تازہ ترین

توہین رسالتﷺاور ہماری زمہ داریاں۔۔

کائنات کی تمام تعریفیں اللّٰہ رب العزت کےلیے اور درود وسلام حضور کونین خاتم لنبین ﷺ پر۔پاکستان کے سوشل میڈیا پہ کئی فتنے فساد وقتاً فوقتاً جنم لیتےہیں۔مگر اگر ہم دیکھیں تو گزشتہ چند سالوں سےسوشل میڈیا کے اوپر بہت زیادہ توہین رسالت اور توہین شعائر اسلام ایک عام بات بنتی جارہی ہے۔نبی کریم ﷺ کی زات اعلیہ کو اردو زبان میں گستاخی کرنا،کارٹون بنانا،قرآنی آیات میں تحریف کرنا،ان کا مذاق اڑھنا اور اصحاب رسولﷺ کو تبرا کرنا یہ سلسلہ پاکستان میں 2014 سے شروع ہوا ہے۔کچھ مہنے پہلے سینٹ کی کیمیٹی برائے انسانی حقوق کے طرف سے ایک بار پھر قانون توہین رسالت 295c میں تبدیلی کی کوشش سامنے آتی ہے،کمیشن برائے انسانی حقوق کے خواتین سینیٹرز نے توہین رسالتﷺ جرم کو قابل ضمانت بنانے گستاخ رسول کے طرف سے اظہار ندامت کے بعدمعاف کرنے اور گستاخ رسول کی سزاموت کو تبدیل کرکےعمر قید میں تبدیل کرنے کی سفارشات کی،قانون توہین رسالت 295C کی بنیاد 17 مئی 1986 میں رکھی گئی، 2 جون 1990 کو قومی اسمبلی 8 جولائی 1992 کو سینٹ نے متفقہ طور پر 295c کو منظور کیا۔جس کے مطابق توہین رسالت ﷺ کی جرم میں مجرم کو پھانسی کی سزا دی جائیگی۔اس قانون کے بننے کے بعد مغرب اور مغرب نواز لابی بلخصوص قادیانی لابی متحرک ہوگئی۔اور انہوں نے اس قانون کو انسانی حقوق کی منافی قرار دیکر ختم کرنے اور غیر موثر بنانے کےلیےسازشیں شروع کردیں۔ توہین رسالت قانون کے مخالفین کا کہنا ہےکہ یہ قانون انسانی حقوق کے منافی ہے۔اور اس قانون کے بنیاد پر بیرونی دنیا میں پاکستان کا امیج متاثر ہورہاہے۔حالانکہ اس قانون کے تاریخ پہ نظر ڈالی جائے تو بنیادی طور پر 157سو سال پہلے ہندوستان میں برطانوی سامراج نے اس قانون کی بنیاد ڈالی تھی۔چنانچہ 1860 میں تعزیرات ہند باب 15 میں برطانوی سامراج حکومت نے مذاہبی جزابات مشتعل کرنے کو جرم قرار دیکر 295c سے 298c دفعات بنائیں جن کے مطابق مقدس شخصیات ،مقدس شعائر کے توہین پر سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ ان قوانین کومزید سخت کرنے کےلیے 1927میں 295c کی دفعہ الف کی اضافہ کیاگیا۔بعض ازاں 1920 سے 1930 تک ہندوں کی ”شدی“ اور ”سنگھٹ“ نامی شدت پسند تحریکوں کے وقت توہین رسالت کے واقعات سامنے آئے۔جس میں لاہور کے اندر توہین رسالت کے مجرم ”راج پال“ کو ”غازی علم الدین“ نے قتل کردیا۔جس کے بعد برٹش حکومت نے انہیں پھانسی کی سزا دی گئی۔