سانحہ ہنزہ کیس کے ایف آئی آر 19 میں نامزد قراقرم نیشنل مومنٹ کے اسیر رہنما افتخار حسین کربلائی کو اُنیس سال کی سزا۔

گلگت ( تحریر نیوز) انسداد دہشت گردی گلگت بلتستان کی عدالت نے سانحہ ہنزہ کیس ایف آئی آر انیس میں نامزد قراقرم نیشنل موومنٹ کے اسیر رہنما افتخار کربلائی کو انیس سال کی سزا سنائی ہے. کامریڈ افتخار کو اس سے پہلے 2 الگ الگ ایف آئی آر میں بھی سزا سنائی جاچکی ہے۔ کامریڈ افتخار حسین اور بابا جان سمیت اُن دیگر ساتھیوں نے سانحہ عطا آباد جھیل کی بحالی  کے لئے قومی سظح پر مہم چلائی تھی اور ہنزہ میں مقامی پولیس کی جانب سے ریاستی دہشت گردی کے تحت باپ بیٹے کی قتل کے بعد عوام کی جانب سے شدید ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ سرکاری املاک کو آگ لگانے پر سیاسی عناد اور جدوجہد سے خوفزدہ ہوکر کامریڈ بابا جان ، کامریڈ افتخار اور ساتھیوں پر الزام لگایا گیا۔ ۔اُنہوں نے‎‏ 4 اپریل 2010 کو گلمت ، جولائی 2010 کو حسینی اور مئی 2011 میں ششکٹ گوجال میں متاثرین کی بحالی مظاہرے کئے تھے۔ لیکن اُن کے سیاسی احتجاج پر و انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکےسزائیں سُنائی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ سانحہ علی آباد کے بعد کے عوامی ردعمل پر حکومتی نمائندوں کی طرف سے کاروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کے باوجود یہ سب ہورہا ہے۔ دوسری طرف سانحہ علی آباد کی انکوائری رپورٹ تاحال پبلک نہیں کی گئی جس میں زمہ داروں کا تعین کیا گیا تھا۔ افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ ان عدالتی فیصلوں کی خبر عوام تک نہ پہنچانے کیلئے لوکل میڈیا نے بھی زبان بندی کی ہوئی ہے۔

اس مسلے پرعوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان , پروگریسو یوتھ فرنٹ اور نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن گلگت بلتستان عدلیہ کی اس فیصلہ پہ اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلہ کے خلاف چیف کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے. اراکین نے اس سلسلے میں انسانی حقوق کے تنظیموں , ترقی پسند گروپوں , سول سوسائٹی کے افراد , آزاد میڈیا ہاوسز, نوجوانوں اور انسان دوست تنظیموں اور انفرادی طور پہ کام کرنے والوں سے مدد کی درخواست کی ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc