تازہ ترین

ہم ڈر سے نہیں دل سے پاکستانی ہیں۔۔

سوشل میڈیا نے مواصلاتی نظام میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔آج آپ کوئی بھی خبر ، تجویز یا معلومات پوری دنیا کے لوگوں کے ساتھ سیکنڈز میں شیئر کر سکتے ہیں ۔ اگر میں یوں کہوں کہ سوشل میڈیانے Freedom of speech کو مکمل طورپر منوایا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔یہ ایک نظام قدرت ہے کہ ہر ایک چیز کے ساتھ اچھائی اور برائی دونوں پہلو موجود ہوتے ہیں اب یہ استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسکو کس مقصد کیلیئے استعمال کرے۔ہمیں چاہئے کہ ایک اچھا انسان اور شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اس کو معا شرے میں بہتری لانے کیلئے استعمال کریں۔کچھ بھی اپ لوڈ کرنے سے پہلے ایک بار یہ ضرور سوچنا چا ہیے کہ کہیں اس عمل سے عوام میں کوئی منفی تشویش تو نہیں پیدا ہوگی۔
ٓآج سوشل میڈیا پر موجود ایک اپلوڈ جس کو ایک نہائت سنجیدہ اور علم و فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیت نے شئیر کیا تھا۔ جس کا متن کچھ یوں تھا ۔گلگت بلتستان والے خودمختار ہوکر زندہ نہیں رہ سکتے، قومی لحاظ سے یہ علاقہ چھوٹے چھوٹے سیاسی گروہوں، فرقہ ورانہ جماعتوں، بدترین کرپشن کے عادی سیاستدانوں اور سیاسی شعور و دانش سے خالی لوگوں کے ہجوم سے بھرا پڑا ہے ، اسکے علاوہ بھارت، چین ، افغانستان، اور امریکہ کے اس علاقے کو چیرپھاڑ کے کھانے کے بارے میں تشویش ظاہر کی تھی۔
پہلے میں ہاتھ جوڑ کر تہہ دل سے اپنی جسارت کیلئے ان حضرت سے معذرت چاہتا ہوں کیونکہ میں ان کی بہت عزت کرتا ہوں اوراس کے ماننے میںبھی کوئی عار محسوس نہیںکرتا کہ وہ مجھ سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار ہیں۔امید کرتا ہوں کہ وہ میری اس جسارت کو Freedom of speechسمجھتے ہوئے فراخ دلی کا مظاہرہ کرکے درگزر فرمائیں گے۔
میرا لکھنے کا بلکل یہ مطلب نہیں کہ خدانخواستہ میںگلگت بلتستان کو پاکستان سے الگ اور خودمختار دیکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے فخر ہے اپنے پاکستانی ہونے پراور پاکستان میرا اور ہم سب کا ملک ہے اور اس شناخت کو ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا ۔اللہ تعالی اس ملک کے پرچم کو ہمیشہ ہمارے سر پر قائم و دائم رکھے۔ صرف یہ سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں کہ ہم گلگت بلتستان والے کسی ڈر سے نہیں بلکہ اپنے آپ کو دل سے پاکستانی سمجھتے ہیں۔ اگر میں یوں کہوں کہ ہم باقی پاکستانیوں سے زیادہ پاکستان کے وفادارہیں تو غلط نہیں ہوگا۔اب آپ سوچیں گے وہ کس طرح ؟ جب گلگت بلتستان کے غیور عوام نے اپنے زور بازو سے علاقے کو ڈوگرہ راج کے تسلط سے آزاد کرا لیا تھا تو انکے پاس پاکستان کے علاوہ اور بھی آپشنز موجود تھے لیکن انہوں نے تمام آپشنز کو رد کرتے ہوئے بغیر کسی شرط یا دبائو کے پاکستان کو چنا۔ اسطرح ہم By Choice پاکستانی ہیں اور یہ ایک انسانی فطرت ہے کہ آپ اسی چیز کو choose کرتے ہیں جس سے رغبت اور محبت ہو، جب کہ دوسرے پاکستانیوں کے پاس Choose کرنے کا آپشن نہیں تھا ۔
جہاں تک یہاں کے چھوٹے چھوٹے سیاسی گروہوں ، فرقہ ورانہ جماعتوں اور کرپٹ سیاسی رہنماوں کی بات ہے تو دست بستہ عرض کروں خواہ فرقہ ورانہ جماعتیں ہوںیا سیاسی گروہ یاان سیاسی گروہوں سے متصل سیاستدان، انکے درمیان جتنے بھی اختلافات کیوں نہ ہوں جب گلگت بلتستان کی بقاء اور سا لمیت کی بات آئیگی تو مجھے سو فیصد یقین ہے کہ یہ سب اپنے اختلافات کو بھلا کر متحد ہونگے۔یہی ہماراشیوہ ہے اور انشااللہ رہیگا۔مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ ہر کوئی سیاست دانوں کوہی کرپٹ کہنا اپنا فرض کیوں سمجھتا ہے۔ انتہائی معذرت! شاید میری یہ بات بہت سے لوگوں کو بری لگے لیکن قانون قدرت یہی ہے کہ جس طرح کی عوام ہو گی اللہ تعا لی انکے اعمال کے مطابق حکمران بھی ویسے ہی مسلط کریگا۔ اس علاقے کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ووٹ امیدوار کی قابلیت ، اہلیت اور ماضی کی پرفارمنس کے بجائے اسکے Status اور اثر رسوخ کو دیتے ہیں ۔اگر آپ گندم بو کر باجرے کی توقع رکھیں تو نا امیدی کے سوا کچھ بھی آپ کا مقدر نہیں بن سکتا۔ اگر میرے کسی رشتے دار نے الیکشن لڑنا ہو تو خواہ وہ اچھا ہو یا برا، ماضی کی پرفارمنس چاہے کیسی ہی کیوں نہ رہی ہو، نہ صرف میں خود اسکا ساتھ دونگا بلکہ باقی لوگوں کو بھی اسکا سا تھ دینے کیلئے راضی کرنے کی خاطر سب کچھ داو پہ لگاوں گا۔ کچھ سرپھرے لوگ تو اپنے گھروں کے سکھ چین کو بھی داو پہ لگانے سے گریز نہیں کرتے۔ ہر کوئی اس سیا ستدان کو اچھا سمجھتا ہے جو اس کی ذات کیلئے کام آیا ہو تھانے میں کسی کیس کے سلسلے میں SHO کو چھوٹے چھوٹے کاموں کیلئے فون کرنا، ووٹروں کے گھروں خوشی اور غمی میں شامل ہونا، راستے میں کہیں ملے تو سلام کا ہاتھ ہلا ہلا کر جواب دینا اور اگر زیادہ ضروری ہوا تو اتر کے بغل گیر ہونا ، یہ ہیں ہمارے الیکشن جیتنے کیلئے لوگوں کی سیاستدانوں سے توقعات۔میں یہ نہیں کہتا کہ یہ غلط ہے لیکن ان چیزوں کی بنیاد پر کسی کو پرکھنا مناسب نہیں۔ جس دن ہم سب ایک ہوکر انفرادی کے بجائے اجتما عی ایشوز کو اہمیت دیتے ہوئے ذاتی تعلقات اور اثررسوخ کو بالائے طاق رکھ کر پرفارمنس کو ووٹ دیں گے اس دن کے بعد آپ کو کرپٹ سیا ستدان کا وجود کہیں نظر نہیں آئیگا۔جو بھی الیکشن میں آئیں گے انکے دل میںیہ ڈر ہوگا کہ اگلا الیکشن ٹھیکدار کے پیسوں اور ذاتی تعلق داری سے نہیں بلکہ اپنی پرفارمنس سے جیتنا ہو گا۔
اب تھوڑی بات ہو جائے بھارت ، چین ، افغانستان اور امریکہ کے اس علاقے کو چیر پھاڑ کے کھا جانے کی تو مودبا نہ عرض کرتا چلوں کہ ہم Stone age میں نہیں بلکہ اکیسویں صدی میں رہتے ہیں ۔یہاں اگرVatican City اور Monaco جیسے چند اسکوائر کلومیٹر پر موجود ممالک پوری شان و شوکت اور مکمل خودمختاری کے ساتھ دنیا کے نقشے پر موجود ہیں تو گلگت بلتستان جو کہ تقریبا 73 ہزار اسکوائر کلومیٹر اور 2 ملین سے بھی زیادہ آبادی کے ساتھ CPEC جیسے منصوبوں ، دنیا کے کئی بلند ترین پہاڑی سلسلوں کی موجودگی، قراقرم ہائی وے اور پانی کے وسییع ریزروائیرز ، قدرتی لینڈ اسکیپ اور تاریخی عمارات کی مو جودگی کی وجہ سے دنیا میں اپنا ایک منفرد جیو سٹریٹیجک اہمیت رکھنے کے باوجود کیسے ان جیسے کسی ملک کی فرعونیت کا شکار بن سکتا ہے۔ عرض کرنے کا مقصد صرف اتنا سمجھانا ہے کہ ہم ان میں سے کسی ممالک کے چیر پھاڑ کے کھا جانے کے ڈر سے نہیں بلکہ دل سے پاکستانی ہیں اور اس پر ہمیں فخر ہے۔
ریاست ماں جیسی ہوتی ہے اور ماں سے بچے جب کچھ مانگتے ہیں تو ماںپورا ضرور کرتی ہے لیکن بعض اوقات اگر دیر ہو جائے تو اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ ضرورت پوری نہیںکرنا چاہتی بلکہ یوں سمجھنا چاہئے کہ اسکی کچھ وقتی مجبوریاں ہیں جو ہمیں نہیں معلوم لیکن دیر سے سہی وہ اپنے بچوں کو نا امید کبھی نہیں کریگی۔

تحریر: احسان علی

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*