تازہ ترین

ایگری کلچر ایکسٹنشن ڈیپارٹمنٹ کا معاشرے میں کردار اور لوگوں کی امیدیں

محکمہ زراعت توسیع ڈیپارٹمنٹ کا کردار یا مینڈیٹ یہ ہے کہ وہ کسانوں کو نئے زرعی علوم و فنون سکھائیں، پرانے فرسودہ نظام کاشتکاری کے مقابلے میں نئے طور طریقوں کی افادیت کو دکھائیں۔ اور دنیا میں ہونے والی ریسرچ کے ثمرات کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کریں۔ اسکے لئے درج ذیل طریقے دنیا میں رائج ہیں۔

1. نمائشی پلاٹ لگانا

مثلا نئی فصلوں کی ورائیٹیز پرانے کے مقابلے میں کتنی ذیادہ پیداوار دیتی ہیں یہ دکھانا ہوتا ہے، یا ایک علاقے میں کوئی جدید فائدہ مند فصل لگنے کے امکانات ہو تو اسکی ٹرائل علاقے میں زمیندار کی زمین پر یا سرکاری فارم میں لگانا اور لوگوں کو دکھانا کہ دیکھو بھئی یہ بھی کوئی چیز ہے۔۔ تاکہ کسان متاثر ہو اور مستقبل میں وہ اسے اپنائے۔

2. ٹرینینگز/ سیمینارز اور فیلڈ ڈیز

کسانوں کو تعلیمات دینے کے سلسلے میں محکمہ زراعت کا سب سے اہم ٹول یہی ٹرینینگز سیمینارز ، ورکشاپس اور فیلڈ ڈیز ہوتے ہیں جسے زرعی توسیع کے محکمہ میں سب سے اہم ایکٹی ویٹی خیال کیا جاتا ہے۔ جتنے ذیادہ کسانوں کے ساتھ گیتھرینگ ہوگی زرعی پیغام لوگوں تک ذیادہ پہنچے گا۔ لوگ تنقید کرتے ہیں کہ محکمہ زراعت ہمیشہ سیمینارز ورکشاپس کے نام پہ لاکھوں ہڑپ کرتے ہیں اور آوٹ پٹ کچھ بھی نہیں۔ یہ عام سا بیانیہ عام لے مین کا ہے۔ مگر ذہن نشین رہئے کہ حکومت نے اس محکمے کو اسی کام کے لئے ہی قائم کیا ہے کہ وہ ذیادہ سے ذیادہ لوگوں تک پہنچے، مختلف بہانوں سے اور جدید زرعی علوم کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرے۔ ۔ اب لوگوں کے کہنے پر ہم اپنا مینڈیٹ ترک تو نہیں کرسکتے ہیں۔ یا دوسرے لفظوں میں محکمہ زراعت توسیع نے ہر عمر کے لوگوں کو بذریعہ غیر روایتی تعلیم کے، ذہن تبدیل کرنا ہے، اور یہ کام دنیا کا سب سے مشکل ترین کام ہے اور دقت طلب بھی، اسکے نتائج بھی نسلوں بعد نظر آتاہے۔ محکمہ تعمیرات نے ایک بلڈینگ بنائی اگلے سال سب کو نظر آیا، مگر ہم نے گل خان کو کئی سالوں کی تعلیم کے ذریعے قائل کیا کہ وہ اپنے کھیت میں چیری کا باغ لگائے اسکا نتیجہ تو اسکے دس سال بعد نظر آتا ہے۔ اب لوگ تو کہیں گے زراعت والے کچھ نہیں کرتے۔ برحق اس حساب سے کچھ نہیں کرتے جیسے ایک ترقی یافتہ ملک میں کیا جاتا ہے، اسکی وجہ وہاں زراعت کے محکمے کو دستیاب فنڈز اور ترجیح ہے اور ہمارے ملک میں بیچارہ زراعت کا محکمہ صرف قائم ہے فنڈز اور ترجیح حکومت کا کام نہیں۔ لہذا کوئی محکمہ زراعت سے فوری سڑک بنانے، بلڈینگ بنانے کی امید نہ رکھے۔ تعلیم دینا ہمارا مینڈیٹ ہے جسکا نتیجہ نسلوں پر محیط ہوتا ہے۔

