تازہ ترین

چوغوری تھم اوردورحاضرکے حکمران۔

چوغوری تھم یانگنہ البلدے یا تس لا تس بزانگمووینگ چولی ماری یاپھوچھپ گویدچوغوری تھم یانگنہ البلدے یا تس لا تس بزانگمووینگ کرفوماری یا ردوق چھوم گویدچوغوری تھم یانگنہ البلدے یا تس لا تس بزانگمووینگ منتخ را لایاراژھانگ سکیدچوغوری تھم یانگنہ البلدے یا تس لا تس بزانگمووینگ تس بزنگمووینگ منتخ بالا باژھانگ سکید۔
ترجمہ :اے راجہ غوری تھم!آپ کے اورالبلدے کے دورمیں،اس مبارک دورمیں خوبانی کے تیل کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔اے راجہ غوری تھم آپ اورالبلدے کے دورمیں،اس مبارک دورمیں پتھروں کی جگہ پرمکھن کی سلیں استعمال ہورہی ہیں۔اے راجہ غوری تھم آپ اورالبلدے کے دورمیں،اس مبارک دورمیںہربکری جڑواں بچے دے رہی ہے۔اے راجہ غوری تھم آپ اورالبلدے کے دورمیں،اس مبارک دورمیںہرگائے جڑواں بچے دے رہی ہے۔یہ گیت چوغوری تھم اوران کے وزیرالبلدے کے بارے میں ہے۔تیرہویں صدی میں بلتستان میں چوغوری تھم کی حکومت تھی ان کے وزیرکا نام البلدے تھا چوغوری تھم ابراہیم شاہ مقپون کا پڑپوتااوررگیالفوبوخامقپون کا داداتھااس راجہ کے دورمیں اس کے حسن انتظام اورقدرتی وجوہات کی بناپرملک میں دولت کی ریل پیل ہوئی پھلداردرختوں پربے تحاشا پھل لگے گائے اوربکریوں کی نسل بہت پھیل گئی الغرض عوام کو بہت آرام اورآسائشیں نصیب ہوئی۔کہتے ہیں کہ حکمران اچھے ہوں اورملک میں عدل وانصاف کا بول بالا ہوتو زمین اپنے اندرچھپے ہوئے خزانوں کو اگل دیتی ہے وقت پربارش ہونے لگتی ہے اس طرح پھلداردرختوں پرپھل بھی زیادہ لگنے لگتے ہیں، بکریاںاورگائے جڑواں بچے دینے لگتی ہیںالغرض خوشحالی ہرطرف سے ملک اورقوم کارخ کرنے لگتی ہے۔مولاعلی کرم اللہ وجہہ کے فرمان کے مطابق” کفرکی حکومت قائم رہ سکتی ہے مگرظلم اورجبرکی نہیں ”اس کامطلب یہ ہے کہ جس ملک میں انصاف نہ ہوتاہورعایاپرظلم ہوتاہواورحکومت کچھ نہیں کررہی تو سمجھ لینا کہ وہ حکومت تادیرنہیںچلتی ۔ظلم عدل کا متضاد ہے حضرت علی علیہ السلام جب خلیفہ وقت تھے۔ ذرہ کے تنازعہ پر قاضی کی عدالت میں پیش ہوئے۔ فریق ثانی یہودی تھاقاضی نے حضرت علی کے بیٹوں کی گواہی قبول نہ کی آپ مقدمہ ہار گئے یہودی اسلام کا نظام عدل دیکھ کر متاثراوراپنی غلطی پرشرمندہ ہوا معافی مانگی اور ذرہ واپس کی۔ آج پاکستان میں عدالتوں کا یہ حال ہے کہ ہر شخص تھانہ کچہری سے دوربھاگتانظرآتاہے جن اداروں پر عوام کے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری ہے وہی عوام کے لئے مسائل بڑھاتے نظرآتے ہیں دوسری جنگ کے دوران جرمنی کے ہاتھوں انگلستان اپنی شکست کے اثرات واضح نظرآنے لگے چرچل سے برطانیہ کی شکست کے بارے میں سوال کیا گیا تو چرچل نے کہا کیا برطانیہ کی عدالتوں میں عوام کو انصاف مل رہا ہے؟۔کہا گیا کہ برطانیہ کی عدالتیں انصاف فراہم کررہی ہیںتوچرچل نے بڑے اطمینان سے کہا جو قوم انصاف فراہم کرے وہ شکست نہیں کھا سکتی تاریخ نے چرچل کی بات کو سچ کردیکھایایعنی جرمنی کو شکست ہوئی۔ حکومت وقت عوام کے مسائل حل کرنے سے قاصر ہے عوام کے مسائل کے حل کے لئے ان کے پاس کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ فیصلہ کرنے کے بعد یوٹرن پہ یوٹرن لیا جارہاہے ریاست مدینہ کی بات تو تواترسے کی جاتی ہے لیکن کہیں بھی عملی طورپرمدینہ کی اسلامی ریاست نظرنہیں آرہی یہاںآج بھی اہل ثروت اور اہل زور و زر دھونس، دھاندلی اور اثرروسوخ کی وجہ سے سرعام جرم کرکے بچ جانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں قبیلہ مخزومیہ کی ایک خاتون نے چوری کی مقدمہ حضوراکرمۖ کے سامنے پیش کیا توحضرت اسامہ کے ذریعے اس خاتون کی معافی کی سفارش کی گئی آپ شدید ناراض ہوگئے اورفرمایا پہلی قومیں اسی لئے نیست و نابود ہوگئیں کہ ان کے امیروں کے لئے ایک قانون اور غریبوں کے لئے دوسرا قانون تھا ملک میں امن قائم کرنا اورلوگوں کی جان ومال کی حفاظت کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے حکومت اگریہ ذمہ داری بخیرخوبی یہ ذمہ داری اداکرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو سمجھ لینا کہ ملک میں خوشحالی آنے سے کوئی نہیں روک سکتا اگرسترسال سے جاری غیرعادلانہ نظم میں کوئی تبدیلی نہ لاسکی تو بھی سمجھ لینا چاہئے کہ ملک میں خوشحالی دعوئوں سے آگے نہیں جاسکے گی میرامطلب یہ ہے کہ ہمارے نظام عدل میںکوتاہیاں ہیں جن کو دورکرنے کے لئے حکومت کو کام کرنے کی ضرورت ہے عدلیہ کا کام قانون سازی نہیں ہے یہ ذمہ داری پارلیمنٹ کی ہے ابھی تک تمام سیاسی پارٹیاں اپنے مفاد چھوٹ جانے کے صدمے میں حصول کے دوڑ میں مصروف ہیں غریب عوام اسی ڈگرپرکھڑے ہیں جہاں پچھلی حکومتوں نے کھڑا کیا تھارواں سال معمول سے ہٹ کربرف باری اوربارش ہوئی توسوشل میڈیا کے مجاہد اس کا سہرا عمران خان کے سرسجانے کی کوشش کرتے نظرآئے ان سے گزارش ہے کہ گرمیوں کی آمد کا بھی انتظارکرلیںسیلاب اورلینڈسلائیدنگ کی بھی نوید سنائی جاری ہے اس کاکریڈٹ بھی سینے پرسجانے کی تیاری وقت پرکرلیں۔بات ہورہی تھی اچھی حکمرانی اوراس کے اچھے اثرات کی تو بلتستان میں جب چوغوری تھم نے عوام کے مسائل حل کرنے اورانہیں آسائشیں دینے، حکمران نہیں خادم بن کرعوام کے مسائل حل کئے تو علاقے میں خوشحالی ہی خوشحالی نظرآنے لگی اسی طرح وقت کے حکمران بھی عوام کو مسائل میں ڈالنے کے بجائے ان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے مخلص ہوکرکام کریں گے فیصلے میرٹ پرہوں اورحقدارکبھی حق سے محروم نہ رہے تو ملک میں خود بخودخوشحالی آناشروع ہوگی لیکن گفتارکے غازی اخباراورسوشل میڈیا پرتو عوام کے حق میں بڑے بڑے اقدامات کرتے نظرآتے ہیں مگرعملی میدان میں میرٹ کی دھجیاں اڑاتے اوران کا خون کرتے نظرآتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ جب تک حکمران خلق خدا کے ساتھ مہربان نہیں ہوں گے وہ عوام کے مسائل حل نہیں کرسکیںگے اللہ کی مخلوق سے ٹوٹ کرمحبت کرنے کی وجہ سے ابوبن ادھم کا نام اللہ کے مقربین اورمحبوبین میں سرفہرست لکھا گیا اسی طرح جن جن لوگوں نے بھی مخلوق خدا کودرپیش مسائل حل کرنے یا مخلوق خدا کے لئے آسانیاں پیداکرنے کی کوشش کی مسائل خود بخود حل ہوئے ۔چوغوری تھم اوروزیرالبلدے کی
مثال وقت کے حکمرانوں کے لئے مثال ہے انہوں نے عوام کیلئے آسانیاں پیداکیں تاریخ انہیں اچھے الفاظ میں یاد کرتی ہے بہت سارے ظالم حکمران بھی گزرے ہیں جو عبرت کا نشان بنے ہوئے ہیں ۔

تحریر:حبیب اللہ آل ابراہیم

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*