تازہ ترین

ضلع کھرمنگ اور در پیش مسائل۔۔

گلگت بلتستان کا پانچواں خوبصورت وادی کھرمنگ بلتستان کی صدرمقام سکردو سے سو کلو میٹر ہندوستان کی زیر انتظام جموں کشمیر کی ضلع کارگل کی جانب واقع ہے.7909 کلو میٹر پر پھیلا ہوا وسیع حطے کا کل ابادی پچھلے سال کی مردم شماری کی مطابق 55000 ہزار پر مشتمل ہے.یہاں کے لوگوں کا رہن سہن سادہ زندگی بسر کرتے ہیں زرایع آمدنی کھتی باڑی کسان مویشیاں اور اسی طرح دوسرے شعبوں سے منسلک ہیں. یہاں سیر تفریح کیلے منٹھوکھا ابشار، خموش ابشار، غوریشے جھیل ، بلتی کھر،طولتی بروق ،اپر کتیشو ،ہلال اباد ملبروق، سمیت دیگر اہم مقامات موجود ہیں.علاقے سے سید اسد زیدی 1987 میں پہلی دفعہ رکن کونسل ممبر منتخب ہو کر عوامی خدمت کی عظم باندھ کر میدان میں اترے. یوں کھرمنگ میں سیاسی شعور کا اغاز شروع ہوا. اور وقت کی ساتھ ساتھ مختلف افراد کھرمنگ کی نمایمدگی کرتے رہیں.اور کرتے آ رہے ہیں.ستر سالوں سے یہ علاقہ سکردو میں ظم رہا 2013 میں پی پی پی دور حکومت میں سکردو کی بھڑتی ہوی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوے اس وقت کے وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ نے اپنے اعظیم رہنما و قائد زلفقار علی بھٹو کی پسماندہ علاقے سے ولہانہ محبت کی وجہ سے نوازا گیا اس یاد کو دوبارہ تازہ کرتے ہوے کھرمنگ اور شگر کو دو الگ اضلاع بنانے کا اعلان کیا جس پر عوامی حلقوں میں خوشی کی نی لہرے ڈورنے لگے جو بدقسمتی سے جاری نہ رکھ سکا یوں گلگت بلتستان سے نہ صرف نی اضلاع کے فائل گم ہوی بلکہ پی پی پی حکومت بھی کمزور ہوتی گی جس کی بعد عوام مایوسی کا شکار ہوے اور قوم پرست رہنماوں نے ضلع بناو تحریک بھی چلای تاہم ناکام ہوے. وفاق میں نگران حکومت قایم کی گی اور یوں پورے پاکستان سمیت گلگت بلتستان میں اگلے الیکشن میں کامیابی کیلے مختلف سیاسی جماعتوں نے جلسے جلوسوں کا اغاز کیے .بل اخر وفاق میں 2013 میں مسلم لیگ ن حکومت جمانے میں کامیاب ہوے جس سے گلگت بلتستان میں پی پی حکومت مزید کمزور ہوی. 2015 میں یہاں بھی الکشن کا باقاعدہ اغاز شروع ہوا مختلف جماعتون کی جانب سے مسلسل تکدو کی بعد بل اخر مسلم لیگ ن نے بھاری اکثریت سے حکومت بنای. مختصر پی پی پی کا اعلان کردہ ادھورا اضلاع دوبارہ زندہ ہوا اور ان کی جماعت نے نہ صرف کھرمنگ شگر بلکہ ہنزہ نگر کو بھی ضلع کا درجہ دیا گیا جس پر عوامی حلقے ایک دفعہ پھر خوشی کا اظہار مختلف انداز میں کی.یوں صوبای حکومت نے نومولود اضلاع میں انتظامی عمور کی انجام دہی کیلے ڈپٹی کمشنر اور دیگر افسران تعینات کیے اور باقاعدہ عوامی خدمت گھر کی دہلیز پر شروع ہوے.دوسرے اضلاع کی طرح ضلع کھرمنگ میں بھی تیزی سے مختلف دفاتر بنانے کیلے غور و خوص ہوے لیکن بدقسمتی سے ابھی تک کھرمنگ میں ضلعی صد مقام پر تعمیرات نہ ہونے کی برابر ہے. حکومتی فیصلے کی مطابق گوہری تھنگ جس پر سادات گوہری کا قبضہ ہے کو صدر مقام کیلے منتخب کیے گیے جس پر گوہری عمایدین نے تحفظات کا اظہار کیے.اور اپنے جایز مطالبعات پیش کیے جس کی وجہ سے ضلعی صدر مقام کا تعین میں دشواری بڑ کیے.