3. اننو ویٹو ریسرچ ٹرائلز

محکمہ زراعت توسیع کا ایک اہم مینڈیٹ علاقے کی آب و ہوا کے مطابق نئی فصلوں اور فروٹس کی ورائٹیز کو اپنے فارمز پر ٹرائلز لگانا ہے، اسکی پیداوار اور منفعت کو چیک کرنا ہے اور نتائج سے کسان کو آگاہ کرنا ہے۔اس سلسلے میں گلگت بلتستان میں آلو کا انقلاب، چیری کا کمرشل کراپ بننا، شملہ مرچ مٹر اور فریش بینز کا آف سیزن کیش کراپ بننا اہم کامیابیاں ہیں گو کہ اسمیں دیگر اداروں کا بھی رول ہے مگر ڈاکٹر بھٹی صاحب کو علاقے میں لانا انکو فیسلٹیٹ کرنا اور کسانوں کو مراعات دیکر ان فصلوں کو اگانا، یہ سارے کام محکمہ زراعت ہی کے کام تھے۔اللہ اے کے بلغاری صاحب کو غریق رحمت کرے یہ کاوش بھی انہی کے کھاتے میں جاتے ہیں۔

4.نیو ٹیکنالوجی کو متعارف کروانا

محکمہ زراعت کا ایک رول یہ بھی ہے کہ دنیا میں زرعی تحقیق سے جو نئی باتیں سیکھی گئی ہیں انکے ثمرات کو عوام تک پہنچانا ہے۔ فروٹ فارمینگ، پروسیسینگ،کمرشل سبزیات پیدا کرنے کے مواقع، فلوریکلچر ، کٹ فلاوراور سیڈ پروڈکشن جیسے حساس موضوعات سب پہ کسانوں کی تعلیمات محکمے کا کام ہے۔ جن پر یقینا کام ہورہا ہے، دھیمے رفتار سے سہی ، بعض لوگوں کا ڈیمانڈ ہوتا ہے کہ میرے گھر کے سارے زرعی کام محکمہ زراعت والے آدمی بھیج کر کرے، کیونکہ یہ بھی زراعت ہے،گھر میں سبزی کے کیاری، درخت کی پرونینگ وغیرہ، اور عموما یہ لوگ رتبے والے، طمطراق والے، صاحب قیل وقال ہوتے ہیں، گکگت ہیڈ کوارٹر اور سکردو ہیڈ کوارٹر کے ڈی ڈی صاحبان کے کئی کئی لوگ ایسے گھروں میں مستقل کام کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں، نہ کرنے کی صورت میں سو طعنے اور تنقید، الحمدللہ بعض جگہوں پر بہت اچھے طریقے سے اور بعض علاقوں میں زرا ماڑے انداز سے یہ سارے کام ہورہے ہیں۔ بس فنڈز کے حساب سے سمجھو۔

5.فروٹ پلانٹس کے لئے نرسریوں کا قیام

محکمہ زراعت توسیع کا ایک اور اہم مینڈیٹ اچھی نسل کے پھلدار پودے رعایتی نرخوں پر پیدا کرنا اور عوام تک پہنچانا ہے۔ صرف بلتستان ریجن میں ہر سال دو لاکھ پیوند شدہ پھلدار پودے پیدا ہوتے ہیں اور زمیندار رعایتی قیمت پر یہ پودے حاصل کرتے ہیں۔ انکے اور اوپن مارکیٹ کے پودوں کے ریٹس کا فرق ہوش ربا ہوتے ہیں، یہ بات سب کو پتہ ہے مگر یہاں ڈنڈی مارتے ہیں، اور چپ سادتے ہیں۔ کبھی کبھار تعریف بھی مثبت نتائج پیدا کرسکتے ہیں لہذا اس میں بخل نہ کیجئے۔ کیونکہ گلگت کا تو مجھے نہیں پتہ لیکن بلتستان ریجن میں فروٹ پلانٹس وافر تعداد میں گورنمنٹ نرسریز پیدا کررہے ہیں اور اس سال گلگت سے بھی لوگوں نے آکر پودے خریدے۔ بعض لوگ کہتے ہیں محکمہ زراعت چند پودوں اور زہروں کے علاوہ کیا دیتے ہیں؟
او میرے بھائی گورنمنٹ نے ہمارے ذمے یہی کام ڈالا ہے تو ہم کیا اسکے جگہے پر روڈ بنانا شروع کردیں؟
تنقید اور تعریف میں اعتدال لازمی ہے، ہمارے ایک دوست جنکا تعلق روندو سے ہے وہ صاحب اکثر بیشتر سوشل میڈیا پر محکمہ زراعت پر تنقید کے تیر برساتے نظر آتے ہیں اسکی مثال ایسے ہی ہے جیسے میرے پاس شگر سے ایک سیاسی شخصیت آتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ای ٹی آئی ہرائویٹ نرسری کے لئے میں نے بھی درخواست دی ہے اگر میری زمین کا سیلیکشن نہیں ہوا تو یقینا آپ لوگ مک مکاو کرتے ہونگے، کیونکہ اس کام کے لئے صرف میری زمین ہی موزون ہے، موصوف نے انتخاب نہ ہونے کی صورت میں ہر قسم کی کاروائیوں کی دھمکی بھی دی، کسی کو ٹنل نہیں ملی، وہ کہے گا سب اپنے رشتے داروں کو دیتے ہیں، سیڈ پیکٹ سے رہ گئے ، کسی پروگرام میں بلانے سے رہ گئےتنقید کرے گا زیرو کارکردگی ہے، مقصد تنقید کے پیچھے ذاتی انا، نیچ مقاصد ہوتے ہیں۔ یہ چیزیں من حیث القوم ہمارے اندر سرایت کرچکی ہے جس سے چھٹکارہ محال ہے۔

