تازہ ترین

تحریک انصاف کے قائدین کی عدم توجہ سے شگر میں پارٹی کو شدید جھٹکا پہنچا ہے ۔ سید عباس کاظمی

سکردو(پ،ر)پاکستان تحریک انصاف بلتستان کے سینیئر ممبر اور سابق صوبائی ڈپٹی کنوینر سید محمد عباس کاظمی نے شکر میں پارٹی کو پہنچنے والے شدید نقصان کی وجہ تحریک انصاف کے قائدین کو ٹھہرایا ہے ۔عباس کاظمی نے کہا کہ حال ہی میں شگر میں مسلم لیگ ن کے جلسے میں کیپٹن (ر) وزیر فدا علی جیسے سنجیدہ دانشور ‘ سماجی کارکن اور سیاست دان نے واضح الفاظ میں پاکستان مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ سے شگر ضلع میں تحر یک انصاف کا مستقبل مخدوش نظر ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہوا ہے۔اس کی بنیادی وجہ وفاق میں ایک مضبوط حکومت ملنے کے باوجود مرکزی قیادت خصوصاً عمران خان صاحب کا گلگت بلتستان کے عوام خصوصاً تحریک انصاف کی طرف سے بالکل لاتعلق رہنا ہے ۔ ان نو ماہ میں نہ صرف وزیر اعظم عمران خان نے گلگت بلتستان میں عوام کے مشکلات کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا نہ ہی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور نے باس علاقے کا کوئی دورہ کرنے کی زحمت کی۔ ایسا لگتا ہے کہ علی امین گنڈا پور صاحب کو یہ علاقہ بطور صدقہ دیا گیا ہے اور خیرات و صدقہ کی کوئی عزت تو ہوتی نہیں۔لہذا وہ یہاں دورہ کرکے پارٹی کی بدترین صورت حال اور انتظامی خرابیوں کے ساتھ بدترین کرپشن کی طرف دیکھنے کی زحمت ہی کیوں کریں۔عباس کاظمی نے کہا کہ بلتستان میں پارٹی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں پارٹی کا عام ممبر کوئی بھی نہیں جو ہیں وہ سب پارٹی کے بانی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور بڑے عہدوں کے دعویٰ دار ہیں۔ مرکزی قائدین کی ان منفی پالیسیوں کی وجہ سے اس پارٹی میں شامل کئی قدآور شخصیات اپنی عزت بچاکر کنارے ہوچکے ہیں جن میں سر فہرست جسٹس (ر) سید جعفر شاہ ‘ اظہار ہنزائی ‘ ڈاکٹر محمد زمان آف داریل بہت نمایا ں ہیں۔ ان میں میںخود بھی شامل ہوں لیکن پارٹی سے بے انتہا لگاوٗ کی وجہ سے چند اہم مواقع پر اخباری بیان کے ذریعے مرکزی قائدین کو پارٹی کی بدترین حالت کی طرف متوجہ کرانے کی کوشش کرتا رہتاہوں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ شگر کی سیاست میں وزیر فدا علی صاحب کا بہت بڑا اثر رسوخ رہا ہے اور رہے گا ۔ان کا جھکاو کسی بھی اسمبلی کے ممبرشپ کے امیدوا ر کے لئے ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے ۔وزیر فدا علی صاحب کا یہ کہنا کہ چونکہ مسلم لیگ نے شگر کو ایک الگ ضلع بنا کر یہاں کے عوام پر احسان کیا ہے اور وہ اب احسان فروشی نہیں کرسکتے وزیر صاحب کے اصولی سیاست اور بلند کردار کا مظہرہے لیکن فدا علی صاحب نے خود اسمبلی میں آنے کا عندیہ کبھی نہیں دیا۔ وزیر فدا علی صاحب بادشاہ تو نہیں لیکن بادشاہ گر ضرور ہیں۔ شگر کے چند دوستوں کا کہنا ہے کہ اس میں اور بھی عوامل کار فرما ہیں ۔عام لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے کبھی وزیر صاحب سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور نو لفٹ کرکے رکھا۔ چند کا کہنا ہے کہ گورنر راجہ جلال صاحب وزیر فدا علی صاحب کو شگر کے سیاسی منظر سے ہٹاکر اپنے عزیز انجینیر وزیر عدیل صاحب جسے پاکستان بیت المال کا ممبر بنایا ہے کو اگلے مرحلہ میں شگر کے سیاسی منظر نامے پر آگے لانا اور انہیں قانون ساز اسمبلی کے لئے پارٹی ٹکٹ دینے کا فیصلہ کر چکے ہیں ۔ ذاتی طور جانتا ہوں کہ وزیر عدیل صاحب ایک پڑھے لکھے اچھے نوجوان ہیں لیکن وہ سیاسی میدان میں ابھی نووارد بھی نہیں بلکہ دیوار پر بیٹھے تماش بین ہیں۔ شگر کی سیاسی احوال کے حوالے سے اب بھی گنجائش ہے کہ اس ضلع میں تحریک انصاف کی گرتی ہوی ساکھ کو بچایا جائے لیکن اس کے لئے مرکزی قائدین کا جی بی میں ایک واضح اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*