غازی علم الدین شہید کی مقدمے کی پیروی میں آخری بار قائد آعظم محمد علی جناحؒ پیش ہوئے جنہوں نے پھانسی کی سزا معاف کرنےکی اپیل کی مگر براٹش حکومت کے جج نے اپیل کو مسترد کردیا۔جس کے بعد حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ ابدیدہ ہوکر کہنے لگے کہ ”ہم باتیں کرتےرہےگے اور ترکھان کا بیٹا غازی علم الدین جیت گیا“قانون توہین رسالت کے اس حقیقت کو سامنے رکھنے کے بعد یہ نتائج سامنے آئےہیں۔مقدس شخصیت اور مقدس شعائر کا معاملہ اس قدر حساس ہے۔جس کا اقرار 157 سال پہلے برطانیہ جیسے انسانی حقوق کے علمبردار ملک نے خود کیاتھا۔اور اس کےلیے باقاعدہ قانون سازی کی اگر آج بھی دنیا میں ”بھلاس فملاس“ کا مطالعہ کیا جائے تو دنیا میں تقریباً 71 ممالک ایسے ہیں جہاں مقدس شخصیت اور مقدس شعائر کی توہین سخت ترین جرم ہیں۔چنانچہ انسانی حقوق کے علمبردار یورپ کے 7 سے زیادہ مملک ایسے ہیں۔جہاں اب بھی مقدس شخصیت کی توہین پر سزادی جارہی ہیں۔ان مملک میں روس، ائرلینڈ،پولینڈ ،ڈنمارک ،اٹلی اور روم جیسے مملک شامل ہیں۔امریکہ برطانیہ، کینیڈا ، نیدرلینڈ ،اسرائیل اور بھارت سمیت دنیاکے کئی ایسے مملک ہیں۔جہاں پر کسی نہ کسی حدتک مقدس شخصیت اور مقدس شعائر کے بارے میں بات کرنا جرم ہیں۔اگر 250 سال پہلے کی دنیا کی مطالعہ کیاجائےتو دنیا کے ہر ملک ہر مزاہب اور ہر علاقے میں مقدس شخصیت اور مقدس شعائر کی توہین متفقہ طور پر جرم تھا۔آج بھی بھارت جیسے جمہوری ملک میں ”تدومت“ نامی فلم پر مظاہرے ہورہےہیں۔کہ بھارتی انتہا پسند ہندوں کے بقول اس میں ان کےمقدس شخصیت کی توہین کی گئ ہیں۔روس اور آئرلینڈ میں عیسائی اس لیے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کررہےہیں۔کہ ان کےچرچ اور چرچ سے منسلک مقدس شخصیت کا مزاق اڑاگیا۔حسل ہولوکاسٹ کے مخلفین کے خلاف دنیا بھر کے یہودی اس لے سراپا احتجاج ہوتےہیں کہ وہ یہودیوں کے توہین کرتےہیں۔امریکہ میں امریکی پرچم کے خلاف بات کرنے پر ہرسال لوگوں کو سزائیں دی جاتی ہیں۔برطانیہ میں ملکہ برطانیہ کے توہین کو آج بھی جرم گردنا جاتاہے۔ان حقائق کے بعد قانون توہین رسالتﷺ میں تبدیلی دیکھنے والوں کو عبرت پکڑنے چاہیے۔اب آتےہیں سوشل میڈیا کی طرف جب سوشل میڈیا پہ کوئی گستاخی دیکھے تو بندہ بہت جزباتی ہوجاتاہے۔کیونکہ وہ چیزیں کنٹرول سے باہر ہوتی ہے۔گستاخ کرنے والا آپ کے سامنہ نہیں ہوتا تاکہ آپ اس کو پکڑ کر قانون کے حوالے کردیں یا کم ازکم اپنے ہاتھ سے اسے روکنے کی کوشش کریں۔لکین وہاں پہ وہ کئی پردوں میں چھپا ہوتاہے۔ہمارے سامنے بندہ نہیں صرف پوسٹ ہوتاہے۔ایسے میں ہمیں کیا کرنا چاہیے۔