تازہ ترین

ہم سوشل کام کیوں کریں۔۔؟

یہی ہے عبادت یہی دین و ایمان
کہ کام آئے دنیا میں انسان کے انسان
آج کل کے نفسا نفسی کے دور میں سوشل کام مطلب “خدمت خلق” کرنا ایک عظیم کام ہے لیکن ہم اس کی افادیت سے بلکل ناآشنا ہے. اس تحریر میں ہم بتائیں گے کہ سوشل کام کرنے سے آپ کو اجر و ثواب کے علاوہ آپکی صحت پہ بہت بڑا اثر پڑتا ہے وہ کیسے سائنسی تحقیق سے بتائیں گے.
سوشل ورکر بننے کیلئے کسی کا امیر ہونا, مال و دولت ہونا یا فرصت ہونا لازمی ہے؟ بلکل بھی نہیں خدمت خلق کیلئے آپ کے پاس “احساس” ہونا چائیے وہ احساس جس سے آپ غریب کی غربت, ّمظلوم کی مظلومیت, بیماری کی بیماری , بے آسراؤں کی تکلیف, بے آوازوں کی آواز, یتیموں کا دکھ درد مطلب کہ احساس کی بیماری ہو. یہ سب آپ سوچے کہ آپ کے ساتھ ہوتے تو آپ کیا کرتے؟ اس لئے شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
آگہی عذاب ہے یا رب
بے خبر مطمئن سا تھا میں.
مطلب جب آپ کسی کی تکلیف کو محسوس کریں گے تو آپ سے رہا نہیں جائے گا آپ اس کی تکلیف کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اور ایسا وقت آئے گا کہ آپ اسے تکلیف سے نجات دلائیں گے, تکلیف یعنی “بیماری کی تکلیف, غربت کی تکلیف, لاچاری کی تکلیف ان سے جب آپ کسی کو نکالیں گے اور راحت آپ محسوس کریں گے وہ آپ ہی بہتر بتا سکیں گے.
سوشل ورکر بننے کیلئے ضروری نہیں کہ آپ ایک بڑا ادارہ بنائیں یا لاکھوں روپیہ خرچ کریں بلکہ کسی کو راستہ دیکھانا, راستہ سے رکاوٹ ہٹانا, پیاسے کو پانی پلانا, کسی کو اس منزل مقصود تک پہنچانا, کسی کی داد رسی کرنا, بیمار کی عیادت کرنا, کسی کو حوصلہ دینا, کسی کو تعلیم دینا, چھوٹوں پہ شفقت, بڑوں کا احترام یہ ساری چیزیں جن کی کوئی قیمت نہیں لیکن بہت قیمتی چیزیں ہیں.
آپ کسی دوست, ہمسایہ , یا کسی کی بھی مدد کرکے آپ کو راحت محسوس ہوتا ہے یہ سائنسی اعتبار سے Harvard یونیورسٹی کے ایک Study کے مطابق جب ہم کوئی اچھا کام کرتے ہیں, مطلب کسی کی مدد کرنا, کسی کا کام آنے سے ہمیں خوشی و مسرت ملتی ہیں اس کی کیا وجہ ہے آئیے ہم جانتے ہیں.
دنیا کی بہترین یونیورسٹی Harvard کی Study کے مطابق جب ہم کسی کی مدد کرتے ہیں تو ہمارا دماغ Oxytocin نامی ایک harmone release کرتا ہے جسکو Love hormone, Stress hormone کہلاتا ہے. اس ہارمون کی وجہ سے ہمارے شریانوں کو آرام ملتی ہے اور ہمیں امراض قلب سے بچاتی ہے اور اس ہارمونز کی وجہ سے شریانیں شدید کوفت و تناؤ کے حالت میں بھی تنگ نہیں پڑتے جس کی وجہ سے ہم صحت مند رہتے ہیں.
یہ بات TedTalk میں Health Psychologist and Stanford یونیورسٹی کی لیکچرار Kelly MacGonigal نے کی جو کہ How to make stress your Friend کے دوران بتائی.
اس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم سوشل کام کرکے صحت مند رہ سکتے ہیں دنیا میں کتنے امیر لوگ ہیں کہ وہ دنیا کی ساری دولر حاصل کرلیتا ہے لیکن وہی دولت وہ ویلفئیر میں خرچ کردیتے ہیں کیونکہ ان کو اسی سے ہی راحت ملتی ہیں. ہمیں بھی چائیے کہ ہم اپنی بساط کے مطابق اپنے اردگرد اور معاشرے میں ایک ذمہ دار شہری بنیں اور آپ کی وجہ سے لوگوں کو فائدہ پہنچے, ہمارے آخر پیغمبر رسول اکرم کو اللّہ تعالی نے رحمت العالمین بنا کر دنیا میں بھیجا مطلب عالم کیلئے رحمت ہم بھی اسوہ رسول پہ اپنی زندگی گزارتے ہوئے ہر کسی کا کام آئے نہ کہ ہر کسی کیلئے زحمت بنے.
انسان اور جانور میں ایک فرق ہے وہ یہی ہے کہ انسان دوسروں کے کام آتے ہیں اور جانور صرف اپنے لئے سوچتا ہے آپ بھی سوچے کہ آپ نے انسان بننا ہے یا جانور؟ سوشل کام کرنے اور خدمت خلق کرنے کے حوالے سے علامہ محمد اقبال نے کیا خوب کہا ہے کہ:
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھا
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
سوشل ورکر کو دنیا میں ایک زبردست مقام ہے اور سوپر ہیرؤ کے نام سے مانا اور جانا جاتا ہے.
لوگ اپنے آپ کو سوشل ورکر کہہ کر فخر محسوس کرتے ہیں.
اسلام میں دوسروں کی مدد کرنا اور خدمت کرنے کی تاکید کی گئی ہے.
یہی ہے عبادت یہی دین و ایمان
کہ کام آئے دنیا میں انسان کے انسان

تحریر: علی آصف بلتی

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*