تازہ ترین

خالصہ کی غلط تشریح کا معاملہ، اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی ضلع کھرمنگ انتظامیہ پر برس پڑے۔

گلگت(ٹی این این) گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کپٹن ریٹائرڈ محمد شفیع خان نے ضلع کھرمنگ انتظامیہ کی جانب سے خالصہ کے نام پر پشتینی عوام سے زمینوں کی ملکیت کا ثبوت فراہم کرنے کے سمن پر شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ سرکاری افسران چاہئے کسی بھی ضلع کا ہو وہ حکومت کی جانب سے عوام کے خدمتگار ہو تے ہیں اُنہیں یہ حق بلکل نہیں کہ وہ اپنی الگ حاکمیت قائم کریں۔ اُنکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے زمین کا ایک ایک ٹکرا یہاں کے عوام کی ملکیت ہے اور اگر کوئی خالصہ کی اصطلاح حکومتی زمین سے کرتے ہیں تو وہ گلگت بلتستان میں سکھوں کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کے مترداف ہوگا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دو سالوں سے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں لینڈ ریفارمز کمیشن زیر التوا ہے لیکن بدقسمتی سے وزیر اعلیٰ کی گلگت بلتستان مخالف سوچ کی وجہ سے اس بل کو کئی بار کی کوششوں کے باوجود بحث کیلئے پیش ہونے نہیں دیا جارہا ۔لیکن جب تک لینڈ ریفارمز کمیشن کا مسلہ حل نہیں ہوتے کسی کو یہ حق نہیں کہ عوامی املاک بغیر کسی معاوضے کے سرکاری تصرف میں لائیں۔ اُنکا کہنا تھا کہ ضلع کھرمنگ جیسے لائن آف کنٹرول کے قریب حساس ترین علاقے میں ضلعی انتظامیہ کا عوام کو ورغلانے کی کوشش انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے جو کسی بھی حوالے سے ریاست کے مفاد میں نہیں۔ اُنکا مزید کہنا تھا کہ میں ضلع کھرمنگ کے عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہوں اور اُنکے مسائل کا ادراک ہے اور جب بھی عوامی حقوق کی بات ہوگی میں عوام کے ساتھ ماضی میں بھی کھڑا رہا ہوں اور مستقبل میں بھی عوام کیلئے ہی ہماری خدمات رہے گا۔ اُنہوں نے ڈپٹی کمشنر کھرمنگ اور اسسٹنٹ کمشنر کھرمنگ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام مخالف فیصلوں سے باز رہیں اور گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت اور اس خطے کے زمینوں کی قانونی حیثیت کو سامنے رکھ کر خالصہ کے نام پر عوام املاک سرکاری تصرف میں لانے کی روش کو تر ک کریں اور علاقے کی فلاح بہبود کیلئے اپنی توانایاں صرف کریں کیونکہ سرکار آپ کو اس بات کی نتخواہ دیتی ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*