تازہ ترین

روتے ہوئے بازار میں نفرت نظر آتی ہے!!!

جاگیر محبت کی بات کرتا ہوں نہ ہی اس سلسلے کا مقلد ہوں ۔دل کی سنتا ہوں اسی لیے ہارٹ اٹیک نامی غیر اعلانیہ بیماری سے قریبی رشتہ رکھتا ہوں لیکن اس کے ساتھ ساتھ خداونداتعالٰی کے ظہور ہر وقت دعا گو رہتا ہوں کہ غیر اعلانیہ تمام بلاوں سے مجھے ادنٰی سا غلام کومحفوظ رکھیں۔شاید مجھ گہناہ گار کی دعا اُس رب جلیل نے سُن لی ہو اس لیے آج تک تمام تر آفات سے محفوظ ہوں ورنہ ہم جیسے کمزور دل کے انسان کو سماجی مسائل پرمشتمل مسائلستان ہارٹ اٹیک جیسے جان لیوا بیماری کا کب سے شکار بنا لیتا۔ویسے ارض گلگت بلتستان میں ہارٹ اٹیک نامی بیماری نے دن دھاڑے کئی نامی گرامی شخصیات کے ذندگی کا چراغ گلُ کر چکے ہیں۔غیر اعلانیہ سے یاد آیا آج کل ہمارے ملک میں ہر فیصلے غیر اعلانیہ اور غیر متوقعہ طریقے سے انجام پا رہے ہیں۔ شاید اسلامی مہینہ شعبان کی آخری تاریخ تھی ہم بھی چہل قدمی کی خاطر بازار چلے گئے معذرت شاید یہ الفاظ میرے جیسے غربت کے مارے مسافرِ شکم کے لیے زیب نہیں دیتا ہو۔کیونکہ چہل قدمی کا لفظ امیروں کی ایجاد ہے اور ہم چہل قدمی کے لیے تھوڑے گئے تھے وہ تو رمضان شریف کے حوالے سے ہمیں خریداری کرنی تھی۔گو سامان لینے کے لیے دکانوں کی خاک چھاننا شروع کیا تو یہ بات ہم پر عیاں ہو گئی کہ مہنگائی کے طوفان نے ایک مرتبہ پھر بازار امیراں کا رخ کیا ہے۔بازار امیراں اپنی ایجاد ہے یعنی بازار ہی امیروں کا ہوتا ہے۔ اسی لیے اردو زبان کے ناموروں سے معزرت ویسے بھی ہمارا کالم پڑھنے کے بعد اردو زبان کے ماہرین ہمیشہ آپے سے باہر ہوتےہیں۔اور ہم یہ سمجھانے کی کوشش میں ہمیشہ محوگرداں رہتا ہے کہ سماج کا طالب علم ہوں سماجی مسلے کی بات کرتا ہوں اور حضرت گرائمر کے رموز و اوقاف سے روگردانی لاعلمی کی بنیاد پر انجام دیتا ہوں۔اردو اور سماج کی بحث طویل ہوتی جا رہی ہیں۔اور میرے قارئین ہمیشہ کالم میں میری آب بیتی کو لے کر شکوہ کرتا رہتا ہے اس لیے قارئین کی قیمتی وقت کا خیال رکھنا ”ضروری اور مجبوری “دونوں بن جاتی ہے۔ضروری کیوں ہے اس پر بات نہیں کرونگا کیونکہ اہل علم اس حوالے سے خوب واقف ہے اور مجبوری اس لیے ہے راقم کے قارئین کی تعداد پہلے ہی محدود ہے اور ذیادہ ذہین خراشی کر کے مزید رسک نہیں لونگا۔چونکہ ایک کالم نگار کے لیے سب سے بڑا سرمایا اُس کے قارئین ہی ہوتے ہیں۔ تو ہم کہہ رہے تھے کہ جب مارکیٹ میں قدم رکھا اور اسباب رمضان کے قیمت کے بابت پوچھا گیا تو قیمتیں سُن کر ہمارے ہوش ہی اُڑ گئی۔ہم نے کہا جناب رمضان آتے ہی یہ مہنگائی کیسی تو دکاندار سے جواب ملا بابو صاحب یہاں ہر چیز غیر اعلانیہ ہوتے ہیں۔بابو صاحب کیا کہا ہم بھی غیر اعلانیہ طور پر خریداری میں کود پڑے لیکن جب پیسے کاتقاضا کیا گیا تو ہم سکتے میں آگئے اور کیا کرتا بابو نام کی بھرم بھی رکھنی تھی چپ چاپ بٹوہ خالی کر کے گھر آگئے تو کیا دیکھتا ہے ابھی تو سامان کی فہرست کا آدھا بھی نہیں ہوا تھا اور نقدی کا کیا تھا سب صفایا ہو چکا تھا۔ایک دو آدھ اشیا کو لے کر خریداری تو معمول کی ہی تھی لیکن بجٹ معمول پر نہیں تھا پھر سوچا آخر ہوا کیا تو جواب ملا جناب رمضان شریف کی آمد ہے۔مسلمانوں کا پسندیدہ ترین مہینہ جس میں ذخیرہ اندزوں اور سرمایہ داروں کی چاندنی ہو جاتی ہیں۔اللّہ تعالی کی طرف سے رمضان مبارک کو مسلمانوں کے لیے پاک مہینہ قرار دیا گیا ہے اور اس مہینے کو عبادات و ریاضت کا مہینہ گردانتے ہیں۔لیکن یہ مسلمان جسے دیکھ کے شرمائےیہود والی مثال نہ جانے کیوں اسی مہینے کو معاشی حب کا درجہ دیتی دکھائی دیتا ہے۔یہاں پر میں دوش صرف سرمایا داروں پر نہیں ڈالوں گا بلکہ مجھ سمیت تمام لوگ اس مہینے کو منافع خوری کے طور پر لیتے ہیں۔دنیا کے اکثر ممالک میں مذہبی تہواروں کے دوران مناسب قیمت سے کم قیمت پر لوگوں کو اشیائے ضروریہ فراہم کرتا ہے تاکہ وہ مذہبی رسومات مطمئن ہو کر انجام دے سکے لیکن ہمارے ملک میں ہم کسی تہوار کے انتظار میں اس لیے رہتے ہے کہ سال بھر کا خرچہ نکل سکے۔اسی دعا کے ساتھ اللّہ ہم سب کو دوسروں کے دکھ درد سمجھنے کی توفیق دے۔

تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*