تازہ ترین

ہنزہ عطا آباد جھیل کنارے شریف فیملی کی ہوٹل کا تعمیر ، سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ گئی۔

ہنزہ(ٹی این این)گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ میں موجود عطا آباد جھیل کنارے مسلم لیگ ن کے اہم سپورٹر لاہور کے مشہور کاروباری شخصیت سابق چیرمین سی ڈے کامران لاشاری کے چھوٹے بھائی نے ہوٹل تعمیر کرنا شروع کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ہوٹل کی تعمیر کے پیچھے شریف فیملی کا ہاتھ ہے اور اُنہوں نے اپنے دور میں اس حوالے کئی مسلم لیگ کے اہم رہنماصدیق الفاروق،کامران لاشاری کئی بار گلگت کا نجی دورہ بھی کرچُکے ہیں اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے 60 کنال پر مشتمل اس زمین کی حوالگی کے حوالے سے خصوصی کردار ادا کرکیا ہے۔ بتایا یہ جارہا ہے کہ اس ہوٹل کی تکمیل کے بعد 60 کے قریب مقامی نوکریاں دی جائے گی۔
اس زیر تعمیر ہوٹل کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائر ہوتے ہی نئی بحث چھیڑ گئی ہے ،گلگت بلتستان کے سوشل میڈیا فیس بُک، ٹیوٹر اور واٹس ایپ کے صارفین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں گلگت بلتستان مسلہ کشمیر کا حصہ ہے اور یہ خطہ متنازعہ ہے اگر متنازعہ ہے تو پھر اسٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزی اس خطے میں کیوں کی جارہی ہے جبکہ گزشتہ ہفتے دفتر خارجہ نے بھی گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ کی موجودگی کا اعلان کیا ہے۔ سروے کے مطابق کل سے لیکر آج تک کئی ہزار سوشل میڈیا صارفین نے اس حوالے سے گلگت بلتستان میں مسلم لیگ کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور مختلف واٹس ایپ گروپ میں بھی مخالف پارٹیوں کی جانب سے اس قدام کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے سوال اُٹھایا جارہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت جب سے آئی ہے گلگت بلتستان کی زمینیں متنازعہ حیثیت کے باوجود غیروں میں بندربانٹ ہوریا ہے جبکہ مقامی عوام کو اپنے ہی علاقے میں زمین تنگ کیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلہ کشمیر کے تناظر میں گلگت بلتستان متنازعہ اور دفتر خارجہ کے مطابق گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کا قانونی حصہ ہے تو گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزی کیوں ہورہا ہے اسے رک جانا چاہئے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*