تازہ ترین

ضلع دیامر کی شرح خواندگی اور ہمارے فرائض۔۔۔۔

گلگت بلتستان کا سب سے پسماندہ ضلع ضلع دیامرہے۔اس کو پسماندہ رکھنے میں کسی ایک کا ہاتھ نہیں ہے۔اس جرم میں ہم سب زمہ دار ہیں۔اور ہمارے سیاسی جو نمائندے ہیں ان کا اصل اہداف یہی ہوتاہےکہ عوام جاہل رہے،آن پڑھ رہے اور ایک دوسرے سے لڑتےرہے۔کیونکہ کسی قوم میں تعلیم آتی ہےتو شعور بھی خود بخود آتی ہے تو پھر وہ اپنے اچھے برے کے سوچتےہیں۔اب رہےگیا گورنمنٹ ان کی کمزوری یہ ہےکہ دیامر والوں کی آپس کی چپقلشوں کی وجہ سے ”لا اینڈ آرڈر“ نافذ العمل نہیں کرواسکتی ہے۔دیامر والوں کو کھبی سیاسی نمائندوں نے،کھبی حکومت نے،کھبی اپنے بےقوفی کی وجہ سے اور کھبی مذاہبی ٹھکیداروں نے کرایہ کے گنڈوں کے طرح استعمال کیاہے۔جس سے قوم پسماندہ سے پسماندہ تر ہوتے گئے۔کسی زمانے میں دیامر میں یونیورسٹی ہوتی تھے،علمی ماہرین اور عدالیہ ہوتی تھی یہ ایک تاریخ کا حصہ ہے۔لکین پھر دیامر والے پچھے کے طرف چلیے گئے اور دنیانے ترقی کے منازل طے کرنا شروع کے، دیامر کو پسماندہ رکھنے میں ایک بڑی وجہ عصری اور دینی تعلیم بھی بنی یہ دونوں طبقے ایک دوسرے کے بالکل مخالف میں کھڑے رہے۔ایک دوسرے کے عصری اور دینی تعلیم پہ فتوی لگانے کے بجائے مل کے کام نہیں کرسکے اور بطور قوم دیامر والوں نے بھی کوئی کوشش نہیں کی۔اس وجہ یہ ضلع تعلیمی میدان میں بہت پچھے چلےگے۔تازہ ترین سروے ”الف اعلان“ اور یونٹیڈ نیشن کے شراح خواندگی کے حوالے سے رپورٹ آپ کو سوچنے پہ ضرور مجبور کری گی۔ ضلع دیامر میں لڑکوں کے شرح تعلیم %40 فیصد اور لڑکیوں کی شرح تعلیم صرف %7 فیصد ہیں۔مارچ 2019 کی تازہ ترین سروے کے مطابق جو بچے اسکول نہیں جاتے ایک سے لیکر 16 سال کی عمر تک بچوں کی تعداد ہیں114535 ہیں۔جن میں 22117 بچے پانچ سال سے کم عمر کےہیں۔یعنی و سکول نہیں جاسکتے اور جو سکول جانے والے بچوں کی تعداد ہیں 49937 جن میں سے 27592 بچے گورنمنٹ اسکول جاتے جبکہ 5850 بچے پرائیوٹ سکولوں میں جاتے اور 16495بچے دینی مدارس جاتے ہیں۔شعور اور علم کی اہمیت نہ ہونے کی وجہ سےجو اسکول جانے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد ہیں 53940 ہیں۔ پورے ضلع دیامر کے جس گاوں اور شہر سے بچے سکول نہیں جاتے ان کے اوسط مندرجہ زیل ہیں۔جو آپ کو چونکادینے والی رپورٹ ہے۔(1)۔۔۔ چلاس ٹاون ایریا سے 591 بچے 474 بچیاں ٹوٹل 1065 بچیے اسکول نہیں جاتےہیں۔(2)۔۔۔ گوہر آباد سے 459 بچے اور 513 بچیاں ٹوٹل 972 بچے اسکول نہیں جاتے ہیں۔(3)۔۔۔۔گونر فارم سے 2547 لڑکے 3588 لڑکیاں ٹوٹل 6135 بچیے اور بچیاں اسکول نہیں جاتے(4)۔۔۔تھک نیاٹ سے 2885 بچے 3263 بچیاں ٹوٹل 5348بچے اسکول نہیں جاتے ہیں۔(5)۔۔۔کھنر بٹوگاہ سے 2514 لڑکے اور 3502 لڑکیاں ٹوٹل 6016 بچے اسکول نہیں جاتے(6)۔۔۔تھور ہوڈر سے2469 لڑکے جبکہ 3398 لڑکیاں ٹوٹل 5768 بچے اسکول نہیں جاتےہیں۔