PTA کو اطلاع دینے چاہیےاور FIA کو اطلاع دیں ان کے ویب سائٹ پہ اطلاع دیں اور ان کو اس ای میل پہ اطلاع دیں۔Info@pta.govern.pkاس طرح قانون کا سہارا لےکر قانونی چاراجوئی کرنے چاہیے۔اس وقت پاکستان میں ٹیکنالوجی Technology کافی ایڈوانس ہوچکی ہے۔اس کےلیے ریاست کے طرف باقاعدہ ایک سیل بنانا چاہیے تاکہ توہین کرنے والوں کے خلاف رپورٹ کرنے آسانی ہو ایک عام شہری کےلیے بھی اور باقاعدہ اس پہ کام کرنے والے لوگ موجود ہوناچاہیے۔نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی اصحاب اہلبیت رسولﷺ کی شان میں اور شعائر اسلام کے شان میں توہین کرنے والے سوشل میڈیا یوزرز ہیں۔ ان کے خلاف اسانی سے اس سیل میں کوئی بھی بندہ رپورٹ درج کرسکیں۔اب اس وقت ہمارے پاس ایسے سہولیت نہیں ہے۔اس لیے اس طرح اکاونٹ جب آپ دیکھ لیں تو سب سے پہلے اس اکاونٹ کو رپورٹ کرنا ہیں۔شئیر نہیں کرنا چاہیے جب آپ شئیر کرتے اس کے سکرین شارٹ پھیلتے ہر کوئی یہ دیکھو یہ ہورہاہے۔اس سے بہت زیادہ پھیل جاتاہے۔اس میں لوگ غصے میں بھی اس کے پوسٹ پہ کیمنٹس کرتےہیں۔اس سے اس گستاخ کی آئی ڈی کی ریچ بڑ جاتی ہے، جب آئی ڈی ریچ ہوگئ تو اس کی آئی ڈی کے خلاف رپورٹ کرنے پر فرق نہیں پڑتاہے۔اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ اس کے پوسٹ کے خلاف ری ایکٹ کرنا،کیمنٹس کرنا،شارٹ سکرین نکالنا یا شئِیر کرنا اس کے حق میں بہتر ہوتاجارہاہےچاہیے ان کے اکاونٹ ہو پیجز ہو مضبوط ہوتے جارہےہیں۔۔اس لیے احتاطی تدبیر یہ ہےکہ ایسے گستاخوں کے پوسٹ پہ نہ کیمنٹس کرنا،نہ لائک کرنا نہ غصے والا ری ایکٹ کرنا،نہ شارٹ سکرین نکالنا اور نہ شئِر کرنا یہ چیزین نہیں کرنا چاہیے۔ورانہ یہ کرنے سے نقصان یہ ہوتاہےکہ ایک تو رسالتﷺ کی توہین کی بار بار تشہیر ہوتی ہےدوسرا اس کا اکاونٹ مضبوط ہوتاہے۔یہ توہین کرنے والوں کے ایک اور غلط طریقہ کار یہ ہوتاہے کہ یہ پہلے توہین کرتے رہتےہیں۔پھر جب لوگ اشتعال میں آتےہیں تو وہ اپنے پروفائل تبدیل کرکے کسی مسلمان شخص کے تصویر لگادیتےہیں جو ان کے خلاف کام کررہےہوتےہیں۔اس لیے ایک عام شہری اور ایک عام انسان کو ان چیزوں کے بارےمیں ہوشیار رہنا پڑتاہے اور فوراً قانون کا سہارا لیں متعلقہ اداروں سے رابطہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ رحمت عالمﷺ کی زات مبارکہ اس قدر عظیم ہیں ۔جس پر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر
میں ادنی سا ادنی مسلمان بھی اپنے جان قربان کرنا باعث فخر سمجھتےہیں۔

تحریر: ضیا ٕاللّٰہ گلگتی

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*