تازہ ترین

رمضان المبارک رحمتوں اوربرکتوں کامہینہ۔۔

کسی کے آنے کی آمد عام طور پر خوشگوار ہوتی ہے۔ اور اس کے استقبال کی تیاریاں بھی بڑے پیمانے پر کی جاتی ہیں۔ فی الوقت میں رمضان المبارک کی بات کر رہی ہوں جسکی آمد ہو چکی ہے۔اس کی آمد نہ صرف مسلمان کے لیے بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے ہر فرد کے لئے عالمی پیمانے پر خیروبرکت والی خبر ہے۔رمضان المبارک قمری مہینوں کا نواں مہینہ ہے۔ اسی ماہ میں ہماری رہنمائے تاحیات کتاب قرآن مجید کا نزول ہوا۔ اور اسی ماہ میں ہمیں ہمارا پیارا وطن پاکستان آزاد ہوا۔ ماہِ صیام کے معنی ہیں ایسا مہینہ جس میں روزے رکھے جائیں۔ روزے کو عربی زبان میں صوم کہتے ہیں۔ صوم کے لغوی معنی “رکنے” کےہیں۔ روزے کی اصطلاہی تعریف یہ ہے. جو شخص روزے کی اہلیت رکھتا ہے وہ بہ نیت عبادت صبح صادق سے سورج کے غروب ہونے تک کھانا پینا چھوڑ دے”
رمضان ایک ایسا مہینہ ہے جس میں مسلمان حقیقی مسلمان ہوتا ہے۔ کیونکہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین و سرکش جنوں کو بند کر دیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ شیطان ہی مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اگر آپ رمضان میں بھی برے کاموں سے باز نہیں آتے تو آپ کے معاملے میں شیطان کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اس ماہ میں بس آپ ہوتے ہیں اور آپکا رب ہوتا ہے۔ آپ کے دل موم کی طرح نرم اور آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ آپ ایمان کا بیچ اپنے اندر بوتے ہیں۔ اور وہ بویا ہوا بیچ جب پودا اور پھر درخت بنتا ہے تو آپ بادشاہت کی فصل کاٹ لیتے ہیں۔
اس مبارک ماہ کی اہمیت باقی مہینوں سے اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اس ماہ میں بہشت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں,اور دوزخ کے تمام دروازے بند کر دیے جاتے ہیں, ہماری روزمره کی زندگی اس ماہ میں خصوصی طور پر تبدیل ہوتی ہے۔ سحری کے وقت دیگر دنوں میں آپ سو رہے ہوتے ہیں تو اس ماہ میں آپ اپنے پیاروں کے ساتھ سحری کرتے ہیں۔ ذکرِ الہیٰ کرتے ہیں۔ حدیثِ نبوی ہے
کہ: سحری کا کھانا ضرور کھایا کرو، اس لیے کہ اس میں برکت ہے
باقی دنوں میں جہاں مغرب کے وقت ہم اپنے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ نمازِ مغرب ادا کرتے ہیں اور کچھ چھوڑ دیتے ہیں۔ جبکہ اس ماہ میں ہم اپنے پیاروں کے ساتھ بیٹھ کر افطاری کرتے ہیں، اس بہانے ہمیں ان سے اپنا رشتہ مضبوط کرنے کا اور انکے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملتا ہے۔ اور یہی ہمارے دین کی خصوصی خوبی ہے کہ یہ ہمیں مل جل کر رہنا سکھاتا ہے۔باقی دنوں میں جہاں مغرب کی آذان آپ کے مسجد آنے کا انتظار کرتی ہے تو اس ماہ میں آپ مغرب کی اذان کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ لہذا یہ ایک ایسا بابرکت مہینہ ہے کہ اس ماہ میں مسجدوں میں مسلمانوں کی آمد آمد ہوتی ہے ، مسجدیں سنور جاتی ہیں، اور روزے داروں کے چہروں پر نور جھلکتا نظر آتا ہے۔
یہ سب تو رمضان المبارک کی برکات و رحمتیں تھیں۔ جنہیں جتنا بھی بیان کیا جائے کم ہوگا۔ مگر ہمارے معاشرے میں رمضان کی آمد پر بہت سے منفی پہلو بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ روزہ رکھ کر بازاروں میں ایک دوسرے سے لڑتے پھرتے ہیں۔ جبکہ روزہ تو ہمیں صبر کا پیغام دیتا ہے۔ الله کو ہماری بھوک نہیں چاہیے اور نہ ہی وہ ہمیں ثواب کا لالچ دے کر بھوکا رکھنا چاہتا ہے۔ وہ توہمیں نیک ، صابر اور گناہوں سے پاک کرنا چاہتا ہے۔ حضور پاکؐ کا ارشاد ہے کہ:رمضان صبر کا مہینہ ہے۔ اور بے شک صبر کرنے والوں کو ہی ان کا ثواب بغیر گنتی کے بھرپور دیا جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ روزے دار کا سونا بھی عبادت ہے مگر اسکا مطلب یہ بھی نہیں کہ سحری کر کے روزہ رکھ کر سو جائیں اور شام میں اٹھ کر افطاری کر لیں۔ اس ماہ میں بھی اگر آپ کے دل پتھر کی طرح سخت ہوگئے اور آپ غافل کسان کی طرح سوتے رہے تو روزے,تراویح اور رحمت و برکت کا سارا پانی بہہ جاۓ گا۔ اور آپ کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آے گا۔
