یہ ہے بخل ،کنجوسی،ضد،ہٹ دھرمی موصوف کے زندگی کی ڈائری کنگالنے سے بھی نہیں ملے گی ۔ اس کے زندگی کا مقصد پیار پیار پیار کے ساتھ کام کام اور حصول علم ہے ۔آپ نے گلگت بلتستان پر پی ایچ ڈی کیا ۔خطے کا قریہ قریہ اور گاوں گاوں گئے۔جدھر بھی گئے عوام میں گئے لوگوں سے ملے۔ان کے مسائل پوچھے اور حل کر دیےخنجراب ٹاپ سے لیکر تانگیر اور سیاچن سے لیکر غذر تک کا دورہ کیا۔اور عوامی محفلوں کی زینت بنے۔آپ دیامر کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کے لئے میدان کار زار میں کود پڑے اپنے زیر نگرانی ایف سی این اے ہیڈ کوارٹر میں محکمہ تعلیم کے ذمے دار اور دیامر یوتھ مومنٹ اور دیامر کے پڑھے لکھے نوجوان کہ موجودگی میں ایک دیامر تعلیمی جرگہ کی بنیاد رکھی۔اور اس میں دیامر میں تعلیم کو فروغ دینے اورتعلیمی مسائل پہ بہت ساری باتیں زیر بحث لائی گئی۔جس سے یقینا دیامر کے طلباء اور طالبات میں علم کے حصول کے لئے پائی جانے والی رکاوٹیں کس حد تک کم ہوگئیں۔جب کی دوسرا اور تیسرا تعلیمی جرگہ دیامر کے تحصیل داریل اور تانگیر میں منعقد کر کے یہاں کے عوام کو حصول تعلم کی طرف راغب کرنے کا درس دیتے رہے اور کہا کے علم کے بغیر ترقی ناممکن ہے۔ علم کے حصول کے لیے آگے بڑھیں اور ہر قسم کا تعاون کیا جائیگا انہوں نے دیامر کے مختلف سکولوں میں زیر تعلیم طلباء کو میرٹ اور قابلیت کے بنیاد پر غریب اور نادار بچوں کو ملک کے اعلی سکولوں میں مفت تعلیم دلوانے کا بیڑہ بھی اٹھایا۔ اور یہاں کے طلباء کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا۔دیامر کی عوام ان کے محبت اور خلوص کا مقروض ہیں۔تاریخ آپ کے گراں قدر خدمات کو قدر کی نگاہ یاد رکھے گئی۔
معذور افراد کسی بھی علاقے کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ماضی میں معاشرے کے اس اہم اثاثوں کو نظر انداز کر کے دیوار سے لگایا گیا۔مگر فورس کمانڈر گلگت بلتستان میجر جنرل احسان محمود خان نے انہیں گلے سے لگا ان کے جائز حقوق کو ان کے گھر کی دہلیز پر میسر کرنے میں کوئی کمی کوتاہی نہیں کی ۔ان کو ہنر مند بنا کر معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کے لئے پاک آرمی کے زیر نگرانی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔الیکٹریشن، ٹیلرنگ، کمپیوٹر آپریٹراور پلمرکی ہنر سے مستفید کیا۔اور ویل چیئر فراہم کئے۔ان کے اندر موجود صلاحیتوں کو نکھار کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔معذور افراد صدق دل سے دعائیں دے رہے پیں۔دعا ہے کہ اللہ تعالی عمر میں برکت عطا فرمائے اور مزید ترقی اور خوشحالی نصیب فرمائیں اور ترقی کا یہ سلسلہ پاک فوج کے سپہ سالار کے کمان سنبھالنے تک جاری رہے۔

تحریر: محمدقاسم
سنئیر صحافی ضلع دیامر

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*