6.زرعی ٹاک شوز، زرعی سلوگن، ہورڈینگز اور سوشل میڈیا کا استعمال وغیرہ۔

زرعی ٹیکنالوجی کے پیغام کو عام کرنے کے لئے پہلے ریڈیو ٹی وی اور وال چاکینگ کے ذریعے پیغامات نشر کرتے تھے۔ اب سوشل میڈیا کا دور ہے اور دنیا گلوبل ویلیج سے بھی سمٹ کر انگلیوں کے درمیان آگئی ہے۔ اب زرعی علوم کی ترویج کے لئے سوشل میڈیا کی غیر روائتی مگر طاقتور ترین ہتھیار زرعی توسیعی کارکن کے پاس آگئے ہیں۔ اس ہتھیار کے ذریعے آپ ہر دم پاکستان کے زمیندار طبقے سے جڑے رہ سکتے ہیں، انکی رہنمائی کرسکتے ہیں، لہذا زرعی کارکنان کے لئے اسکے مثبت استعمال پر عبور حاصل ہونا چاہئے۔ جناب خادم حسین سلیم صاحب سابق سیکریٹری زراعت گلگت بلتستان نے اسکی اہمیت کے پیش نظر ایک میٹینگ میں تمام ہیڈ آف ڈیپاٹمنٹس کو لازمی قرار دیا تھا کہ وہ اس ٹول کو استعمال کریں اور محکمے کے ایکٹی ویٹیز کو ہائی لائٹ کرنے کے ساتھ معلومات پر مبنی پوسٹ بھی بنایا کریں۔جسکے لئے ہر ڈی ڈی کو ہدایات دی تھیں کہ وہ اپنے ڈیپارٹمنٹ کی ف ب آئی ڈی بنائے۔

7. زراعت کے نئے ٹرینڈز

دنیا میں زراعت کے بہت سے تصورات چینج ہوگئے، پہلے خوب زہروں اور کیمیائی کھادوں کا استعمال زرعی پیداوار کے لئے اہم سمجھے جاتے تھے مگر اب اسکے مابعد اور خوفناک اثرات انسانی صحت اور گلوبل وارمنگ جیسے موضوعات اہم ہوگئے، دنیا واپس آرگینک فارمینگ کی طرف لوٹ رہی ہے کیمکل فری پروڈکٹس کی زیادہ قیمت اور طلب، قدرتی کاشتکاری کے جدید طور طریقے، یہ سارے نئے زرعی ٹرینڈز ہیں جنہیں پاکستان کے کسان برادری کو ایجوکیٹ کرنا ضروری ہے لہذا زرعی توسیعی کارکنان کی اہم فرائض منصبی میں یہ ٹاپکس بھی داخل ہوگئے ہیں۔
آخر میں اپنے زرعی توسیعی کارکنان سے بھی ایک گزارش کے ساتھ اس آرٹیکل کو ختم کرتا ہوں، یقینا علم بانٹنا صدقہ جاریہ ہے، ہمارا مینڈیٹ تو پورا ہوگا ہی مگر مفت میں ثواب بھی ہے لہذا اس قوم کے کسانوں کو علم دینا اسکی ذاتی معیشت کے علاوہ ملکی ترقی کا واحد پائدار زریعہ ہے لہذا اس مشن کو اسی جذبے سے پورا کیا جائے، آج آپ تنقید کے ذد میں ہے مگر آپکی مسلسل کوششوں سے زرعی ترقی کا نیا دور آپکے لئے راحت کے ساماں بھی فراہم کرےگا۔
لوگوں سے بھی گزارش ہے کہ محکمے سے رہنمائی کی امید رکھیں نہ کہ سڑک بنانے کی کیونکہ یہ اسکا مینڈیٹ ہی نہیں ہے۔

(تحریر جی ایم ثاقب ڈی ڈی زراعت توسیع
ضلع شگر گلگت بلتستان۔03468116943)

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*