ہمارے معاشرے کا ایک درد ناک المیہ یہ بھی ہے کہ رمضان میں ہر دکاندار پچاس روپے کی چیز سو روپے میں بیچ کر تیزی سے مسجد کی طرف جاتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ کہیں نماز نہ قضا ہو جاۓ۔عرض یہ کہ رمضان کی بھی برکات سے فائدہ ہم کم اٹھاتے ہیں جتنا دوسروں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ ہمارے یہ اعمال ظاہر کرتے ہیں کہ ایمان کا بیچ اپنے اندر بویا ہی نہیں ہے۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ آپ اپنا ظاہر و باطن یکسو کرلیں۔ نماز پڑھ کر، روزہ رکھ کر پھر آپ کسی کا حق مار رہے ہیں،کسی کو گالی دے رہے ہیں، کسی کی غیبت کر رہے ہیں ، کسی کو دھوکا دے رہے ہیں اور کسی سے جھوٹ بول رہے ہیں تو اس نماز روزے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ الله اپنے حقوق کی معافی تو دے دیتا ہے مگر حقوق العباد کی معافی ممکن نہیں۔حضور اکرمؐ کا ارشاد ہے ” کتنے روزے دار ہیں جنہیں اپنے روزوں سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ نہیں ملتا اور کتنے راتوں کو نماز پڑھنے والے ہیں جنہیں اپنی نمازوں سے رات جگائی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا “ہمارے یہاں رمضان میں اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ ٹی وی پر جو پروگرام تیار کیے جاتے ہیں وہ بظاہر تو یوں معلوم ہوتاہے جیسے ہمیں اچھائی کا درس دے رہے ہیں مگر درحقیقت میں ہم عبادت سے غافل ہو کر یہاں سے درس حاصل کر رہے ہوتے ہیں جب کہ ان پروگراموں کو چلانے والے پیسے کمانے میں مصروف ہوتے ہیں ۔ رمضان جسے پہلے رحمت و برکت والا مہینہ کہا جاتا تھا اب یہ کمائی کاذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
رمضان میں ہر نیکی کا ثواب سات گناہ بڑھ جاتا ہے۔ اس ماہ میں آپ اپنے گناہ بخشوا سکتے ہیں . اور اپنے رب کو منا سکتے ہیں اللّه تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : آپ اس کی طرف بالشت چلیں گے تو وہ آپ کی طرف دو بالشت بڑھے گا۔ آپ اس کی طرف چلنا شروع کریں گے تو وہ آپ کی طرف دوڑتا ہوا آئے گا
بلاشبہ توفیق الہیٰ کے بغیر کچھ نہیں ملتا لیکن یہ توفیق بھی اسی کو ملتی ہے جو کوشش اور محنت کرتا ہے۔ اللّه کی ذات ایسی بابرکت ہے کہ ہر پیاسے کو سیراب کرتی ہے۔ اس کی مہربانی کسی کو پیاسا نہیں رہنے دیتی۔ اس کی بارگاہ میں امیر و غریب کا کوئی تخصیص نہیں۔ جس نے اسکا دامن پکڑنا چاہا ، اس سے لو لگانی چاہی ، وہ اسکی رحمت کے سائے میں آسکتا ہے۔ لیکن اگر آپ کھڑے رہیں، پیٹھ پھیر کر ، غافل اور لاپرواہ ، تو بتایے کہ توفیقِ الہیٰ آپ کے پاس کہاں سے آئے گی؟؟؟؟
تحریر کے اختتام پر یہ کہنا چاہوں گی کہ یہ مہینہ دوسرے مہینوں سے جدا و ممتاز ہے۔ اس ماہ میں رحمتوں کی موسلادھار بارش ہوتی ہےلہذا اس ماہ میں اپنے ظاہر و باطن کو پاک کر لیں ، اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کر لیں، اس کی بارگاہ میں رو کر اپنی التجائیں منوا لیں۔ کیونکہ یہ وقت گناہوں کی معافی اور دعاؤں کی قبولیت کا ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ :اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ رمضان کیا ہے ، تو میری امت تمنا کرتی کہ کاش پورا سال رمضان ہی ہو ۔
اپنے اردگرد موجود ضرورت مندوں کا خیال رکھیں۔ اپنے پیارے وطن پاکستان اور اسکے محافظوں کے تحفظ کے لیے ، فٹ پاتھ پہ پڑے ایسے لوگ جنہیں زندگی کی بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں ، ہسپتالوں میں پڑے ایسے لوگ جو کروٹ بدلنے کے لیے بھی دوسروں کے محتاج ہیں، خدارا ان سب کو خصوصی طور پر اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ دعا کا مطلب صرف یہ نہیں کہ اپنے لیے ہی کی جاۓ بلکہ دوسروں کے لیے دل سے دعا کریں تو آپ کو اپنے لیے دعا کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
رمضان کے بعد عید ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ زندگی رمضان کی طرح گزارو گے تو موت عید جیسی ہوگی۔

تحریر: حفصہ ریاض

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*