چائینہ باڑدر خنجراب ٹاپ پر تاریخ میں پہلی بار عالمی یوم سیاحت کے موقع پر معروف مصنفین عبیداللہ کبیر اور عبد المنان ملک کی تصانیف قراقرم کے پار او ر لاہور لاہور اے کی تقریب رونمائی ہوئی۔

نگر( اقبال راجوا) عالمی یوم سیاحت کے موقع پر خنجراب ٹاپ پر معروف مصنفین عبیداللہ کیہر اور عبد لمنان ملک کی تصانیف قراقرم کے پار او ر لاہور لاہور اے کی تقریب رونمائی ہوئی۔ اگرچہ یہ تقریب بہت ہی عام اور سادہ سی تھی لیکن پاکستان چائینہ باڑدر پر ہونے والی تاریخ کی پہلی قریب تھی۔ اس لئے یہ تقریب بہت خاص تقریب میں شمار ہوگئی۔ اس تقریب میں دونوں کتابوں کے مصنفین کے ساتھ کٹوال ایڈ ونچر کلب حراموش کے ممبران کے ساتھ کراس روٹ کلب کے موٹر بائیک سواروں کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔ موٹربایئکس پر کچھ ایسے بھی افراد سوار تھے جو پاکستان کے ساحلی شہر کراچی سے اپنے بچوں اور بیگمات کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔ بعد میں مقامی ہوٹل میں دونوں مصنفین نے اپنی کتابوں اور خنجراب ٹاپ پرتقریب رونمائی کے حوالے سے سرحدی اضلاع نگر اور ہنزہ کے پریس کلب کے عہدیداران اور صحافیوں سے خصوصی گفتگو کی۔ اپنی بات چیت میں قراقرم کے اس پار کے مصنف عبیداللہ کیہر نے کہا کہ مجھے سیر و سیاحت سے متعلق جیسی بھی معلومات ہوتی ہیں میں ان کو کتابی شکل دیتا ہوں۔ انہوں نے مذید کہا کہ میں نے اب تک سیاحت پر سات کتابیں تصنیف کی ہیں۔ قراقرم کے پار میری آٹھویں کتاب ہے ۔اس کتاب میں میں نے اپنی سفر کے دوران جو بھی مشاہدات کئے انہیں ضبط تحریر میں لایا ہوں۔عبیداللہ کیہر نے مذید بتایا کہ انہوں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ اکدمی ادبیات اور معروف شاعر افتخار عارف کی بہت زیادہ پسندیدگی کا اظہار کرنے پر 2000ء میں ڈیجیٹل کتاب بنایا۔ انہوں نے کہا کہ دوست ملک چین کا اپنا پہلا سفر 1987 میں کیا جبکہ وہ اس کے بعد متعدد بار درہء خنجراب آچکے ہیں۔ ان کی نویں کتاب یار من ترکی کی تقریب رونمائی ترکی میں اردو یونیورسٹی میں ہو رہی ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ پیشے کے اعتبار سے وہ انجینئیر ہیں او ر تحریر و تصنیف اپنے ذوق کی تسکین کے لئے کرتے ہیں۔ عبیداللہ کیہر نے بتایا کہ وہ روزنامہ جنگ سمیت اقوام متحدہ کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کو شاعری سے لگاؤ تو نہیں لیکن وہ علامہ اقبال ،فیض احمد فیض اور احمد فراض کو پسند کرتے ہیں۔ دوسری کتاب لہور لہور اے کے مصنف عبدل منان ملک نے بتایا کہ میں سیر و سیاحت کا بہت ہی شوقین ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بہت خوبصورت بنایا ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ مجھے سیاحت کا شوق میرے باپ سے ورثے میں ملا ہے۔عبدالمنان ملک نے بتایا کہ انہوں نے سیاحت پر ابھی تک آٹھ کتابیں ل ڈالی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد ملک عبدالر حمان کوکب نے دنیا بھر میں بائی روڑ سفر کیا ہے۔مجھے جب بھی دفتری اوقات سے رخصتی ملتی ہے تو میں فوراً سیر سیاحت پہ نکل جاتا ہوں۔ اس بار ان کے ساتھ موٹر بائیکنگ کلب کراس روٹ کلب کے سینکڑوں افراد شامل ہیں بھی اس مہم میں شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مہم میں کراچی، لاہور اورملتان سمیت پاکستان کے تمام بڑے شہروں سے شای شدہ جوڑوں سمیت کئی فیملیز بھی موٹر بائیکس کاروان میں شامل ہیں اور ہزاروں میل دور سفر کر کے یہاں آئے ہیں۔ انہوں نے حکومت پاکستان اور گلگت بلتستان کی عوام سے اپیل کی کہ سیاحوں کو ان علاقوں میں مذید آنے کی ترغیب دینے کے لئے انفراسٹرکچر کو ٹھیک کرنا ہوگا اور سیاحوں کے ساتھ حسن سلوک کا رویہ برقرار رکھنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ مکران اور ہنزہ نگر میں سیاحوں کو بہت عزت و احترام سے دیکھا جاتا ہے جس باعث سیاح کا دل بار بار یہاں آنے پر مجبور کرتا ہے۔ عبدل منان ملک اور عبیداللہ کیہر نے اپنی نو تصانیف کے ایک ایک جلدیں صحافیوں کو تحفے کے طور پر پیش کئے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc