محکمہ تعلیم کا کارنامہ ،کھرمنگ غندوس میں 1960 میں بننے والا اسکول آج بھی دو کمروں پر مشتمل، مگر کلاسیں میٹرک تک پونچ گئی۔

کھرمنگ( پ،ر)غندوس کھرمنگ میں 1960 میں بننے والے پرائمری سکول میں کلاسیں بڑھتے بڑھتے دس تک پہنچ گئی مگر کمرے 1960 والے وہی دو ہی ہیں۔ بچے زمین پر بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق مذکورہ سکول میں جدید طریقہ تعلیم ای-سی-ڈی بھی کی کلاسیں بھی چل رہی ہیں۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں ایسے ماڈل سکولز ہوں تو یقینا اگلے چن سالوں میں تعلیمی پسماندگی کے اندھیروں میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ سکول کی حالت زار دیکھ کر یہ کہنا غلط نہ ہو گاکہ غندوس کے عمائدین میں ہر پارٹی کے جو بڑے بڑے سرکردگان اور ایک سابق امیدوار ممبر اسمبلی ہیں ان سب نے اب تک ذاتی مفادات کے حصول کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے۔

محکمہ تعلیم کو چاہئے کہ اخباری بیانات میں تعلمی ترقی کی دنیا سے نکل کر اس طرح کے دور دراز سرحدی علاقوں کے تعلیمی مسائل پر توجہ دیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc