تازہ ترین

گھوٹکی کے غلام رسول اورزرینہ۔۔۔

گھوٹکی سے تعلق رکھنے والے غلام رسول اور زرینہ نے پسند کی شادی کی تھی جس کے بعد کاروکاری کی رسم کے مطابق قتل کا فیصلہ سنایا گیا دونوں میاں بیوی نے اس بھیانک اورکالی رسم کے خلاف آوازاٹھاتے ہوئے انصاف کے حصول کے لئے اسلام آباد کے اعلیٰ ایوانوں تک رسائی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اوراسلام آباد پہنچ گئے لیکن ان کوکیاپتہ تھا ”دورکے ڈوھول سہانے ”ہوتے ہیں اورایوان صدر،وزیراعظم ہائوس،سپریم کورٹ اوردیگردفاترکی تصاویرصرف ٹی وی اوراخباروں میں اچھی نظرآتی ہیں حقیقت کچھ اورہے ان کے بارے میں کہا سناسب سراب کے علاوہ کچھ نہیں ہے صدر،وزیراعظم اورچیف جسٹس صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس اورلبوں پرمسکراہٹ سجائے صرف تقریبات میں نظرآتے ہیں حقیقی زندگی میں تو۔۔۔۔۔ ۔خیرباہمت جوڑے نے کمرکس لی اورایک دوسرے کوحوصلہ اور سہارادیتے ہوئے چودہ مہینے ملک کی عدالت عظمیٰ،ایوان صدراور وزیراعظم ہائوس کے ناک کے نیچے پریس کلب کے سامنے کھلے آسمان تلے کس مشکل اورمسائل کے ساتھ کاٹے وہ اللہ ہی جانتاہے اس دوران جوڑے نے ظلم کی داستان انصاف فراہم کرنے والوں تک پہنچانے کی ہرممکن کوشش کی مگرنقارخانے میں طوطی کی آوازکی طرح ہرباردب گئی ملک میں انتخابات ہونے لگے تو امید پیداہوگئی کہ ریاست مدینہ کے قیام کی صورت میں انصاف تو چل کران کی دہلیزتک آجائے گا مگریہ بھی وہم است وخیال کے مصداق بن کررہ گیاپچھلے سال جب راقم پریس کلب سے آرہاتھا تو ایک بینیرکے ساتھ کھڑے میاں بیوی سے مختصرسی گفتگوہوئی تھی وہ پرامید تھے کہ ان کے ساتھ انصاف ہوگا اوروہ بہت جلد اپنے علاقے گھوٹکی واپس چلے جائیں گے کل سوشل میڈیا پراس خاتون کی ایک ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوجس میں وہ صدرپاکستان ،وزیراعظم،آرمی چیف ،چیف جسٹس کے سامنے انصاف کی جولی پھیلارہی تھی اوروہ کہہ رہی تھی کہ کیا کسی حکمران کے سینے میں دل نہیں ہے ؟کیااسلام آباد میں مسلمان نہیں رہتے اوریہ حکمران مسلمان نہیں ہیں ہماری جان کو خطرہ ہے کئی دنوں سے بھوکے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ انصاف ملنے کی امید میں شدید سردیاں بھی یہاں پرگزاری اب گرمیاں اوررمضان بھی یہاں گزارنے پرمجبورہیں چودہ مہینے گزرنے کے باوجود ان سے یہ تک کسی نے نہیں پوچھا کہ کیاہوا ہے اورکیوں یہاں بیٹھے ہیں؟ان کے حال سے یہی محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہاں انصاف کی بولی لگتی ہے جو بولی میں شامل نہیں ہوسکتا انصاف سے محروم رہتاہے اور انصاف ان گھروں کی لونڈی ہیں جوبااثر اورامیرہیں۔
ان کا شاید یہ خیال تھا کہ گھوٹکی میں تو وڈیرے کی حکومت اور اس کا طوطی بولتا ہے پیپلزپارٹی کا منتخب نمائندہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے ایس ایچ اوان کے اشارہ پرناچتاہے مگر اسلام آباد میں تو ملک کی عدالت عظمیٰ ہے صدراور وزیراعظم رہتے ہیں ان کو ملک میں پیش آنے والے واقعات سے ہرپل آگاہ کرنے والے گلی کوچوں تک میں پھیلے ہوئے ہوتے ہیں سب سے بڑھ کرآزاد میڈیا جو کسی وڈیرہ اوراسمبلی ممبرکو خاطرمیں نہیں لاتاہے کسی نہ کسی طرح ان کے ساتھ ہونے والے ظلم اورناانصافی کی داستان حکمرانوں تک پہنچ جائیں گی اوران کے ساتھ انصاف ہوگا اوروہ بھی عام شہری کی طرح کم ازکم چین اورسکون کی زندگی گزارسکیں گے مگرکسی کے کانوں پرجوں تک نہیں رینگی اسلام آباد پریس کلب کے سامنے روزانہ کم سے کم دوسے چارمظاہرے ہوتے ہیں اسی طرح این جی اوزسے تعلق رکھنے والے افراداحتجاج اورمظاہرے کرتے رہتے ہیں صحافیوں کاغول یہیں سے گزرتارہتاہے لیکن کسی کی بھی نظراس غریب جوڑے پرنہیں گئی کسی نے بھی نہیں پوچھا کہ اس کھلے میدان میں کیسے زندگی گزارتے ہیں حکومت اورذمہ داراداروں نے بھی نہیں سوچا کہ ملک کے دوردرازعلاقوں میں لوگوں پرکس طرح کے ظلم ہوتے ہیں انسانی اورخواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں جو کبھی زمین اورآسمان کے قلابے ملارہی ہوتی ہیں ان کو بھی اس جوڑے کے ساتھ ہونے والے ظلم اوراسلام آباد میں کسم پرسی میں گزارنے والی ان کی زندگی نظرنہیں آئی سوشل میڈیاکے صارفین چائے والے کو راتوں رات ہیروبنانے میں دیرنہیں لگاتے لیکن ان کے لئے آوازاٹھانے والا کوئی نہیں ہے ایسامحسوس ہورہاہے کہ نہ صرف ملک کی اعلیٰ عدالت کے جسٹس صاحبان،ایوان صدرمیں صدرکی شکل میں موجود مجسمہ اور ریاست مدینہ کے قیام کے دعویدارکے سینے میں دل نہیں ہیں بلکہ ریاست کا چوتھا ستون بھی سیمنٹ اورسریا سے بناہواہے یہاں جو انسان نظرآتے ہیں ان کی شکل وصورت انسانوں جیسی ہے انسان ہیں جو چل پھررہے حقیقیت میں ایسا نہیں ہے اس آب وگل کے میدان میں انسان نظر آرہا ہے نہ ہی انسانیت کہیں موجود ہے ان واقعات سے مشہورایرانی شاعربلبل شیرازشیخ سعدی کا شعربھی جھوٹا ثابت ہونے لگاہے جو اقوام متحدہ کے مین دروازے پرلکھا ہواہے جس میں وہ بڑے فخرسے کہتاہے کہ”بنی نوع انساں ایک دوسرے کے اعضاء ہیں اورایک ہی گوہرسے ان کی تخلیق ہوئی ہے جب جسم کے ایک عضو یا حصےمیں درد ہوتاہے یا تکلیف پہنچتی ہے تو دوسرے جسم کے تمام اعضاء بے چین اوربے قرارہونے لگتے ہیں”لیکن یہاں بے قراراوربے چین ہونا تودورکی بات مجال ہے کانوں پرجوں تک رینگے ۔
ہم اعلیٰ عدالت میں بیٹھے ہوئے منصفوں یا ملک کے حکمرانوں سے کیا توقع کریں وہ کوئی دوسری مخلوق تو نہیں ہے ان کا بھی اسی انسانوں کے قبیلے سے تعلق ہے بات تو یہ ہے کہ انسانیت کہیں کھوگئی ہے دورحاضرکے انسان شرف انسانیت سے گرگیاہے اورمیرے خیال میں تو انسان آج کل اشرف المخلوقات کے درجے پرفائزنہیں رہا جس کی جہ سے اپنے قبیلے کے افراد کے دکھ درد میں شریک نہیں ہورہا یااس کی وجہ سے آنکھوں پرچربی چڑھ گئی ہے یاحیوانوں نے انسانوں کی شکل کا ماسک چڑھایاہے جس کے باعث درندگی آگئی ہے اور حق ،انصاف ،ظلم اور بربریت میں تفریق نظرنہیں آتایہاں کسی کا بھی جان ،خون اورعزت محفوظ نہیں کیا؟ ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوچکی ہے سب جانتاہے کہ ملک میں انصاف کا نظام موجود ہے عدالتوں کی موجودگی میں وڈیرے کاکیا مجال ہے کہ وہ حکومت کی رٹ کو للکارے اورماورائے عدالت ایسا فیصلہ سنائے جو اسلامی اوردنیاوی اصولوں کے یکسرمنافی اور برخلاف ہے کیا قبائلی رسم اسلامی تعلیمات سے بالاترہے؟خلفاء راشدین کے سنہرے دورمیں دریائے فرات کے کنارے کتابھوک سے مرجائے تو ذمہ دارخلیفہ وقت قرارپاتاہے لیکن یہاں کوئی ذمہ داری اٹھانے کے لئے تیارہی نہیں ہے اسلامی تاریخ میں ایسے بے غیرت حکمران شاید ہی گزرے ہوں ورنہ ایک عرب تاجرکی بیوہ کی دہائی پرحجاج بن یوسف راجہ داہرپرلشکرکشی کرتاہے اورتاریخ میں امرہوجاتاہے۔
حاتم طائی کی بیٹی قید ہوکربارگاہ رسالت میں پہنچتی ہے سرسے تھوڑا سا ڈوپٹہ سرکنے کی وجہ سے بال نظرآرہے تھے آپۖ نے حضرت عمرسے فرمایا کہ عمربیٹی کے سرپردوپٹہ دو۔حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ ۖیہ تو کافرکی بیٹی ہے ۔آپ ۖنے روکرفرمایا عمربیٹی ،بیٹی ہوتی ہے چاہے کافرکی ہویا مسلمان کی۔آپ ۖ اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اورچادراٹھا کراس بچی کی سرپررکھ دی۔ہم اسی نبی کی امتی ہیں ہمارے لئے ان کی زندگی مشعل راہ اوراسوہ حسنہ ہے ظلم کے خلاف آوازاٹھانا اسلامی تعلیمات کاحصہ ہے امام حسین نے یزید کے خلاف حق کی آوازبلند کی فلسفہ عاشورہ اگردولفظوں میں بیان کیا جائے تووہ ظلم کے خلاف ڈٹ جانا ہے حضرت ابوسعد نے رسالت مآب سے نقل کیا ہے آپۖ فرماتے ہیں” افضل الجہاد کلمة الحق عندہ سلطان جابر ”بہترین جہاد جابرسلطان (حکمران)کے سامنے کلمہ حق اداکرناہے۔ لیکن ہم فلسفوں،حق گوئی اوربے باکی سے دورہوکرصرف رسمیں اداکررہے ہیں علامہ اقبال کو بھی شکایت تھی یہی وجہ ہے کہ ایک جگہ پرفرماتے ہیں۔
رہ گئی رسم آزاں روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی
حقیقت یہ ہے کہ وطن عزیز میں قانون مکڑی کے جال کی طرح ہے جس میں صرف کمزورہی پھنستے ہیں امیراوربااثرطبقہ اس قانون سے بالاترہے یہی وجہ ہے کہ ملک میں ناانصافیوں کی ان گنت داستانیں ہیں انصاف کے حصول کی امید میں عدالتوں کاچکرکاٹتے کاٹتے ہزاروں لوگ نے جمع پونچی کے ساتھ اپنی زندگی بھی گزاردی لیکن انصا ف نہیں ملے۔
ملک کے قبائل میں ایسے بکواس اوراسلام سے منافی رسوم اس وقت بھی چل رہی ہیں جو کسی صورت ایک اسلامی ریاست کے شایان شان نہیں جن کو ختم کرنے اورقانون کی بالادستی کو زبانی جمع خرچ سے نکال کرحقیقی معنوں میں یقینی بنانے کے لئے سنجیدہ اورٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اس وقت المیہ یہ ہے کہ قانون کے شکنجے میں غریب ہی کسے جاتے ہیں ۔ریاست کی ذمہ داری ہے کہ مظلوم کی آوازبنتے ہوئے ظالم سے سختی سے نمٹے کوہستان میں کئی نوجوان لڑکیوں کو قتل کیا گیا حقیقت کو منظرعام پرلانے والے بھی نہیں بچے دراصل یہ نظام اورقانون کی عملدآری میں موجود خامیوں کا نتیجہ ہے زرینہ جیسی مظلوموں کی داد رسی کے لئے ان خامیوں کو دورکرنے اوربناکسی مصلحت پسندی کے ریاسی رٹ کو قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ وماعلینا الا البلاغ

تحریر:حبیب اللہ آل ابراہیم

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*