تازہ ترین

متحدہ اپوزیشن گلگت بلتستان اسمبلی کا ہنگامی پریس کانفرنس، وزیر اعلیٰ کی جانب سے رشوت کی تقسیم کا انکشاف۔

گلگت(ٹی این این) گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کے رہنماوں نے گلگت پریس کلب کر ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان پر سنگین الزام لگا دیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کپٹن شفیع،قوم پرست رہنما نواز خان ناجی،پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے جاوید حسین اور پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی راجہ جہانگزیب نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعلی حفیظ الرحمن اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے اور عدم اعتماد سے بچنے کے لیے سیاسی رشوت کے طور پر حکومتی ممبران کو 20 /20 کروڈ کا اے ڈی پی فنڈ دے رہا ہے جبکہ اپوزیشن ممبران کو نظرانداز کیا جارہا ہے اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو اسمبلی کو چلنے نہیں دینگے اور وفاق سے تمام فنڈر روکنے کا مطالبہ کرینگے.
متحدہ اپوزیشن کے ممبران کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن ممبران اسمبلی کو ڈویلپمنٹ فنڈ سے محروم رکھا جارہا ہے وزیر اعلی کے کہنے پر پیسہ وہاں لگایا جا رہا ہے جہاں سے واپس آکر چار مخصوص ٹھیکیداروں کو اور چیف انجنئیر رشید احمد کو فائدہ ملتا ہو، اُنکا کہنا تھا کہ چیف انجینئر رشید احمد باقاعدہ بدمعاشی کرتا ہے اور کہتا ہے تمام مقتدر ادارے میرے ساتھ ہیں کوئی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اگر ہم کوئی ری ایکشن کریں تو فرقہ واریت کا رنگ پڑ سکتا ہے جس کی جی وجہ سے ہم خاموش ہیں اس دفعہ ہم بجٹ پیش کرنے نہیں دیں گے۔ اُنکا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے ایک ہی گھر کو تین حصوں میں تقسیم کر نے کی سازش ہے جس کو ناکام بنانے کے لئے متحدہ اپوزیشن ہر اول دستے کا کر دار ادا کرے گی ۔
اُنکا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ نے تمام لیگی ممبران کو رواں سال نئے بجٹ کے لئے 20کروڑ روپے کی سکیمیں جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے جبکہ اپوزیشن ممبران اس میں شامل نہیں ہے وزیراعلیٰ کے اس امتیازی سلوک کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے گا اور پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا بھی دیں گے انہوںنے کہا کہ بجٹ وزیراعلیٰ کا ذاتی نہیں ریاست پاکستان فراہم کرتا ہے اس بجٹ کو وزیراعلیٰ نے اگر اپنی جائیداد سمجھ کر تقسیم کرنے کی کوشش کی تو سنگین نتائج سامنے آئیں گے انہوں نے کہا کہ بجٹ کی تیاری سے قبل پری بجٹ اجلاس بلایاجاتا ہے جس میں رول آف پروسیجر کے تحت اپوزیشن ممبران کی تجاویز کو شامل کیاجاتا ہے مگر یہاں پرگورنر ‘ وزیراعلیٰ اور سپیکر نے قانون کی دھجیاں اڑادی ہیں جس پرکسی صورت خاموش نہیں رہیں گے۔ اُنہوں نےکہا کہ ہم وفاقی حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ حفیظ الرحمن کی حکومت ختم ہونے تک ایک روپیہ بھی بجٹ فراہم نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے چار سالہ دور میں صرف ایک اے ڈی پی منظور ہوئی ہے گلگت بلتستان کی تاریخ میں مسلم لیگ ن کے چارسالہ دور تاریخ کاسیاہ ترین دورگزرا ہے ۔متحدہ اپوزیشن نے لیگی ممبران کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کے ممبران جرات کا مظاہرہ کرکے وزیراعلیٰ کے حفیظ الرحمن کے خلاف عدم اعتماد لائیں ہم ساتھ دیں گے۔انہوںنے بیوروکریسی کا تیار کردہ بجٹ عوام دوست نہیں عوام دشمن بجٹ ہے پری بجٹ سیشن بلانے کے لئے سپیکر اور گورنر کو خط لکھنے کے باوجود پری بجٹ سیشن نہیں بلایاگیا ہے اپوزیشن ممبران کو بجٹ کی تیاری میں شامل نہیں کیاگیا جو کہ قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اس خلاف ورزی پر متحدہ اپوزیشن کسی صورت خاموش نہیں رہے گی ۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*