(7)۔۔کھنبری ڈوڈشال سے 238 لڑکے جبکہ 2790 لڑکیاں ٹوٹل 5173 بچے اسکول نہیں جاتےہیں۔(8)۔۔۔داریل مینکال یونین سے 4090 بچے 5133 بچیاں ٹوٹل 9223 بچے اسکول نہیں جاتے جبکہ داریل سیمگال یونین سے 3317 بچے جبکہ 3214 بچیاں ٹوٹل 6531 بچے اسکول نہیں جاتےہیں۔(9)۔۔۔تانگیر گبر یونین سے 2156 بچے اور 2998 بچیاں ٹوٹل 5154 بچے اسکول نہیں جاتے جبکہ تانگیر یونین جگلوٹ سے 1229 لڑکے اور 1227 لڑکیاں ٹوٹل 2456 بچے اسکول نہیں جاتےہیں۔ ضلعی تعلیمی درجہ بندی کے حوالے سے 2016 اور 2019 کے سروے کے مطابق ضلع دیامر شرح خواندگی کچھ پوانٹ سے بہتر ہوئی ہے، یعنی 0 سے چوتھے نمبر پہ پہنچنے میں کامیاب ہوٸی ہے۔پاکستان میں شرح خواندگی کے لحاظ سے سب سے پچھے ضلع کوہستان(کےپی کے) 141 واں نمبر پہ اس کے بعد 140 واں نمبر پہ تھاکوٹ کے قریب ایک ضلع طورغر اس کے بعد 139 واں نمبر پہ سندہ کےضلع سجاوال کا نمبر آتاہے۔138 نمبروں کے ساتھ چوتھا نمبر پہ گلگت بلتستان کا ضلع دیامر آتاہے۔ پرائمری کے بعد تعلیم جاری رکھنے والے پاکستان لیول کے ضلعوں میں پہلا نمبر پہ ضلع ”ہنزہ“ کا آتاہے،دوسرے نمبر پہ ”نگر“ اور تیسرے نمبر پہ اسلام آباد آتاہے۔واضع رہے کہ یہ سروے رپورٹ پاکستان کے غیر سرکاری مستند ادارہ (الف علان) والوں کےہیں۔فیمیل ایجوکشن۔۔۔!!26 مٸ 2017 کو سچ ٹی وی نے UNICEF کے حوالے سے فیمیل ایجوکشن پہ رپورٹ پیش کی اس کے مطابق ”ہنزہ“ فیمیل ایجوکشن میں %87.7 جبکہ دوسرے نمبر پر ضلع غذر %70.7 فیصد اسی رپورٹ کے مطابق فیمل ایجوکشن میں ضلع دیامر %7 فیصد کے ساتھ ہیں۔یعنی سو میں سے صرف سات بچیاں اسکول جاتےہیں۔ پاکستان کی سرکاری و غیر سرکاری اور Unicef کے شرح خواندگی کے دل دہلادینے والے رپورٹوں سے اس بات کا اندازہ ہوگیاکہ اگر ضلع دیامر میں تعلیم کی تناسب کو بڑھانا ہیں تو فیمیل (خواتین) کی تعلیم کو فروغ دیناہوگا۔مائیں بہنیں جب پڑھی لکھی ہونگے تو ہر بچہ پڑھالکھاہوگا۔تحقیقی رپورٹوں سے اس بات کا تصدیق ہوگیاہےکہ تعلیم حاصل نہ کرنے کی وجہ غربت نہیں ہوتی بلکہ تعلیم حاصل نہ کرنے کی وجہ ”ماں“ کی غیر تعلیم یافتہ ہونا ہے۔جو مائیں غیر تعلیم یافتہ ہوتی ہے وہ اپنے بچوں کو پڑھانے کے دوڑ میں شامل نہیں ہوتی ہے اور باپ ہمشہ گھر سے باہر غم روزگا میں مصرف ہوتاہے، وہ چند پیسے کماکر گھر کے اخراجات پورے کرتے اس کی سوچ وہی تک محدود ہوتی ہے۔ضلع دیامر میں اگر کوئی یہ سوچتاہےکہ تعلیم کو فروغ دیں گے لکین خواتین کی تعلیم کو مزاہبی،ثقافتی یا کوئی رسمی ٹوپی پہناکر قد غن لگانا چاہتاہےتو وہ تعلیم کو فروغ نہیں دے رہا ہے بلکہ وہی پرانا رسم رواج اور اطوار انداز کو قائم رکھنا چاہتاہے اور اس طرح وعدوں،دعوں اور کھوکھالے نعروں سے تعلیم کا فروغ نہیں ہوتا ہے۔

تحریر: ضیاءاللّٰہ گلگتی

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*