تازہ ترین

کیا لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ کرنا جرم ہے ؟

یہ تو ہم نے سن رکھا تھا کہ اگر عوام ماوراء عدالت حکومت سے کسی فیصلے کا مطالبہ کیا جائے تو وہ قانون شکن ہیں اور مجرم ـ  دنیا کی اقوام ایسے لوگوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں ، انہیں بے شعور اور کم عقل لوگوں کی فہرست میں گردانتی ہیں ،ان کے مطالبے کو غلط اور بے جا تصور کرتی ہیں ، وہ اسے غیر اصولی اور غیر منطقی  قرار دیتی ہیں ، دنیا کے سارے لوگ ان سے یہ کہدیتے ہیں ارے” بے وقوفو” زرا عقل سے کام لیا کرو ،آپ کا یہ مطالبہ جنگل کے حیوانی معاشرے میں شاید قابل قبول ہو مگر انسانی معاشرے میں ہرگز قابل قبول نہیں ـ  انسانی معاشرے میں قانون کی پادشاہت ہوتی ہے ،عدالت کی میز پر ہی انسانوں کے مطالبات کی صحت وسقم کی جانچ پڑھتال ہوتا ہے ، عدالت کے کمرے میں ہی مجرم اور غیر مجرم کا فیصلہ صادر ہوتا ہے،  عدالت کے دائرے سے ہٹکر فیصلے کا مطالبہ کرنا بہت بڑا جرم شمار ہوتا ہے .. لیکن پہلی بار  پاکستانی ریاست  کے اندر ہم نے یہ دیکھا اور سنا کہ عرصے سے لاپتہ افراد کے لواحقین نے کراچی میں دھرنا دے کر جب اپنی حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ ہمارے لاپتا افراد اور جوانوں کو عدالت میں پیش کرو ،اگر ان کا کوئی جرم ثابت ہوا تو ان کو قانونی سـزا دلوانے میں دیر نہ کرو! … تو ریاست مدینہ کا خواب دیکھنے والوں نے مطالبہ کرنے والوں کو ہی مجرم ٹھرایا ، ان پر ایف آئی آر کا پرچہ کٹوایا ،ان کو ملک دشمن عناصر قرار دیا، ان کے نام دہشتگردوں کی لسٹ میں درج کروائے ، ان کے خلاف جعلی کیسز کے کاغزات بنوائے ، پرامن طریقے سے دھرنے میں بیٹھے ہوئے شرکاء کے درمیان پولیس کی بھاری نفری کے ذریعے خوف ودہشت پھیلائی اور بہت سارے جوانوں کو پکڑوا کر جیل کی کوٹھریوں میں بند کروائے گئے ـ

اس کالے قانون اور پرامن قوم پر ڈھائے گئے ظلم و ستم کو دیکھتے ہوئے ہر باشعور انسان ریاست مدینے کے دعویدار اقتدار پر براجمان حکمرانو سے  یہ کہرہا ہے کہ اے عقل کے اندھو ” تمہاری یہ غلط حرکت تمہیں لے ڈوبے گی ، تمہاری عقل پر پوری دنیا ماتم کررہی ہے ،تمہارے اس ناروا اقدام سے پوری دنیا میں پاکستان بدنام ہورہا ہے، تاریخ کے سینے میں یہ ضبط ہورہا ہے کہ انصاف حکومت کی ناانصافیاں غیر محدود ہوکر رہ گئیں، جس وقت پوری دنیا قانون اور عدالت کے لئے ترس رہی تھی انصافی حکومت کے ناداں حکمرانوں نے عدالت میں لوگوں کو پیش کرنے کا جائز مطالبہ کرنے والوں کو مجرم قراردیا اور انہیں ماہ رحمت میں بھی اپنے پیاروں کو انصاف دلانے کے لئے دھرنے میں  استقامت کا مظاھرہ کرنے پر مجبور کیا ـ

