تازہ ترین

گلگت بلتستان میں محکمہ پی ڈبلیو ڈ ی ترقی کازریعہ یاسرکاری خزانے کادشمن۔۔؟

محکمہ پی ڈبلیو ڈی گلگت بلتستان کا وہ واحد ادارہ ھے جس پر گلگت بلتستان کی ترقی جڑی ھوئی ھے اور ھر سال اربوں کے کام اسی ادارے کی توست سے کرائے جاتے ھیں اور تکمیل کے کچھ مھینے بعد ری پیئر کی نوبت آجاتی ھے لیکن اس ادارے کی بد قسمتی یہ رھی ھے کہ کسی بھی دور میں اس ادرے میں شفافیت،میرٹ اور معیار کو یکسر نظرانداز کیا گیا اور اپنی مرضی سے نھیں چل سکا اور نہ چلنے دیا گیا کیونکہ ھر منتخب ممبر اسمبلی اور کچھ ملک دوست بیروکیریٹس کی نظریں اسی ادارے پہ ھوتی ھیں اور آفسران کو مجبور کیا جاتا ھے کہ جو وہ کہنگے ویسے کام ھوگا کیونکہ انکو صرف اور صرف مال بنانا ھوتا ھے کیا پتہ اگلے الیکشن میں جیت نصیب ھوگی کی نھیں اور ساتھ میں گلا الیکشن بھی تو لڑنا ھے۔اور کچھ وطن دوست حضرات میرٹ ،شفافیت اور لوٹ کسوٹ کے خلاف آواز حق بلند بھی کرتے ھیں تو شیڈول فورتھ جیسے کالے قانون سے۔۔۔۔
دوستو جسکی وجہ سے آج اس ادارے کا چپراسی ھو کہ کیشئر یا اسٹیمیٹر یا ایکسئین کو لیجئے یا اس کا بوس سپرینڈنٹ انجئنئر کو دیکھو یا ان سب کا کرتا دھرتا چیف انجینئر پر نظر ڈال دو ایک سے بڑ کر ایک آپ کو چور اور مال بٹورنے والی مشین نظر آئنگے کیونکہ اس ادارے کا ماحول بنایا گیا ھی کچھ ایسا اور ایسے ماحول میں کیسے ممکن ھو یار کہ کوئی بھی کام میرٹ پہ ٹنڈر ھو اور کام کو معیار کی مطابق کرایا جاے۔۔۔
دوستو: چور دروازوں اور راتوں رات کئے جانے والے کروڈوں کے ٹینڈرز پر آج تک معیاری کام نھیں کیا گیا معیاری کام کیسے ھو چور دروازے سے ھی تو سرکاری خزانے کوآسانی سے اور تگڑا ٹیکہ لگ سکتاھے تاکہ مال بھی بن جاے کام بھی برائے نام اتنا ھو جاے کہ کسی وقت چیف سیکرٹری جیسا آفیسر وزٹ بھی کرتا ھے تو آسانی سے ماموں بنایا جاسکے اور ٹیکے کا ری ایکشن بھی قابل تشخیص نہ ھو۔۔۔لیکن شاباش اس ادارے نے ایک طبقے کو چور دروازے سے راتوں رات جو کروڈ پتی بنا دیا ھے شاید بل گیٹ بھی حیرت زدہ ھو انکی تیز ترین کمائی پر۔۔
دوستو کریں تو کیا کریں ادارے کے اعلی آفسران نے خود اپنی کمیشن کی خاطر ناقص کام کرنے والے کے خلاف کسی بھی وقت کاروائی کرنے کی زحمت نہ کی بھلے انکی ھزاروں اور لاکھوں کی کمیشن کی خاطر سرکاری خزانے کو کروڈوں کا ٹیکہ ھی کیوں نہ لگ جاے اور یہ ٹیکہ لگ رھا ھے جسکا ڈائریکٹ ری ایکشن شہر کی بگڑتی سڑکیوں پر ھوا ھے
میں یقین کیساتھ کہ سکتا ھوں اگر گلگت بلتستان میں اس محکمے کو درست کیا جاے اور ھر سال ھونےوالے کام کو میرٹ اور معیار کے مطابق کرایا جاے تو آئندہ چند سالوں میں گلگت بلتستان میں شاید کوئی کام کرنے کو رہ جاے لیکن یہاں ایسا نھیں کیا جارھا جان بوجھ کے ناقص کام ،ناقص میٹریل،پسند ناپسند کی بنیاد پہ سائیڈ سلیکشن اور چہرے دیکھ کر اسٹیمیٹ بنوایا جاتا ھے انکو نہ ادارے کی فکر ھوتی ھے اور نہ کام کی۔ان لوگوں نے محکمہ PWD کو خالہ جی کا گھر سمجھ رکھا ھے اور ایسے لوٹ رھے ھیں جیسے بابو جی کا ATM کارڈ ھاتھ لگ گیاھو۔
مجھے حیرت ھوتی ھے اس ملک کہ ایجنسیوںپرنیب نامی ادارےپر اوربیووکریسی پر جو بانگے دھل داوے تو کرتی ھے لیکن گرونڈ میں انکا کام ایسا جیسے انکا وجود ھی نہ ھو۔۔۔
ارے بھائی خدا کا خوف کرو یار کب تک یہ فراڈ،دوکھ بازی،چوری ،ڈاکہ زنی،رشوت خوری اور حرام کی کمائی پہ چلو گے آخر اپنے اس مردہ ضمیر پہ بھی رحم کرو یار کہ اب تو بس کردو۔۔۔
لیکن مجھے امید ھےجناب وزیراعظم عمران خان پر وہ بہت جلد نئے گلگت بلتسان کی طرف توجہ دینگے اور ایسے لوٹ کسوٹ کرنے والے اداروں میں موجود کالی بیھڑیوں کی عقل ٹھکانے کے لئے بہت جلد نیب کو گلگت بلتستان میں بھی کاروائی کرنے کا حکم دیں تاکہ بہت جکد گلگت بلتستان بھی کریپشن فری زون بن جاے۔۔۔

تحریر:امتیاز مھدی

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*