اس اہم ایشو کو خوش اصلوبی کے ساتھ حل کرنے کیلے جون 2017میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے نامزد امیدوار اقبال حسن کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی بنای گی جس میں( رکن کونسل وزیر اخلاق حسین ،صدر مسلم لیگ ن ضلع کھرمنگ محسن رضوی، اس وقت کی ڈپٹی کمشنر ضلع کھرمنگ بشارت حسین شامل تھے ) کمیٹی علاقہ عوام سے مل کر باہمی مشاورت سے اخری فیصلہ ایک ماہ میں وزیر اعلیٰ کو ارسال کرنا تھا جس پر کیمٹی کے وفد گوہری عمایدین سے کئ بار ملاقات کیے اور گوہری تھنگ کا دورہ بھی کیے.بل اخر گوہری عمایدین نے کمیٹی کو یہ فیصلہ سنای کہ جب تک ہمیں معاوضہ ادا نہ کرے ایک انچ دینے کو تیار نہیں جس پر کمیٹی نے ان کا موقف وزیر اعلیٰ کو ارسال کیا .وقت گزرتے گیے نومبر 2017 کو اس ایشو سے نمٹنے کیلے صوبای حکومت نے دوبارہ کمیٹی سینر وزیر اکبر تابان کی سربراہی میں تشکیل دی جو ایک ماہ میں فیصلہ سنانے پر متفق تھے.جس پر دونوں فریقین میں صلح تو ہوی لیکن اج تک مختلف دفاتر کی تعمیرات شروع نہ کر سکی. ادھر ایک جگہ پر تمام دفاتر موجود نہ ہونے پرضلع بھر سے عوام دفتری کام کیلے کبھی مہدی اباد تو کبھی طولتی کبھی مادھوپور کا چکر کاٹنے پر مجور ہورہیں۔اس اثنا میں نامزد امید وار و صوبائی وزیر اقبال حسن کا اس اہم ایشو پر خاموشی عوام میں مزید مایوسی پھیلانے کا موجب بنتا جا رہے ہیں.کئ سال گزرنے کی باوجود اب تک ضلع کا صدر مقام پر تعمیرات نہ ہونے پر عوام سخت نالاں ہیں.صدر مقام پر مکمل طور پر تعمیرات نہ ہونے سے نہ صرف فنڈز واپس ہونے کا خدشہ ہے بلکہ ضلعی انتظامہ کا دفتر اب تک نہ بنے سے بھی عوام کو شدید مشکلات کا سامنہ کرنا پڑ رہیں ہیں. اب ضرورت اس امر کی ہے کہ کھرمنگ عوام اور نمایندے سمیت دوسرے سیاسی مزہبی جماعتیں یکجاں اور یک زباں ہو کر اس اہم ایشو کو حل کرنے کیلے اقدامات اٹھاے.تاکہ بروقت دوسرے اضلاع کی طرح یہاں بھی تمام سہولایات عوام کو میسر ہو سکے.واضح رہے مسلم لیگ ن کی جماعت کو کھرمنگ عوام نے بھاری مینڈیٹ سے کامیاب کرانے پر صوبای حکومت نے ضلع میں بے پناہ منصوبوں پر کام شروع کر کے عوامی حکومت ہونے کا ثبوت بھی دیا اس سال زیادہ برف باری ہونے کی وجہ سے ضلع میں شدید مشکلات سے نمٹنے کیلے اب تک حکومت کی جانب سے کوی اقدامات نہ کی ہے. برفانی سیلاب آنے کی صورت میں واٹر چینلز،عوامی املاک کوحفاظتی بند باندھنے سمیت ندیوں کے کنارے آباد زمینوں کو سیلابی ریلے سے محفوظ کرنے کیلئے کوئی حکمت عملی نظر نہیں آرہا۔عوامی حلقوں نے چیف سیکرٹیری گلگت بلتستان ،گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منجمنٹ اور وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ کسی بھی ہنگامی صورت میں عوام کی بھر پور مدد کیے ضلع کھرمنگ انتظامیہ کو فنڈ ز مہیا کریں کیونکہ اس سال شدید برف باری کی سبب جون جولائی میں ندی نالوں میں طغیانی کے سبب سیلابی ریلے خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے۔امید ہےحکومت علاقے سے بے روزگاری سمیت دیگر ایشوز کے حل کیلے بھی اقدامات کرینگے.

تحریر: مظاہر ہلال آبادی

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*