 ہم پاکستان کے حکمرانوں سے اتنا عرض کرنا چاہیں گے کہ اس طرح کے حساس مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے ـ جرم بتائے بغیر افراد کو غائب کرنا محب قوم حکمرانو کا شیوہ نہیں ـ جوان کسی  بھی ملک کا بڑا سرمایہ ہے جسے تحفظ فراہم کرنا ہی ریاست کے مفاد میں ہے ـ حکمران” یہ بات بھی پلے باندھ لیں کہ پرامن  طریقے سے جائز حقوق کے حصول کے لئے دھرنا دینا جرم نہیں ـ یوں تو ہرروز پاکستان کے مختلف شہروں میں  تظاھرات اور جلسے جلوس نکلتے رہتے ہیں ، جن میں ذیادہ تر حکومت کے خلاف نعرہ بازیاں ہوتی رہتی ہیں ، لوگ حکمرانو کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں ،کچھ عرصہ قبل فیض آباد میں دھرنے کے اجتماع سے خطاب کے دوران مولانا خادم رضوی نے پاکستانی حکمرانو کو جو میٹھی زبان استعمال کرکے ریکارڈ قائم کیا ہے اس سے سارے پاکستانی واقف ہیں ـ مگر مکتب علوی اور حسینی سے تعلق رکھنے والوں نے جہاں جس وقت بھی دھرنا دیا ہمیشہ وہ پرسکون رہا ،انہوں نے کھبی بھی حکومت اور اس کے کارندوں کو ناسزا اور نازیبا الفاظ سے خطاب نہیں کیا بلکہ ہمیشہ محترمانہ انداز میں اپنے جائز مطالبات اقتدار اعلی کے کرسی نشین ذمہ دار افراد تک پہنچانے کی کوشش کی، حالیہ کراچی کے دھرنا بھی بالکل پرامن رہا ، اس کے شرکاء اور لاپتہ افراد کے ورثاء جزباتی نہیں ہوئے ، انہوں نے غیر معقول جوش وجزبے کا مظاھرہ نہیں کیا ، حکومتی املاک کو نقصان نہیں پہنچایا، کہیں ایک پتہ تک نہیں ہلایا بلکہ انہوں نے حسب سابق منطقی راستہ اپنایا ،  وہ شہر کراچی میں صدر مملکت عارف علوی کی نجی رہائش گاہ کے قریب جمع ہوگئے اور یک زبان ہوکر جناب صدر مملکت سے اپنے لاپتہ افراد کو قانون کے دائرے میں کھینچ لانے کا مطالبہ دھراتے رہے ، انٹیلی جنس اداروں سے رابطہ کرکے لاپتہ جوانوں کو عدالت میں پیش کرنے کا آنجاب سے تقاضا کرتے رہے  ، مگر صدر مملکت سمیت اغیار کے اشارے پر ناچنے والے حکمرانوں نے ان کے جائز اور منطقی مطالبے کو عملی جامہ پہناکر قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کی کوشش کرنے کی بجائے دوسروں کے اشارے سے انہیں محکوم کیا ،پر امن دھرنے کے شرکاء پر مختلف قسم کے الزامات لگائے ،جوانوں کی ایک خاصی تعداد کو قیدی بناکر لاپتہ افراد کے ورثاء کے زخموں پر نمک چھڑکایا ـ

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بہادر آباد تھانے میں دھرنے کے شرکاء کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے، جس میں مدعی اے ایس آئی تعویذ گل نے بیان دیا ہے کہ صدر پاکستان عارف علوی کی رہائش گاہ محمد علی سوسائٹی بہادرآباد میں مسنگ پرسنز کمیٹی کے سربراہ راشد رضوی، صغیر جاوید، صفدر شاہ، حسن رضا و دیگر اشخاص کے اکسانے پر نامعلوم افراد نے، جن میں عورتیں بھی شامل تھیں جن کی تعداد ڈھائی سو سے تین سو کے درمیان ہے دھرنا دیا ہوا ہے۔ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دھرنے میں کچھ اشخاص مسلح ہیں اور ڈنڈوں سے بھی لیس ہیں اور وہاں نعرہ بازی، ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ، ٹریفک اور پیدل اشخاص کی آمد و رفت میں مزاحمت، حکومت و ملک اور فورسز کے خلاف نعروں اور امن و امان کے قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی تھی اور شرکاء اپنے بیانات سے ملک کو فساد کی طرف بھی دھکیل رہے تھے۔وائس فار شیعہ مسنگ پرسنز کے سربراہ راشد رضوی نے کہا ہے کہ دھرنے کو گیارہ دن ہوگئے ہیں جس میں خواتین اور بچے بھی موجود ہیں جو اس گرمی میں روزے کے ساتھ ہیں، یہ پرامن دھرنا ہے جس میں ایک گملہ تک نہیں توڑا گیا۔وائس فار شیعہ مسنگ پرسنز کے مطابق پورے پاکستان سے 80 شیعہ نوجوان لاپتہ ہیں جن میں سے 41 کا تعلق کراچی سے ہے، جن کی بازیابی کے لیے گذشتہ تین سالوں سے تحریک جاری ہے۔

وائس فار شیعہ مسنگ پرسنز کے سربراہ راشد رضوی سڑکوں اور پریس کلب کے باہر متعدد بار احتجاج اور بھوک ہڑتال کرچکے ہیں، اس کے بعد انھوں نے ایک مارچ کیا تھا جس کے بعد گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ملاقات ہوئی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس کے بعد انہوں نے دو بار سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا گھیراؤ کیا اوران سے ملاقات بھی ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ’ انھوں نے سارے کیسز دیکھے اور کہا کہ ہمارے لوگ نہیں اٹھاتے ۔

انصافی حکمرانوں کو یہ بات اچھی طرح ذھن نشین کرلینی چاہئے کہ یہ آپ کے امتحان کا کڑا وقت ہے ہمیں پتہ ہے آپ کن کے اشارے سے پاکستان کے مختلف شہروں سے غریب افراد کو چن چن کر لاپتہ کیا جارہا ہے اور انہیں کن اہداف کی تکمیل کے لئے عدالت میں پیش کرنے سے گریزاں ہیں پاکستان بنانے اور بچانے والوں کے ساتھ اس طرح ظالمانہ سلوک کرنے کا نتیجہ سنگین ہے ـ ہر باشعور انسان پاکستانی حکمرانوں سے یہ سوال کررہا ہے کہ کیا لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ کرنا جرم ہے ؟

تحریر : محمد حسن جمالی

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*